اتحادیوں میں اتفاق رائے ہوا تو مستقبل میں نئے آئین پر کام کرسکتے ہیں،ترک صدر

طیب اردوان نے نئے آئین کا عندیہ دے دیا

اتحادیوں میں اتفاق رائے ہوا تو مستقبل میں نئے آئین پر کام کرسکتے ہیں،ترک صدر

انقرہ(ویب  نیوز)ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے نئے آئین کا عندیہ دے دیا ہے۔ ترک صدر طیب ایردوان نے کہا ہے کہ مستقبل میں نئے آئین پر کام کرسکتے ہیں۔ ملک میں نئے آئین پر بحث کرنے کا وقت ہے۔ ترک صدر نے یہ بھی کہا ہے کہ اتحادیوں میں اتفاق رائے ہوا تو مستقبل میں نئے آئین پر کام کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کے مسائل کی وجہ یہ ہے کہ ہمیشہ آئین کو قابضوں نے مرتب کیا۔ ترکی میں اگلے صدارتی و پارلیمانی انتخابات 2023 میں ہوں گے۔ سنہ 2003 2002-میں اے کے پی نے پارلیمانی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کی اور اردوغان کو وزیر اعظم بنایا گیا۔ 66 سالہ طیب اردوان اے کے پارٹی کے قیام کے ایک سال بعد 2002 میں اقتدار میں آئے۔ وہ 11 سال تک ترکی کے وزیر اعظم رہے اور پھر 2014 میں ملک کے پہلے براہ راست صدر منتخب ہوئے۔  15 جولائی 2016 میں ترکی کے کچھ فوجی افسران نے صدر رجب طیب اردوان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی جس کے نتیجے میں 250 مظاہرین ہلاک ہو گئے تھے۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.