ریلوے گالف کلب فیصلے پر عملدرآمد کیس’ آ ڈٹ کیلئے ریکارڈ ایک ماہ میں فراہم کیا جائے، سپریم کورٹ

ریلوے گالف کلب فیصلے پر عملدرآمد کیس’ آ ڈٹ کیلئے ریکارڈ ایک ماہ میں فراہم کیا جائے، سپریم کورٹ

کمپنی 4مہینوں میں آ ڈٹ مکمل کرے ، چیزوں کو چھپانے سے ریلوے کو کیا فائدہ ہو گا؟، جسٹس اعجازالاحسن

ریلوے حکام گالف کلب کی لیز کیلئے مڈ ٹرم پالیسی کے تحت پرائیویٹائزیشن کمیشن سے منظوری لے، عدالت

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) سپریم کورٹ نے ریلوے گالف کلب فیصلے پر عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران متعلقہ حکام کوحکم دیا ہے آ ڈٹ کیلئے تمام ضروری ریکارڈ ایک ماہ میں فراہم کیا جائے اور آ ڈٹ کرنے والی کمپنی 4مہینوں میں آ ڈٹ مکمل کرے ۔ جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ، عدالت نے قراردیا کہ ریلوے حکام گالف کلب کی لیز کیلئے مڈ ٹرم پالیسی کے تحت پرائیویٹائزیشن کمیشن سے منظوری لے، دوران سماعت آڈٹ کرنے والی کمپنی کے نمائندے نے بتایا کہ ریلوے حکام اور سابقہ انتظامیہ دونوں فریقین ریکارڈ فراہم کرنے کی بجائے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال رہے ہیں، جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ چیزوں کو چھپانے سے ریلوے کو کیا فائدہ ہو گا؟ اگرریکارڈ فراہم نہ کیا گیا تو سپریم کورٹ اس پر مناسب حکمنامہ جاری کرے گی ،سابق انتظامیہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 7جولائی 2019کو ریلوے نے ریکارڈ قبضہ میں لے لیا تھا اور تمام ریکارڈ ریلوے کے قبضے میں ہیں ہمیں تو اندر جانے بھی نہیں دیا جاتا ، عدالت نے ریکارڈ فراہمی کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کردی۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.