بھارتی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارت مخالف مظاہرے ، ریلیاں ،کل ہڑتال کی جائے

   ،  بھارتیزیر قبضہ جموںوکشمیر میں بھارت مخالف مظاہرے
   کشمیر مخالف بھارتی اقدامات کے خلاف کل ہڑتال کی جائے گ
سرینگر ( ویب ڈیسک )بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں وکشمیر میں آج لوگوں نے علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے بھارتی منصوبوں اور فرانسیسی جریدے میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانے کیلئے زبردست مظاہرے کیے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نماز جمعہ کی ادائیگی کے فوراً بعد لوگوں نے سرینگر، بڈگام، گاندر بل ، اسلام آباد، پلوامہ، شوپیاں، کولگام ، بارہمولہ ، کپواڑہ اور دےگرعلاقوں میں عید میلادالنبی ﷺ کے جلوس نکالے۔ انہوںنے آزادی اور اسلام کے حق میں اور بھارت کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے۔ قابض انتظامیہ نے لوگوں کو عیدمیلاد النبی ﷺ کے سلسلے میں سرینگر کی درگاہ حضرت بل میں گزشتہ شب عبادت کرنے کی اجازت نہیں دی ۔
ادھر مقبوضہ علاقے میں غیر کشمیری ہندوﺅں کو آباد کر کے وہاں مسلمانو ں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے نریندر مودی حکومت کے مذموم منصوبوں کے کے خلاف کل مکمل ہڑتال کی جائے گی ۔ ہڑتال کی کال کل جماعتی حریت کانفرنس اور میر واعظ عمر فاروق کی سرپرستی میں قائم حریت فورم نے دی ہے جبکہ دیگر آزادی پسند تنظیموں نے اس کی حمایت کی ہے ۔ یاد رہے کہ مودی حکومت نے مقبوضہ علاقے میں نئے قوانین نافذ کردیے ہیں جن کے تحت بھارتی شہری بھی علاقے میں اراضی خرید سکتے ہیں۔
حریت رہنماﺅں غلام محمد خان سوپوری، شبیر احمد ڈار، یاسمین راجہ اور خادم حسین نے سرینگر میں جاری اپنے بیانات میں کہا کہ بھارت کی طرف سے نئے قوانین کا واحد مقصد کشمیری مسلمانوں کو انکی جائیدادوں سے بے دخل کرنا اور انہیں اپنی ہی سرزمین میں اجنبی بنانا ہے ۔
بھارتی فوجیوں نے جموں خطے کے ضلع راجوری کے نزدیک Gambhir Mughlan کے علاقے میں تلاشی آپریشن شروع کر دیا ہے۔ بھارتی پولیس نے نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ کو نماز کی ادائیگی کیلئے درگاہ حضرت بل جانے سے روک دیا۔
مقبوضہ علاقے کی صحافتی تنظیموں نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی طرف سے میڈیا اداروں اور کشمیری صحافیوں کو مسلسل ہراساں کیے جانے کی شدید مذمت کی ۔

نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ نے لداخ خطے کے ضلع کرگل کے علاقے دراس میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس پانچ اگست کے بھارتی فیصلے کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی کیونکہ یہ فیصلہ کشمیریوں پر غیر قانونی طورپر مسلط کیا گیا ۔ عمر عبداللہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کیلئے نئے تشکیل پانے والے اتحاد ” پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن“کے وفد کی قیادت کر رہے ہیں ۔
کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموںوکشمیر شاخ نے بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموںوکشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی نریندر مودی حکومت کی مذموم منصوبوں کے خلاف آج اسلام آباد میں پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔

Editor

Next Post

گستاخانہ خاکوں کیخلاف وفاقی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے

جمعہ اکتوبر 30 , 2020
اسلام آباد (ویب ڈیسک ) گستاخانہ خاکوں کیخلاف وفاقی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور مظاہرین نے فرانسیسی سفارتخانے کی طرف جانے کی کوشش کی تو ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی۔ اسلام آباد میں گستاخانہ خاکوں کیخلاف تاجروں اور مذہبی افراد نے مظاہرہ کیا۔ […]