اینکرز کو 12 لاکھ  تنخواہ دی جاتی ہے، کارکنان کا پرسان حال نہیں ،قائمہ کمیٹی اطلاعات

اینکرز کو 12 لاکھ  تنخواہ دی جاتی ہے، کارکنان کا پرسان حال نہیں ،قائمہ کمیٹی اطلاعات

میڈیا کے مسائل کے مستقل حل کے لئے قانون سازی کرنے پر اتفاق

اسلام آباد(ویب  نیوز) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اطلاعات کی ذیلی کمیٹی نے میڈیا کے مسائل کے مستقل حل کے لئے قانون سازی کرنے پر اتفاق کرلیا ،شراکت داروں  سے بیس اپریل تک تجاویز طلب کرلی گئیں ، ٹی وی لائسنس کی شرائط میں بھی  تبدیلی کی جائے گی۔  قومی اسمبلی کی   اطلاعات و نشریات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینئر ناز بلوچ کی صدارت میں ہوا ۔  ذیلی کمیٹی  اطلاعات نے واضح کیا ہے کہ  میڈیا ورکر کے معاشی تحفظ تنخواہوں اور دیگر مسائل کے حل کے لئے قانون سازی کرنی ہو گی۔ لاکھوں روپے لینے والے اینکرز چینلز کے لئے بوجھ نہیں، معمولی تنخواہ لینے والے فیلڈ سٹاف کے لئے تنخواہوں کیلئے رقم نہیں ہے۔ سیکرٹری اطلاعات شاہیرہ شاہدہ نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ میڈیا مالکان کی جانب سے حلف نامہ جمع کرایا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ وہ ملازمین کو تنخواہیں ادا کریں گے۔ ایک ارب روپے ادا کیے جانے کے باوجود ملازمین کو تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں اسی وجہ سے ان کے واجبات رکے ہوئے ہیں ۔  پالیسی کے مطابق پہلے  موجودہ حکومت کے واجبات ادا کیے جائیں گے۔  ناز بلوچ نے کہا کہ میڈیا ورکرز کو تنخواہ نہیں ملتی وزیراعظم نے کہا کرونا کے دوران کوئی نوکری سے برخواست نہیں ہو گا مگر عملا کئی لوگ میڈیاسے نکالے گئے ۔ بعض  میڈیا نے دوسری کمپنیوں کے نام پر ملازمین رکھے ہوئے ہیں۔ کئی چینلز نے آڈٹ تک نہیں کرایا ۔ چیئرمین پیمرا سلیم بیگ نے بتایا کہ چینلز مالکان نے تین ماہ کے ا ندر آڈٹ کروانا تھا مگر فنانشل اسٹیمنٹ پیمراکو جمع نہیں کرائی گئی۔ معاملہ عدالت میں لے گئے پہلے عدالت میں معاملہ تھا اب کرونا کی وجہ سے معاملہ معطل ہے۔پی بی اے  کے صدر شکیل مسعود نے کہا حکومت کے ذمے 6 ارب واجبات ہیں ۔رکن کمیٹی محمد وسیم نے کہا کہ ایسی قانون سازی کرنی ہو گی جس سے ورکرز اور مالکان کا تحفظ ہو سکے۔ رکن کمیٹی کنول شوزب نے کہا کہ میڈیا کارکنان کے مسائل پر دوسال میں بہت گفتگو ہوچکی اب انہیں حل کرنا ہے اور قانون سازی کرنا ہے ۔ ناز بلوچ نے کہا کہ میڈیا مالکان اینکرز کو 12 لاکھ ادا کرتے ہیں ورکرز کی تنخواہ 30 سے 35 ہزار ادا نہیں کی جاتی۔  اینکرز کو 12 لاکھ ادائیگیاں ہوتی ہیں ملازمین کے لئے مسائل آ جاتے ہیں۔1066 ملازمین برطرف کیے گئے ۔ پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل ایم بی سومرونے ذیلی کمیٹی کو تحریری سفارشات پیش کیں۔یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ  تمام میڈیا ورکرزکا ڈیٹا اکٹھا اور ہیلپ لائن قائم کرکے کرونا ویکسین لگائی جائے۔ گروپ انشورنس کی جائے اور صحت کارڈز دیئے جائیں۔ صحافیوں کی ناگہانی وفات کی صورت میں شہدا پیکیج دیا جائے اشتہارات سے میڈیا مالکان اور حکومت اڑھائی اڑھائی فیصد میڈیا ورکرز فنڈ کے لئے جمع کرائیں۔