حکومت راستہ نہ کھولتی تو ہم کنٹینر اٹھا کر پھینک دیتے: مولانا فضل الرحمن

اسلام آباد (ویب ڈیسک)

اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)اور جمعیت علمائے اسلام(ف )کے سربراہ مولانا فضل الرحمن  نے کہا ہے کہ حکومت ہمارا راستہ نہیں روک سکتی تھی ، اگر حکومت راستہ نہ کھولتی توہم کنٹینر اٹھا کر پھینک دیتے۔اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے یہ بھی کہا کہ دشمن قوتوں نے پاکستان تحریکِ انصاف کو فنڈنگ کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اس بات پر احتجاج کر رہے ہیں کہ جو اپنے آپ کو حکمران جماعت کہتی ہے اس نے نے جو اپنے اثاثے چھپائے ہیں اور اس کے خلاف غیرملکی فنڈنگ کے حوالے سے دائر مقدمے کو 6سال ہو چکے ہیں اور ڈیڑھ سو پیشیاں ہوئی ہیں لیکن حکومت مسلسل درخواستیں دے کر اسے التوا کا شکار کررہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومتی جماعت نے خفیہ دستاویزات اور بینک اکاونٹس اس کو بھی اب ظاہر نہیں کیا ہے اور سب کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ پاکستان دشمن قوتوں کی طرف سے بھی جو امداد آئی ہیں اور جو پاکستان اور قومی سلامتی کے خلاف استعمال ہو سکتے ہیں، یہ سب چیزیں اپنی جگہ بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم بہت پرجوش ہیں، پتہ نہیں آپ باڈی لینگویج کو کس حوالے سے دیکھتے ہیں، ہم بڑے محتاط لب و لہجے میں گفتگو کررہے ہیں، ہم آئین و قانون کے دائرے میں بات کررہے ہیں ،شبلی فراز کی جانب سے راستے کھولنے کے بیان پر جمیعت علمائے اسلام(ف)کے رہنما نے کہا کہ اگر وہ راستے نہ کھولتے تو ہم کنٹینر اٹھا کر باہر پھینک دیتے، وہ راستہ روک ہی نہیں سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم 5 فروری کو پنڈی بھی جا رہے ہیں جہاں ہمارا کشمیر فروشی اور کشمیریوں سے یکجہتی کے حوالے سے بڑا اجتماع ہو گا۔مولانا نے ایک سوال کے جواب میں وضاحت کی کہ ہم نے اب تک ریلیوں میں اس لیے شرکت نہیں کی کیونکہ ہمارے پہنچنے کی صورت میں ریلیوں کے پہنچنے میں تاخیر ہو سکتی تھی۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.