اسٹیٹ بینک کا آئندہ دو ماہ کیلئے شرح سود 7فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

کراچی :اسٹیٹ بینک کا آئندہ دو ماہ کیلئے شرح سود 7فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

بجلی کے نرخوں میں اضافے کے باعث مہنگائی میں بھی اضافے کا خدشہ ظاہر ۔معاشی سرگرمیوں میں بہتری کی نوید سنا دی

کراچی(ویب  نیوز)اسٹیٹ بینک نے آئندہ دو ماہ کیلئے شرح سود 7فیصد کی سطح پر برقرار رکھتے ہوئے بجلی کے نرخوںمیں اضافے کے باعث مہنگائی میںبھی اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے جبکہ معاشی سرگرمیوںمیںبہتری کی نوید بھی سنائی ہے ۔اسٹیٹ بینک کے گورنر ڈاکٹر رضا باقر نے گزشتہ روز زری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں شرح سود 7فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ زری پالیسی کمیٹی(ایم پی سی) نے پالیسی ریٹ کو 7 فیصد پر برقرا رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ معاشی سرگرمی کے بیشتر اعدادوشمار اور صارفی و کاروباری احساسات کے اظہاریوں میں مسلسل بہتری دکھائی دے رہی ہے جس کے نتیجے کے طور پر مالی سال 21ء میں نمو کی 2 فیصد سے کچھ زیادہ کی موجودہ پیش گوئی میں اضافے کے خطرات ہیں، یوٹیلٹی کے نرخوں میں اضافے سے مہنگائی کچھ بڑھ سکتی ہے، تاہم امکان ہے کہ یہ عارضی ہوگاجس کا سبب معیشت میں اضافی گنجائش اور مہنگائی کی توقعات کا قابو میں رہنا ہے۔ نتیجتاً اب بھی مہنگائی کے مالی سال 21کے لیے سابقہ اعلان کردہ حد 7تا9فیصد کے اندر رہنے اور وسط مدت میں رجحان 5تا7 فیصد کی جانب ہونے کی توقع ہے۔ عالمی سطح پر ابھی تک کوویڈ کے بڑھتے ہوئے کیسوں، نئی مشکلات کے نمودار ہونے اور دنیا بھر میں ویکسین کی تقسیم کے متعلق پائی جانے والی غیریقینی صورتحال کے پیش نظر اس وبا کی سمت کی پیش گوئی کرنا مشکل ہے اور ایسے بیرونی دھچکے معاشی بحالی کو سست کر سکتے ہیں۔ جولائی سے جاری معاشی بحالی حالیہ مہینوں میں مزید مستحکم ہوئی ہے۔ بڑے پیمانے کی اشیا سازی (ایل ایس ایم) اکتوبر میں 7.4فیصد سال بسال اور نومبر میں 14.5 فیصد سال بسال بڑھی،  مینوفیکچرنگ کی بحالی بھی وسیع البنیاد ہوتی جارہی ہے اور نومبر میں 15ذیلی شعبوں میں سے 12 نے مثبت نمو دکھائی  اور روزگار بحال ہونا شروع ہوگیا ہے، اس مالی سال میں اب تک ایل ایس ایم 7.4 فیصد سال بسال بڑھی ہے جبکہ پچھلے سال کی اسی مدت میں 5.3 فیصد کا سکڑاؤ ہوا تھا، تاہم مینوفیکچرنگ سرگرمی کی سطح مالی سال کی اوسط سطح سے کم رہی جس سے معیشت میں مسلسل فاضل گنجائش کی نشاندہی ہوتی ہے۔ جہاں تک طلب کا تعلق ہے، بڑھتی ہوئی تعمیراتی سرگرمی کے باعث سیمنٹ کی فروخت مستحکم رہی، پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت دو سال کی بلند ترین سطح پر ہے، شہری (موٹر کار) اور دیہی (ٹریکٹر) مارکیٹوں دونوں میں گاڑیوں کی فروخت بڑھ رہی ہے، زراعت کے شعبے میں تازہ ترین پیداواری تخمینوں کے مطابق کپاس کی پیداوار توقع سے زیادہ گھٹنے کا امکان ہے، تاہم امکان ہے کہ دیگر اہم فصلوں میں بہتر نمو اور امدادی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے گندم کی بلند پیداوار اور ربیع کی فصلوں کے لیے کھاد اور کیڑے مار ادویات پر حال ہی میں اعلان کردہ زراعانت کی بدولت اس کی تلافی ہو سکتی ہے، اگرچہ سماجی فاصلہ بدستور خدمات کے شعبے کے بعض حصوں پر ابھی تک منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، تاہم تھوک ، خردہ تجارت اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کو تعمیرات اور مینوفیکچرنگ میں بہتری سے فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔مسلسل پانچ مہینوں کے فاضل کے بعد دسمبر میں جاری کھاتے میں 662 ملین ڈالر کا خسارہ درج کیا گیا، اگرچہ ترسیلات زر اور برآمدات مستحکم انداز سے بڑھ رہی ہیں، تاہم معاشی سرگرمی میں تیزی کے ساتھ مشینری اور صنعتی خام مال کی درآمد میں اضافے کے باعث تجارتی خسارہ بڑھ گیا، ساتھ ہی نیز ملکی منڈی میں طلب اور رسد کا فرق ختم کرنے کے لیے گندم اور چینی کی درآمدات بھی بڑھ گئیں، بہر کیف مالی سال 21کی پہلی ششماہی کے دوران جاری کھاتہ فاضل یعنی 1.1 ارب ڈالر رہا جبکہ گذشتہ سال کے اسی عرصے میں 2 ارب ڈالر کا خسارہ ہوا تھا، اس بہتری کا بنیادی سبب کارکنوں کی ترسیلات زر ہیں جو جزوی طور پر سفری پابندیوں  نیز حکومت اور اسٹیٹ بینک کے مددگار پالیسی اقدامات ،جن سے باضابطہ ذرائع کا استعمال بڑھا ہے، کی بنا پر رواں مالی سال کے ہر مہینے 2 ارب ڈالر سے اوپر رہی ہیں، مزید یہ کہ دسمبر میں بیرون ملک جانے والے کارکنوں کی تعداد میں اضافہ مستقبل کے امکانات کے لیے نیک شگون ہے۔ حوصلہ افزا امر یہ ہے کہ ستمبر سے برآمدات بھی بحال ہوکر اپنی کوویڈ سے پہلے کی ماہانہ سطح تقریباً 2 ارب ڈالر پر آگئی ہیں اور دسمبر کے دوران تقریبا ً تمام زمروں میں برآمدی حجم میں وسیع البنیاد بحالی ہوئی ہے۔اسٹیٹ بینک کے زر مبادلہ ذخائر بڑھ کر 13 ارب ڈالر ہوگئے ہیں جو دسمبر 2017ء سے اب تک کی بلند ترین سطح ہے، اب تک کے دستیاب اعدادوشمار کے مطابق بیرونی شعبے کا منظرنامہ مزید بہتر ہوا ہے اور مالی سال 21کے لیے  جاری کھاتے کے خسارے کے جی ڈی پی کے ایک فیصد سے نیچے رہنے کی پیش گوئی ہے۔ حکومت اسٹیٹ بینک سے نئے قرضے نہ لینے کے عزم پر قائم ہے۔ بلند سودی ادائیگیوں اور کوویڈ سے متعلق اخراجات کے باوجود محاصل کی بھرپور نمو نے مالی سال کے دوران اب تک مالیاتی خسارے کو قابو میں رکھا ہے۔ عبوری تخمینوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ نومبر اور دسمبر میں خالص ایف بی آر محاصل بالترتیب 3.0 فیصد اور 3.3 فیصد سال بسال بڑھے،براہ راست ٹیکسوں اور سیلز ٹیکس میں  پھر تیزی آنے سے مالی سال 21ء  کی پہلی ششماہی کے دوران ایف بی آر محاصل 5 فیصد سال بسال بڑھ کر ہدف کی سطح کے قریب آگئے۔ بلند غیر سودی جاری اخراجات کے باوجود جولائی تا نومبر کے دوران بنیادی توازن میں جی ڈی پی کے 0.5 فیصد کا فاضل درج کیا گیا جو گذشتہ سال کی اسی مدت سے 0.2 فیصدی درجے بہتر ہے۔زری پالیسی کمیٹی کے گذشتہ اجلاس کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود مہنگائی کے دباؤ میں کمی آئی ہے،پچھلے دو مہینوں میں9فیصد کے قریب رہنے کے بعد عمومی مہنگائی نومبر میں گر کر8.3فیصد پر آ گئی اور دسمبر میں مزید کم ہو کر8فیصد ہو گئی۔ یہ جون2019ء کے بعد سے اس کی کم ترین سطح ہے، اس کمی کا اہم سبب غذائی مہنگائی میں کمی ہے، سازگار موسم اور رسدی مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومت کے بعض اقدامات سے تلف پذیر اشیا، گندم، دالوں اور چاول کی قیمت کم ہو چکی ہے، مزید برآںقوزی مہنگائی مالی سال21کے آغاز سے مسلسل قدرے دھیمی رہی ہے جو معیشت میں فاضل استعداد کی موجودگی سے ہم آہنگ ہے۔ کاروباری اداروں اور صارفین کی مہنگائی کی توقعات قابو میں ہیں اور ان میں حالیہ مہینوں کے دوران کمی آئی ہے۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.