حویلیاں طیارہ حادثہ’ سی اے اے سے تفصیلی جواب طلب

کراچی (ویب ڈیسک)

 اتنا بڑا حادثہ ہوا،اس کا ذمہ دار کون ہے؟،سندھ ہائی کورٹ ، سماعت 17 دسمبر تک ملتوی
تکنیکی سوالات کی روشنی میں بتائیں کون ذمہ دار ہے ؟ عدالت نے پی آئی اے کی جانب سے متعلقہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی بھی رپورٹ طلب کرلی

سندھ ہائی کورٹ نے حویلیاں میں پی آئی اے طیارہ حادثے کی ذمہ داری سے متعلق سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے)سے تفصیلی جواب طلب کرلیا۔ منگل کو سندھ ہائی کورٹ میں حویلیاں میں پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کے ٹیکنیکل افسران عدالت میں پیش ہوئے۔جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ اتنا بڑا حادثہ ہوا،اس کا ذمہ دار کون ہے؟۔ ڈائریکٹر ٹیکنیکل پی آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ طیارے میں ٹیکنیکل مسئلہ تھا،ہم نے اس حادثے سے سبق سیکھا۔عدالت نے کہا کہ لوگ رقم خرچ کرکے ٹکٹ خریدتے ہیں، اگر مسافر محفوظ نہیں تو کیا فائدہ ہے؟اس رپورٹ کے بعد پی آئی اے نے کسی ذمہ دار کا تعین کیا؟ جسٹس محمد علی مظہر نے مزید کہا کہ ہماری بار بار ہدایت کی وجہ سے رپورٹ آگئی ورنہ کبھی سامنے نہ آتی۔عدالت نے مزید استفسار کیا کہ آپ لوگوں نے خرابی کے باوجود طیارہ اڑایا،اس کا ذمہ دار کون ہے،پڑھ کر بتائیں کہ رپورٹ میں کیا لکھا ہے؟۔اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل شہریار مہرنے کہا کہ آبزرویشن میں پی آئی اے کوذمہ دار قرار دیا گیا۔پی آئی اے کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر نے عدالت کو بتایا کہ لیفٹ انجن میں مسئلہ آیا تھا اور رائٹ انجن ٹھیک تھا،ڈیزائن کا مسئلہ تھا،دس ہزارگھنٹوں کی پروازکی حد ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیاکہ طیارے کا ٹربائن بلیڈ کیوں تبدیل نہیں کیا گیا؟ڈائریکٹر ٹیکنیکل نے کہا کہ ورکشاپ میں جب طیارہ آیا تواس کی مینٹیننس کی گئی،ہم نے مکمل ریکارڈ جمع کرادیا،مجھے تھوڑی سے مہلت دے دیں تومزید جواب دے سکوں گا۔عدالت نے مزید استفسار کیا کہ اس حادثے کے بعد کس کے خلاف کارروائی ہوئی؟ پی آئی اے حکام نے بتایا کہ ہم نے فوری طور پرتمام اے ٹی آر طیاروں کو گرائونڈ کردیا تھا۔عدالت نے مزید استفسار کیا کہ کیا بقیہ اے ٹی آر طیاروں کومحفوظ بنایا گیا ہے؟ پی آئی اے کے وکیل نے عدالت کویقین دلایا کہ ہم سیفٹی ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کی بنیاد پریقین دلارہے ہیں کہ تمام حفاظتی اقدامات کرلیے ہیں۔عدالت نے حادثے کی ذمہ داری سے متعلق سول ایوی ایشن اتھارٹی سے تفصیلی جواب مانگ لیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ تکنیکی سوالات کی روشنی میں بتائیں کون ذمہ دار ہے؟ پی آئی اے کی جانب سے متعلقہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی بھی رپورٹ طلب کرلی گئی۔پی آئی اے کے موجودہ اے ٹی آر طیاروں کی مبنٹیننس سے متعلق بھی تفصیلات طلب کی گئیں۔درخواست گزار اقبال کاظمی نے حادثے سے متعلق نئی دستاویزات پیش کردیں۔دستاویزات کی روشنی میں پی آئی اے اوردیگرکوجواب جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔کیس کی سماعت 17 دسمبر تک ملتوی کردی گئی ۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.