اظہار رائے کی آزادی مزید دبانے کو پیپلزپارٹی نے مسترد کر دیا

اظہار رائے کی آزادی مزید دبانے کو پیپلزپارٹی نے مسترد کر دیا

مجوزہ قانون نیشنل سکیورٹی کے نام پر غلط طور پر استعمال کیا جائے گا

بل کی ہر پلیٹ فارم پر بھرپور مخالفت کی جائے گی۔ فرحت اللہ بابر

اسلام آباد (ویب  نیوز) مخصوص ادارے  احترام کے نام پر  آزادی رائے کا بنیادی حق مزید دبانے کی کوشش کو پیپلزپارٹی نے مسترد کر دیا پہلے ہی نیشنل سکیورٹی کے نام پر آزاد رائے کو دبایا جاتا رہا ہے،مجوزہ قانون نیشنل سکیورٹی کے نام پر غلط طور پر استعمال کیا جائے گا بل کی ہر پلیٹ فارم پر بھرپور مخالفت کی جائے گی۔ اس امر کاا ظہار پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکریٹری جنرل فرحت اللہ بابر نے اپنے ایک بیان میں کیا ہے۔ سابق سینیٹر  اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی کے ایک رکن نے قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ میں ایک بل پیش کیا جس میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی فوج کا احترام نہیں کرتا تو اسے دو سال جیل اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ قانون پی پی سی سیکشن 500-A نے پہلے ہی کسی کو بدنام کرنے کی سزا مقرر کی ہے اور اب اس قانون میں اضافہ کرکے آزادی رائے کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پہلے ہی نیشنل سکیورٹی کے نام پر آزاد رائے کو دبایا جاتا رہا ہے اور یہ بات قطعی ناقابل قبول ہے اور پیپلزپارٹی اس کی ہر پلیٹ فارم پر بھرپور مخالفت کرے گی۔ قوم پہلے ہی دیکھ چکی ہے کہ نیشنل سکیورٹی کے نام پر شہریوں کو پراسرار طریقے سے غائب کیا جاتا رہا ہے، قومی وسائل کو غلط طریقے سے خرچ کیا جاتا ہے، حراستی مراکز بنائے جاتے ہیں، سابقہ قبائلی علاقوں کو نو گو ایریا بنا دیا گیا ہے، خارجہ اور سکیورٹی پالیسیوں کو ہائی جیک کر لیا گیا ہے اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے بزنس اور کمرشل ادارے بے تحاشہ پھل پھول چکے ہیں۔ اب یہ نیا قانون بھی نیشنل سکیورٹی کے نام پر غلط طور پر استعمال کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ جو افواج دنیا بھر میں عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں جو اپنے آئینی دائرہ کار میں کام کرتی ہیں اور انہیں عزت کی نظر سے دیکھنے کے لئے کسی قانون کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسی طرح کوئی بھی قانون ان لوگوں پر سوالات اٹھانے سے نہیں روک سکتا جو اپنے آئینی دائرہ کار سے بار بار تجاوز کرتے ہیں۔