پاکستان اللہ تعالی کا تحفہ ہے، بد قسمتی سے اس کی قدر نہ کرسکے، عمران خان

پاکستان ہمارے لئے اللہ تعالی کا تحفہ ہے، بد قسمتی سے اس کی قدر نہ کرسکے

یہ وقت ہے کہ پاکستان کے نوجوان اپنے مستقبل کو اپنے ہاتھ میں لیں

ہماری حکومت نوجوانوں کے ساتھ مل کر سارے پاکستان کو ایک ہرا پاکستان بنادے گی

وزیر اعظم کا اسلام آباد میں موسم بہار کی شجرکاری مہم کے افتتاح کے موقع پر تقریب سے خطاب

اسلام آباد  (ویب ڈیسک)

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ وقت ہے کہ پاکستان کے نوجوان اپنے مستقبل کو اپنے ہاتھ میں لیں،ہماری حکومت نوجوانوں کے ساتھ مل کر سارے پاکستان کو ایک ہرا پاکستان بنادے گی۔پاکستان ہمارے لئے اللہ تعالی کا تحفہ ہے، بد قسمتی سے اس کی قدر نہ کرسکے،اگلی نسلوں کی بہتری کے لیے طرز زندگی کو بدلنا ضروری ہے۔ حکومت ماحول بنا سکتی ہے اور فنڈنگ کرسکتی ہے لیکن اصل میں قوم اپنے مستقبل کو ٹھیک کرتی ہے۔ ہم فیصلہ کررہے ہیں اسکولوں کے اندر ساری کلاسز کے لئے  ایک خصوصی کورس دیں تاکہ لوگوں کو اہمیت کا پتہ چلے کہ کتنا ضروری ہے کہ ہم اپنے ملک کو ہرا کریں۔ حکومت نوجوانوں کے ساتھ مل کر ملک کو باالکل تبدیل کردے گی اور ہم ایک  ہرا پاکستان بنادیں گے۔ان خیالات کاا ظہار وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد میں موسم بہار کی شجرکاری مہم کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر داخلہ شیخ رشید احمد، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک محمد امین اسلم  اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم زمین پر بھی اور سوچ میں بھی تبدیلی لے کر آرہے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلوں کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنا طرز زندگی بدلیں اور سوچیں کہ آج جو ہم  اپنے ملک کے ساتھ کررہے ہیں اس کا اگلے 10،20یا50سال میں  ہماری آنے نسلوں کو فائدہ ہو گا یا نقصان ہو گا۔ نبیۖنے ایک مرتبہ کہا کہ اگلی دنیا کے لئے اور آخر ت کے لئے اس طرح جیو کہ آپ نے کل مر جانا ہے، اس طرح اپنی زندگی گزارو کے آپ نے کل مرجانا ہے تو آخرت کے لئے آج سے سوچو کہ آپ نے اپنے ا عمال کیسے ٹھیک کرنے ہیں، لیکن اس دنیا کے لئے ایسے جیو کہ آپ نے ہزار سال زندہ رہنا ہے، یعنی جو آج آپ کررہے ہیں اس کا اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی زمین پر کیا اثرات آئیں گے۔ ہم نے گزشتہ70سال میں اس حدیث پر بالکل عمل نہیں کیا، ہم نے نہ اپنی آخرت کی فکر کی اور نہ ہی ہم نے یہ سوچا کہ ہم جس بیدردری سے اپنے درخت کاٹ رہے ہیں ، اپنے جنگلات ختم کررہے ہیں اس کا ہماری آنے والی نسلوں کو کیا نقصان ہو گا اور وہ سب سے زیادہ واضح آج لاہور  میں ہے کیونکہ میں خود لاہور میں بڑا ہوا،  وہ جو لاہور تھا اسے باغوں کا شہر کہا جاتا تھا اور پشاور کو بھی باغوں کا شہر کہا جاتا ہے لیکن آج وہاں جو آلودگی ہے وہ ہمار بچوں اور بوڑھوں کے لئے اتنی نقصان دہ ہے کہ ایک اندازے کے مطابق لاہور، کراچی اور پشاور میں جتنی آلودگی ہے