ترمیمی  صدارتی آرڈینینس 2021..جماعت اسلامی، آرڈینینس نامنظور

جماعت اسلامی کی پارلیمان میں انتخابی آرڈینینس کی نامنظوری کی قرارداد جمع

 سینیٹ میں  سینیٹر سراج الحق  قومی اسمبلی میں قراردادکے محرک مولانا عبدالاکبر چترالی ہیں

اسلام آباد (ویب  نیوز)جماعتِ اسلامی پاکستان کے ارکان پارلیمنٹ نے  دونوں ایوانوں میں  انتخابات ایکٹ میں ترمیمی  صدارتی آرڈینینس 2021 کی نامنظوری کی قرارداد جمع کرا دیں سینیٹ میں  سینیٹر سراج الحق جب کہ قومی اسمبلی میں اس قراردادکے محرک مولانا عبدالاکبر چترالی ہیں ۔تفصیلات کے مطابق مندرجہ بال صدارتی ا آرڈینس  کو مسترد کرنے کے حوالہ سے باقاعدہ نامنظوری کی قرارداد کا نوٹس جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق  کی طرف سے جمع کرایا گیا ہے۔ آرڈینس کی نامنظوری کے لیے قرارداد کا نوٹس سینیٹ کے قواعدوضوابط مجریہ 2012کے قاعدہ  142(2)کے تحت جمع کرایا گیا ہے ۔جبکہ قومی اسمبلی میں چترال سے جماعت اسلامی کے ممبر قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے قرارداد زیر قاعدہ 170(2)کا نوٹس جمع کرایا ہے۔قراردادوں  میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدارتی ریفرنس کوصرف اس حد تک سپریم کورٹ کی رائے سے مشروط کیا گیا ہے کہ اگرسپریم کورٹ نے سینیٹ انتخابات کو انتخابات ایکٹ 2017 کے تحت قرار دیا تو اوپن ووٹنگ ہو گی۔انتخابات ایکٹ 2017کی شق 81،122میں ترامیم کی گئی ہیں۔صدر پاکستان کی طرف سے سپریم کورٹ میں بھیجا گیا ریفرنس ابھی زیر سماعت ہے اور چیف جسٹس کی سربراہی میں لارجر بنچ اس ریفرنس کی سماعت کر رہا ہے اور مورخہ 8فروری آئندہ سماعت کے لیے مقرر ہے۔ حکومت کی طرف سے پہلے ہی قومی اسمبلی میں مذکورہ ترمیمات پر مبنی قانون اور آئین میں ترمیم کے بلز پیش کیے جاچکے ہیں۔مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں آرڈینینس کی نامنظوری کا نوٹس پیش کیا جاتا ہے

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.