اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان ،کے ایس ای 100انڈیکس میں116.42پوائنٹس کی کمی

اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان ،کے ایس ای 100انڈیکس میں116.42پوائنٹس کی کمی

45868.04پوائنٹس کی سطح پرآ گیااور59.33فیصد کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ

کراچی(ویب  نیوز)اسٹیٹ بینک کی جانب سے مانیٹری پالیسی جاری ہونے کی ضمن میں غیرو اضح صورتحال سے حصص کے فروخت کادباو بڑھنے کے سبب پاکستان اسٹاک مارکیٹ میںجمعہ کو اتار چڑھائوکے بعد مندی کا رجحان رہا جس کے نتیجے میںکے ایس ای 100انڈیکس116.42پوائنٹس کی کمی سے45868.04پوائنٹس کی سطح پرآ گیااور59.33فیصد کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میںکمی ریکارڈکی گئی جس سے مارکیٹ کے سرمائے میں19ارب1کروڑ48لاکھ روپے کی کمی واقع ہوئی ہے جب کہ حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم بھی جمعرات کی نسبت 28.98فیصدکم رہا۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں جمعہ کو ٹریڈنگ کا آغاز مثبت زون میں ہوا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع بخش کمپنیوں کے شیئرز کی خریداری میں دلچسپی کے باعث تیزی رہی جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100انڈیکس46ہزار کی نفسیاتی حد کو بحال کرتے ہوئے46115.10پوائنٹس کی بلند سطح پر پہنچ گیا تاہم بعد ازاں اسٹیٹ بینک کی جانب سے مانیٹری پالیسی جاری ہونے کی ضمن میں غیرو اضح صورتحال سے حصص فروخت کا دبائو بڑھنے کے سبب46ہزار کی نفسیاتی حد پر برقرار نہ رہ سکا اور مارکیٹ مندی کی لپیٹ میں آگئی جس کے سبب انڈیکس45693پوائنٹس کی نچلی سطح پر آگیا بعد میں ریکوری بھی آئی لیکن مندی کا رجحان غالب آگیااورکاروبار کے اختتام پرکے ایس ای100انڈیکس116.42پوائنٹس کی کمی سے45868.04پوائنٹس پر بند ہوا۔،اسی طرح کے ایس ای30انڈیکس87.18پوائنٹس کی کمی سے19060.98پوائنٹس اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 72.94پوائنٹس کی کمی سے31840.92پوائنٹس کی سطح پرآگیا ۔گزشتہ روز مجموعی طور پر391کمپنیوں کا کاروربار ہوا جس میں سے142کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ232میں کمی اور 17کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا ۔ مندی کے باعث مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت83کھرب34ارب32کروڑ64لاکھ روپے سے گھٹ کر83کھرب15ارب31کروڑ16لاکھ روپے ہوگئی ۔قیمتوں میں اتار چڑھائو کے اعتبا ر سے رفحان میظ کے حصص کی قیمت411روپے کے اضافے سے10890روپے اورآئی سی آئی پاکستان17.03روپے کے اضافے سے859.08روپے ہوگئی جب کہ نیسلے پاکستان 25روپے کی کمی سے6575روپے اورمری پٹرولیم کے حصص 23.52روپے کی کمی سے 1427.08روپے ہوگئی ۔

 

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.