حکومت ہوش کے ناخن لیتے ہوئے وقف قانون واپس لے ،تحریک تحفظ مساجدومدارس

حکومت ہوش کے ناخن لیتے ہوئے وقف قانون واپس لے ،تحریک تحفظ مساجدومدارس

 قانون مساجدومدارس پرڈرون حملہ ہے۔ظہوراحمدعلوی

اسلام آباد.راولپنڈی (ویب  نیوز)تحریک تحفظ مساجدومدارس کے رہنمائوں کے مطابق نئے وقف املاک قانون  کے خطرناک نتائج آناشروع ہوگئے ہیں حکومت ہوش کے ناخن لے اوریہ غیرشرعی قانون واپس لے ایک بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اسلام آباداورپنچاب میں وقف املاک ایکٹ کے تحت مساجدومدارس کے خلاف کاروائیاں قبول نہیں۔ وقف املاک ایکٹ کے خلاف ملک گیر تحریک  کے لیے 13فروری کوعلماء ومشائخ کنونشن جامعہ اسلامیہ راولپنڈی میں منعقدہوگا۔اتحادتنظیمات مدارس دینیہ کے قائدین اوردیگرمذہبی وسیاسی رہنماء متفقہ لائحہ عمل کااعلان کریں گے ۔ گزشتہ روز اجلاس ہوا جس میں تحریک تحفظ مساجدومدارس کے صدرمولاناظہوراحمدعلوی ،تنظیم المدارس  اسلام آبادکے رہنما مفتی اقبال نعیمی ،وفاق المدارس کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولاناقاضی عبدالرشید،تحریک تحفظ مساجدمدارس کے سرپرست مولانانذیرفاروقی ،فاق المدارس السلفیہ کے رہنما حافظ مقصود احمد،جماعت اسلامی راولپنڈی کے جنرل سیکرٹری عثمان آکاش ،جامعہ قاسمیہ کے مہتمم قاری عبدالکریم ،مرکزی جمعیت اہل حدیث راولپنڈی کے صدراحسن فاروقی ،مولانامحمدآدم خان ،مولاناقاضی شفیق احمد،مولاناحسن فاروقی ،مولاناخلیق الرحمن چشتی،مولانامطیع اللہ ، ودیگر جامعہ فاروقیہ دھمیال کیمپ میں منعقدہ اجلاس میں شرکت کی ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباداورپنچاب کے بعض علاقوں سے اطلاعات آرہی ہیں کہ اس غیرشرعی قانون کے تحت علماء وخطباء کے خلاف کاروائیاں کی جارہی ہیں ۔علماء کوتنگ کیاجارہاہے۔ حکومت ہوش کے ناخن لے ۔ایف اے ٹی ایف کے دبائو پربنایاگیا قانون ہمیں قبول نہیں۔ اس قانون کی وجہ سے علماء اوردینی دحلقوں میں شدیدبے چینی پائی جاتی ہے ۔ حکومت کویہ قانون ہرصورت و اپس لیناہوگا۔ ایسے قوانین کونہ پہلے علما نے قبول کیاہے نہ آئندہ قبول کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ اس قانون کے خلاف ملک بھرکے علماء اوردینی جماعتیں متحدہیں۔ایک اسلامی اورنظریاتی ملک میں دینی مدارس ومساجدکے خلاف قانون سازی نے دینی حلقوں کومضطرب کردیاہے ۔حکومت ایک طرف ریاست مدینہ کانعرہ لگارہی ہے دوسری طرف عالمی طاقتوں کی ایماء پرایساقانون بنایاگیاہے جوکہ مساجدومدارس پرڈرون حملہ ہے۔ ہم نے پہلے بھی ایسے قوانین کونہ قبول کیاہے نہ آئندہ قبول کریں گے۔ 13فروری کوراولپنڈ میں ہونے والے علماء ومشائخ کنونشن میں متفقہ لائحہ عمل کااعلان کیاجائے گا ۔

 

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.