جو بائیڈن بدھ کو عہدے کا حلف اٹھائیں گے. سکیورٹی خدشات.. غیر معمولی انتظامات اور خاردارتاریں

 نیو یارک: (ویب ڈیسک):امریکی نو منتخب صدر جو بائیڈن بدھ کو ملک کے 46 ویں صدر کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے ، یہ حلف پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بجے کے قریب اٹھایا جائے گا۔ جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی چار سالہ مدت مکمل ہونے کے بعد وائٹ ہاؤس چھوڑ

 دیں گے۔ ریزرور فوج (نیشنل گارڈز) کے ہزاروں اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے افسران و اہلکار تعینات ہیں 

ریزرور فوج (نیشنل گارڈز) کے ہزاروں اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے افسران و اہلکار تعینات ہیں. نئے صدر کے استقبال کے لیے وائٹ ہاؤس میں بھرپور تیاریاں کی گئی ہیں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات ہے۔ وائٹ ہاؤس کے کئی مقامات کو خاردار تاریں لگا کر بند بھی کر دیا گیا ہے۔

نو منتخب صدر کی حلف برداری کے لیے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں، نو منتخب صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کاملا ہیرس کیپٹل کمپلیکس میں حلف لیں گے جس کے اطراف بھی خاردار تاریں لگائی گئی ہیں۔ جوبائیڈن کی تقریبِ حلف برداری پریڈ کے لیے ملٹری اور میوزیکل بینڈ نے وائٹ ہاؤس کے سامنے ریہرسل بھی کی۔ امریکا میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے باعث حلف برداری کی تقریب کو محدود رکھا گیا ہے اور بیشتر تقریبات ورچوئل ہوں گی۔ملک کی تمام 50 ریاستوں میں نئے صدر کے استقبال کے لیے میوزیکل بینڈ اور مختلف گروپس اپنے فن کا مظاہرہ بھی کریں گے۔

حکام نے نیشنل مال کے قریب سڑکوں اور میٹرو سٹیشنز کو بند کر دیا ہے جبکہ ریاست ورجینیا کی طرف جانے والے پلوں کو بھی ٹریفک کی آمد و رفت کے لیے بند کیا گیا ہے، کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ریزرور فوج (نیشنل گارڈز) کے ہزاروں اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے افسران و اہلکار تعینات ہیں۔  

سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن کی تقریبِ حلف برداری کے دوران کسی بھی حملے کے خدشے سے نمٹنے کے لیے احتیاطی تدابیر مکمل کر لی ہیں جب کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے تقریب کی سکیورٹی پر مامور نیشنل گارڈز کے 25 ہزار اہلکاروں کی سکریننگ بھی مکمل کرلی ہے۔

قائم مقام وزیرِ دفاع کرسٹوفر ملر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایسی کوئی خفیہ اطلاعات نہیں کہ تقریب میں اندر سے کوئی حملہ ہو سکتا ہے۔ دارالحکومت کی سکیورٹی کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔انہوں نے کہا کہ اہلکاروں کو واشنگٹن آنے سے قبل اضافی تربیت دی گئی تھی اور انہیں کہا گیا ہے کہ اگر وہ کوئی غیر معمولی چیز دیکھیں یا کچھ ایسا سنیں تو فوری طور پر اپنی اعلیٰ قیادت کو اس بارے میں آگاہ کریں۔ سکیورٹی خدشات کے باوجود جو بائیڈن نے اسی تاریخی مقام پر حلف لینے کا منصوبہ بنایا ہے جہاں امریکہ کے سابق صدور حلف لیتے رہے ہیں۔

جو بائیڈن کی کمیونی کیشن ڈائریکٹر نے کہا کہ ہمارا منصوبہ ہے کہ جو بائیڈن 20 جنوری کو کیپٹل کمپلیکس کے مغربی حصے میں منعقدہ تقریب کے دوران انجیل پر ہاتھ رکھ کر عہدے کا حلف لیں گے۔ جو بائیڈن کی ٹیم کو امریکی سیکریٹ سروس اور دیگر اداروں پر مکمل اعتماد ہے جو حلف برداری کی تقریب کو محفوظ بنانے کے لیے گزشتہ ایک سال سے کام کر رہے ہیں۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اب تک انتخابات میں اپنی ناکامی تسلیم نہیں کی اور نہ ہی انہوں نے نو منتخب صدر جو بائیڈن کو مبارک باد دی ہے۔تاہم ٹرمپ نے تسلیم کیا ہے کہ بدھ کو امریکہ کی نئی انتظامیہ اپنا کام سنبھالے گی۔اگر صدر ٹرمپ نومنتخب صدر کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہیں کرتے تو 160 سال کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہو گا۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.