اس سے انسان کی زندگی اوسطاً11سال کم ہوتی ہے اور خاص طور پر بچوں اور بوڑھوں کے لئے اس کے بہت برے اثرات ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ20سال میں لاہور کے70فیصد درخت کاٹ دیئے اور سیمنٹ کا جو جنگل ب گیا اس کے اثرات تو آنے تھے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ  لاہور میں ہم نے 50ایسی جگہیں ڈھونڈیں جہاں ہم میاواکی جو کہ جاپان کی ایک تکنیک ہے جس میں جنگل بڑی تیزی سے اگتا ہے اور اسے پہلی مرتبہ آج اسلام آباد میں شروع کیا گیا ہے۔ اس تکنیک کے تحت 10سال میں جنگل بن جاتا ہے جس کو عام طور پر اگنے میں 30سال لگتے ہیں اور وہ باقی عام جنگل سے آکسیجن بھی زیادہ دیتا ہے۔ ان کا کہا تھا کہ اسلام آباد میں 20اور جگہوں پر اس طرح کا جنگل اگایا جائے گا۔ میں تقریب میں موجود نوجوانوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ یہ آپ کے مستقبل کے لئے بہت ضروری ہے ، اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں پاکستان دیا ہے یہ بہت بڑا اللہ تعالیٰ کا تحفہ ہے اور زیادہ تر لوگوں کو پتہ ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح کی نعمتیں بخشی ہیں۔ میں وہ خوش قسمت پاکستانی ہوں جس نے سارا پاکستان پھرا ہوا ہے، پاکستان کے ہرکونے میں میں گیا ہوں اور میں نے دنیا بھی ساری دیکھی ہوئی ہے، کوئی دنیا کا شاید ایسا ملک ہے جہاں میں نہیں گیا،میں تجربے سے کہہ رہا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ہمارے لئے تحفہ ہے لیکن ابھی تک ہم نے اس کی قدر نہیں کی۔ گرین ہائوس گیسز کی وجہ سے دنیا میں موسم گرم ہو رہا ہے اور موسمیاتی تبدیلی آرہی ہے بدقسمتی سے ہم دنیا میں ان 10ملکوں میں شامل ہیں جن کو سب سے زیادہ خطرہ ہے لہذا ہمارے لئے درخت اگانا ایک مشغلہ نہیں ہے بلکہ ہمارے لئے اپنے مستقبل کو بچانے کے  لئے یہ ہماری ضرورت ہے۔ یہ ہماری پہلی حکومت ہے جس نے پہلے ایک ارب درخت خیبر پختونخوا میں لگوائے اور اب ہمارا 10ارب درخت لگانے کا ہدف ہے ۔ اس کو دنیا نے تسلیم کیا ہے، اگر دنیا آج کسی بھی چیز میں پاکستان کی تعریف کررہی ہے وہ ہمارا 10ارب درخت اگانے کا پروگرام ہے،انہوں نے خود بین الاقوامی اداروں جن میں ڈبلیو ڈبلیو ایف جیسے اداروں نے آکر خیبر پختونخوا میں جو درخت لگائے ہیں ان کا آڈٹ کیا ہے۔ میں تمام اسکولوں اور کالجز کے طلباء اور نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ نے اپنے مستقبل کر بچانے کے لئے اس مہم میں پوری طرح شرکت کرنی ہے۔ ہم اسکولوں کو ہدف دیں گے کہ ہر اسکول کم ازکم اتنے درخت لگائے اور پھر ان کو بچانا بھی ہے۔

Editor

Next Post

خواتین کو با اختیار بنانا تحریک انصاف کی حکومت کا مشن ہے، عثمان بزدار

بدھ فروری 17 , 2021
عوام نے ملک کی ترقی کا راستہ روکنے والوں کی منفی سیاست کا راستہ روک دیا ہے وزیراعلیٰ سے خواتین ارکان پنجاب اسمبلی کی ملاقات، سینیٹ الیکشن پر تبادلہ خیال لاہور (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ خواتین کو با اختیار بنانا تحریک انصاف کی حکومت […]