آرمی چیف نے واضح کیا کہ فوج کوسیاست میں نہ گھسیٹا جائے،شیخ رشید احمد

آرمی چیف نے پارلیمانی رہنمائوں سے ملاقات میں  واضح کیا کہ فوج کوسیاست میں نہ گھسیٹا جائے،شیخ رشید احمد

گلگت بلتستان صوبہ الیکشن سے پہلے بنائیں یا بعد میں بنائیں سیاسی جماعتوں کی جو مرضی ہے وہ کریں فوج کو اس میں شامل نہ کریں

نواز شریف  نے اپنی سیاست کو خود دفن کیا ، اب شہباز شریف کیا کرتے ہیں یہ فیصلہ  30دسمبر تک ہو جائے گا

گلگت  بلتستان کو آئین کے تحت مکمل  صوبہ بنادیا جائے گا،قومی اسمبلی ، سینیٹ اور صوبے میں نمائندگی ہوگی۔،وفاقی وزیر ریلوے کی گفتگو

اسلام آباد(صباح نیوز) وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے آرمی چیف  جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی  آئی ایس آئی  کی پارلیمانی رہنمائوں سے ہونے والی ملاقات میں آرمی چیف نے  واضح کیا کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ، گلگت بلتستان صوبہ الیکشن سے پہلے بنائیں یا بعد میں بنائیں سیاسی جماعتوں کی جو مرضی ہے وہ کریں فوج کو اس میں شامل نہ کریں۔ ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے  شیخ رشید نے کہاکہ ملاقات میں پندرہ پارلیمانی رہنما موجودتھے ۔ بلاول  بھٹو زرداری، شہباز شریف ،میں خود، شاہ محمود قریشی ،  سراج الحق، خواجہ آصف ، شیری رحمان  اور دیگر رہنما ملاقات میںموجود تھے۔ ملاقات سوا 9بجے سے  ساڑھے 12بجے تک سوا تین گھنٹے جاری رہی ۔ ملاقات کا بنیادی  موضوع  گلگت بلتستان اور شیعہ سنی فسادات لہر تھی  اس میں تمام لوگ متفق تھے  کہ گلگت بلتستان  کا پانچواں صوبہ بنایا جائے جبکہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی رائے تھی کہ ہم الیکشن کے بعد بنائیں گے ۔ آرمی چیف نے کہاکہ آپ کی جومرضی ہے وہ کریں پہلے کریں یا بعد میں کریں ۔ آرمی چیف نے واضح طورپر کہا کہ آپ ہمیں سیاست میں نہ گھسیٹیں ہمیں سول حکومت جس کام کیلئے بلائے گی ہم آنے کے پابند ہیں خواہ وہ بھاشا ڈیم ہو ، خواہ نیلم ج جہلم، ٹڈی دل ہو، خواہ کورونا ہو سیلاب ہو یا نالوں کی صفائی ہو خواہ فاٹا  کا الائنس ہو ہم منتخب حکومت کی کال پر عملدرآمد کے پابند ہیں لیکن ہمیں ہر جگہ نہ گھسیٹا جائے اگر آپ چاہتے ہیں کہ فوج الیکشن پولنگ اسٹیشنوں کے باہر اور اندر کھڑی نہ ہو آپ سیاستدان ہی لڑتے جھگڑتے ہیں اور پھر فوج کو طلب کرتے ہیں کہ ہمیںبچایا جائے۔ ہم حکم کے پابند ہیںکہ کل اگر آپ میں سے کسی کی حکومت ہوگی تو ہم آپ کے ساتھ  کھڑے ہوں  منتخب حکومت کے ساتھ کھڑا ہونے کی فوج پابند ہے اور اس کی کال پر لبیک ہے ہم کسی صورت ملک کے اندر کوئی فساد دھنگا مذہبی تفرقہ بازی  کوبرداشت نہیں کرسکتے ۔ شیخ رشید نے کہاکہ میری ذاتی رائے ہے کہ شہباز شریف کوعلم ہی نہیں تھاکہ نواز شریف کیا خطاب کرنے جارہے ہیں۔ اگر کوئی ایسی بات ہوئی تو وہ نواز شریف  نے اپنا پاسپورٹ خود پھاڑا ہے  اس نے اپنی سیاست کو خود دفن  کیا ہے اس نے پرانے سارے راستے  بند کردئیے ہیں۔ بھارتی میڈیا کی لیڈ سٹوری ہے کہ نواز شریف نے فوج کو روند ڈالا ہے فوج پر حملہ کردیا ، نواز شریف  نے اپنی سیاست الگ کرلی ہے اب شہباز شریف کیا کرتے ہیں یہ فیصلہ  30دسمبر تک ہو جائے گا۔ گزشتہ روز کی میٹنگ میں کوئی استعفیٰ دینے کیلئے تیارنہیں تھا جہاں  تک عدم اعتماد کی بات ہے مولانا فضل الرحمن نے اے پی سی  جسے میں اے بی سی کہتا ہوں  کہاہے کہ ہم نے 5دفعہ  عدم اعتماد کی کوشش کی ہے سینیٹ کے چیئرمین ،اسپیکر،صدر اور وزیراعظم  کی ہے ہم بری طرح ناکام ہوئے ہیں اب بھی ہم ناکام ہوں گے ہمارے لوگ نہیں آئیں گے جس سے ہمیں سبکی ہوگی لیکن وہ استعفیٰ کیلئے بڑا زور دیتے رہے جبکہ بلاول  نے کہاہم نواز شریف کو استعفیٰ دیتے  ہیں وہ آکر اسپیکر کو پیش کریں  جب نواز شریف سے رابطہ  کیا گیا تو ادھر سے جواب آنے کیلئے ایک مسکراہٹ ہی تھی ۔ نواز شریف نے  یہ طے  کرلیا ہے کہ وہ لندن میں پناہ لیں گے عمران خان نے نواز شریف کو چھوٹ دی ہے وہ روز تو ان کو نہیں مل سکتی۔ نواز شریف کی تقریر ان اداروں کیخلاف تھی جنہوں نے انہیں پروان چڑھایا  ۔ میرے خیال  میں نواز شریف نے اپنا راستہ طے کرلیا ہے اورشہبازشریف  نے ابھی  طے کرنا ہے اور نواز شریف نے جو راستہ طے کیا ہے اس کا اثر 15 دن یا مہینے میں آجائے گا۔ سوا تین گھنٹے کی ملاقات  میں آرمی چیف نے کہاکہ الیکشن کمیشن اور نیب کا چیئرمین  ہم نے نہیں لگایا آپ جانے اور وہ جانے ، گلگت بلتستان میں الیکشن ہونے جارہے ہیں آپ اپنے فیصلے خودکریں ہمیں اس میں ملوث نہ کریں۔ یہ فیصلہ آپ کا ہے کہ گلگت بلتستان کو الیکشن سے پہلے صوبہ بنانا چاہتے ہیں یا بعد میں تاہم فوج جمہوری منتخب حکومت کا ساتھ دینے کی پابند ہے جو بھی حکومت ہوگی فوج اس کا ساتھ دے گی  تاہم ملک میں دھنگا فساد کسی قیمت پر اجازت نہیں دیں گے ۔  شیخ رشید  نے کہاکہ گلگت  بلتستان کو آئین کے تحت مکمل  صوبہ بنادیا جائے گا۔ ان کی قومی اسمبلی ، سینیٹ اور صوبے میں نمائندگی ہوگی۔

am-auz-mz

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.