سینٹ میں  مبینہ این آر او کی دستاویزات پیش …مراد سعید نے دستاویزات کو ریزہ ریزہ کر دیا

حکومت کی طرف سے سینٹ میں  مبینہ این آر او کی دستاویزات پیش کر دی گئیں

محرک  مراد سعید نے دستاویزات کو ریزہ ریزہ کر دیا

کچھ بھی ہو جائے اپوزیشن کو این آر او نہیں ملے گا

شہباز شریف سے پوچھا گیا تو کہا کہ بھینسوں کا دودھ بیچ کر گزارا کرتا ہوں

 وزیر مواصلات کا  ایوان بالا میں نیب  کی کارکردگی پر بحث  کے دوران تقریر

اسلام آباد ( ویب ڈیسک ) حکومت کی طرف سے جمعہ کو سینٹ میں اپوزیشن کی طرف سے مانگے گئے مبینہ این آر او کی دستاویزات پیش کر دی گئیں ۔ وزیر مواصلات مراد سعید نے یہ کہتے ہوئے ایوان میں ان دستاویزات کو ریزہ ریزہ کر دیا کہ کچھ بھی ہو جائے اپوزیشن کو این آر او نہیں ملے گا شہباز شریف سے پوچھا گیا تو کہا کہ بھینسوں کا دودھ بیچ کر گزارا کرتا ہوں  ۔ اس امر کا اظہار انھوں نے جمعہ کو ایوان بالا میں نیب  کی کارکردگی پر بحث  کے دوران کیا ۔سینیٹ کا  اجلاس اپوزیشن کی ریکوزیشن پر طلب کیا گیا ہے  اور ایجنڈا بھی اپوزیشن کا زیربحث لایا گیا ہے ۔ اجلاس چیئرمین محمد صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا ۔احتساب کے معاملات پر حکومت اپوزیشن رہنماؤں نے ایک دوسرے کو آڑے ہاتھوں لیا ۔ وزیر مواصلات مراد سعید نے سینٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پانامہ دستاویزات نیب کی پریس ریلیز یا حکومت کی دستاویزات نہ تھیں ۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ سے یہ منظر عام پر آئی تھیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب پانامہ معاملات کا آغاز ہوا جعلی اکاؤنٹس کے چرچے ہوئے تو دھمکیاں دینا شروع کر دی گئیں کہ ایسا کیا تو ان پر زمین تنگ کر دیں گے ۔ معلوم ہو جائے گا  کس  سے واسطہ پڑا ہے ۔ ہماری حق حلال کی کمائی ہے ۔ اثاثے بڑھ گئے ہیں تو ان کو کیا ہے ۔ انہوں نے امریکا میڈیا میں پاکستان کے سیاستدانوں سے متعلق پانچ پرسنٹ اور سو پرسنٹ کے القابات پر مبنی مضامین کی کاپیاں بھی پیش کیں اور کہا کہ پیسہ باہر بھجوانے کے لیے سندھ کی ترقی کے وسائل جعلی اکاؤنٹس کی نظر کر دئیے گئے ۔ جوابات دینے کی بجائے دھمکیاں دیتے ہیں ۔ ملک بھر میں دفاتر مارکیٹس گھر فارم ہاؤسز پلاٹس ہیں اور اثاثوں میں چند کروڑ اور چند لاکھ روپے ظاہر کئے جاتے ہیں ۔ خواجہ آصف کی اسلام آباد گوجرانوالہ سیالکوٹ میں جائیدادیں پھیلی ہوئی ہیں ۔ مولانا کے اثاثوں کے حوالے سے رؤف ماما کے تذکرے ہوتے ہیں ۔ پاپڑ والوں ، دہی بھلے والوں کے بھاری رقوم کے اکاؤنٹس  نکل آتے ہیں ۔ شہباز شریف سے پوچھا گیا تو کہا کہ بھینسوں کا دودھ بیچ کر گزارہ کرتا ہوں ۔ مزید پوچھا گیا تو انڈوں اور مرغیوں کے کاروبار کا بتایا ۔شہباز شریف نے بیٹے کے کلاس فیلوز کو ایڈوائزر رکھ لیا جو کراچی تک نہیں گئے تھے وہ کس کے لیے باہر پیسے بھجواتے تھے  ۔ انہوں نے دستاویزات لہراتے ہوئے کہا  کہ یہ ہے وہ این آر او جو اپوزیشن نے حکومت کو قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا ۔ ایوان بالا کو آگاہ کر رہا ہوں  کہ  غلط کاموں پر پردہ ڈالنے کے لیے  یعنی  اپوزیشن  کی ڈیمانڈ حکومت تسلیم کر لے تو سب اچھا ہے ۔ یہ این آر او احتساب کے عمل کو غیر موثر بنانے سے متعلق ہے ۔ ان دستاویزات  میں کہا گیا ہے کہ 1999 ء سے قبل کے کرپشن مقدمات کی بات نہ کی جائے ۔ ایسی ایسی ترامیم دی ہیں کہ جرائم میں سزا سے بچ جائیں ۔ نیب کے سیکشن 9 میں سارے اپوزیشن رہنماؤں نواز شریف ، شہباز شریف ، آصف زرداری ، شاہد خاقان عباسی ، احسن اقبال ، مریم نواز شریف ، خورشید شاہ ، سب کو بچانے کی ترامیم دے دیں  ۔ نا اہل ہونے سے متعلق سیکشن 15 میں بھی ترمیم دے دی ۔ سزا یافتہ افراد سے متعلق سیکشن 16 کو تبدیل کرنے کا اپوزیشن نے مطالبہ  کر دیا  ۔ یہ ہیں مانگے  گئے این آر او کی دستاویزات جب تسلیم نہ کیا تو سڑکوں پر آ گئے ۔ آئینہ دکھایا تو برا مان گئے ۔ چیئرمین سینٹ کو مخاطب کرتے ہوئے مراد سعید نے کہا کہ میں نے اگر ایوان میں کوئی غلط بیانی کی ہے یا غلط دستاویزات پیش کی ہیں تو قانونی کارروائی کا سامنا کرنے کو تیار ہوں ۔ متعلقہ دستاویزات کو پھاڑ کر پھینکتے ہوئے وزیر مواصلات نے کہا کہ اپو زیشن کو کسی صورت این آر او نہیں ملے گا ۔

Editor

Next Post

لانگ مارچ اسلام آباد یا راولپنڈی ، کس طرف ہوگا، فیصلہ ہونا باقی ہے۔ مولانا فضل الرحمن

جمعہ جنوری 1 , 2021
لانگ مارچ اسلام آباد یا راولپنڈی ، کس طرف ہوگا، فیصلہ ہونا باقی ہے۔ مولانا فضل الرحمن گیٹ نمبر بھی ہم نے طے کرنا ہے۔19 جنوری کو الیکشن کمیشن کے سامنے  مظاہرہ کا اعلان نیب کے سامنے بھی احتجاج کریں گے۔عمران خان کے اصل پشتی بان تنقید کا نشانہ بن […]