سینیٹ الیکشن: 37 میں سے 13 نشستیں تحریک انصاف، پیپلز پارٹی نے 8 سیٹیں جیت لیں

پی ڈی ایم کی بڑی کامیابی، یوسف رضا گیلانی اسلا م آباد کی نشست سے  کامیاب ، عبدالحفیظ شیخ کو شکست
سندھ میں پیپلز پارٹی نے سات ،ایک اضافی سیٹ لینے میں کامیاب۔ ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے دو دو امیدوار کامیاب
بلوچستان میں12نشستوں میں سے حکومتی اتحادنے 8جبکہ متحدہ اپوزیشن نے 4نشستوں پر کامیابی حاصل کی
کے پی کے کی 12نشستوں میں 10 پی ٹی آئی ،اے این پی اور جے یو آئی (ف) نے ایک ایک نشست حاصل کیں

اسلام آباد،کراچی،کوئٹہ ،پشاور(ویب  نیوز)

سینیٹ الیکشن کی 37 میں سے 13 نشستیں تحریک انصاف کے نام رہیں جبکہ پیپلز پارٹی نے 8 سیٹیں جیت کر اپ سیٹ کردیا۔ بدھ کوسینیٹ الیکشن کی 37 نشستوں کیلئے قومی اسمبلی اور تین صوبائی اسمبلیوں سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں صبح  9 سے شام 5 بجے تک پولنگ خفیہ بلیٹ کے ذریعے ہوئی۔اسلام آباد کی 2 نشستوں، سندھ اسمبلی کی 11، خیبر پختونخوا اور بلوچستان اسمبلی کی 12،12 نشستوں پر امیدوار مدمقابل تھے۔سنیٹ کی 48 نشستوں پر انتخاب ہونے تھے لیکن پنجاب کی 11 نشستوں پر  تمام امیدوار پہلے ہی بلامقابلہ منتخب ہوگئے جس کی وجہ سے 37 نشستوں پر انتخاب ہوئے۔ پنجاب سے تحریک انصاف نے 5، ن لیگ 5 اور ق لیگ نے ایک نشست جیتی تھی۔اب تک کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق 37 میں سے تمام 37 نشستوں کے نتائج سامنے آچکے ہیں جن میں سے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے 13 نشستیں جیتی ہیں، ان میں سے خیبر پختونخوا سے 10 ،  سندھ سے 2 اور اسلام آباد سے ایک نشست جیتی ہے۔ پنجاب کی 5 نشستیں بھی شامل کرلی جائیں تو پی ٹی آئی کی مجموعی نشستیں 18 ہوجاتی ہیں۔سینیٹ الیکشن میں وفاقی دارالحکومت کی جنرل نشست پر  پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی نے حکومتی امید وار عبدالحفیظ شیخ کو شکست دیدی ہے۔سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے عبدالحفیظ شیخ کو پانچ ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ انہوں نے 169 ووٹ لئے جبکہ حکومتی امیدوار کے حصے میں 164 ووٹ آئے۔ ریٹرننگ افسر نے نیتجے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کو 169 جبکہ حفیظ شیخ کو 164 ووٹ ملے،سینیٹ الیکشن میں ٹوٹل 340 ووٹ ڈالے گئے جن میں سے 7 ووٹ مسترد کر دیئے گئے۔ اسی طرح انہوں نے اعلان کیا کہ  خواتین کی نشست پر تحریک انصاف کی امیدوار فوزیہ ارشد نے 174 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جبکہ مسلم لیگ ن کی امیدوار فرزانہ کوثر نے 161 ووٹ لئے، اس انتخاب میں 5 ووٹ ضائع ہوئے۔عبدالحفیظ شیخ اور یوسف رضا گیلانی کے درمیان مقابلے کو ہی اپوزیشن اور حکومت کے درمیان سب سے بڑا اور اہم مقابلہ قرار دیا جا رہا تھا۔ سندھ سے سینیٹ کے الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کا پلہ بھاری رہا اس نے سات نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی جبکہ ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے دو دو امیدوار کامیاب ہوئے،  جی ڈی اے کے امیدوار کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔سندھ میں سینیٹ کی  11 نشستوں کے انتخابات کے غیر سرکاری نتائج سامنے آگئے ہیںجنرل نشست پر پی پی پی کی شیری رحمان، سلیم مانڈوی والا جام مہتاب ڈھر ،تاج حیدر اور شہادت اعوان کامیاب  ہوئے ،جنرل نشست پر پی ٹی آئی کے فیصل واوڈا  اور ایم کیوایم پاکستان کے فیصل سبزواری نے کامیابی حاصل کرلی جبکہ خواتین کی نشستوں پر پیپلز پارٹی کی پلوشہ خان اور ایم کیوایم کی خالدہ اطیب کامیاب  ہوئی ہیں۔اسی طرح ٹیکنوکریٹ  کی نشستوں پر پی ٹی آئی کے سیف اللہ ابڑو اور پی پی پی  فاروق ایچ نائیک کامیاب ہوگئے۔ سینیٹ الیکشن میں پیرصاحب پگارا کے چھوٹے بھائی اور جی ڈی اے رہنما پیر صدر الدین شاہ راشدی شکست کھاگئے  ۔تفصیلات کے مطابق سندھ سے سینیٹ کی گیارہ خالی نشستوں کے لئے بدھ کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کی زیر نگرانی سندھ اسمبلی میں پولنگ ہوئی جو صبح نو بجے سے لیکر شام پانچ بجے تک جاری رہی۔ سندھ سے سینیٹ الیکشن کے نتائج بڑے حیران کن ثابت ہوئے اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی کے پانچ ارکان پارٹی فیصلے سے انحراف کرگئے اور انہوں نے اپوزیشن کے امیدواروں کو ووٹ نہیں دیا۔ جنرل، خواتین اور ٹیکنوکریٹ نشستوں پر پانچ ووٹ اپوزیشن ارکان کے پیپلز پارٹی کو ملے۔الیکشن میں  167ووٹ کاسٹ کئے گئے 161 درست ووٹ قرارپائے جبکہ 6 مسترد کردیئے گئے۔تاج حیدر کو 20، جام مہتاب ڈاہر کو 19، دوست علی جیسر کو ایک، سلیم مانڈوی والا کو 20، فیصل سبزواری کو 22، پیر صدرالدین شاہ راشدی کو 15،شہادت اعوان کو 19،شیری رحمان کو 22، فیصل ووڈا کو 20ووٹ ملے۔سندھ کے سینیٹ انتخابات میں پیپلز پارٹی نے مجموعی طور پر 7 نشستوں پر فتح حاصل کی جبکہ ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے 2،2 امیدوار کامیاب ہوسکے، جی ڈی اے کے امیدوار کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، پیپلز پارٹی کے جنرل نشستوں پر 5، ٹیکنو کریٹ پر 1 اور خواتین کی 1 نشست پر امیدوار کامیاب ہوئے، تحریک انصاف نے 1 جنرل، 1 ٹیکنو کریٹ جبکہ ایم کیو ایم نے 1 جنرل اور 1 خواتین کی نشست پر کامیابی حاصل کی، اپوزیشن اپنی صفوں میں مکمل اتحاد قائم نہ رکھ سکی، تحریک لبیک کے 3 امیدواروں نے صرف ٹیکنو کریٹ پر اپنے امیدوار کو ووٹ دیا جبکہ ایم ایم اے کے فرد واحد رکن انتخابی عمل سے دور رہے، اراکین سندھ اسمبلی کی تعداد کے لحاظ سے پیپلز پارٹی جنرل نشست پر 4 جبکہ ٹیکنو کریٹ اور خواتین کی نشست پر 1،1 نشست پر کامیابی حاصل کرسکتی تھی جبکہ اپوزیشن کے پاس 3 جنرل، 1 ٹیکنو کریٹ اور 1 خواتین کی نشست پر کامیابی کے لیے مطلوبہ ارکان پورے تھے مگر منحرف ارکان کی تعداد بڑھنے کی وجہ سے پی ٹی آئی، ایم کیو ایم اور جی ڈی اے مجموعی طور پر 5 کے بجائے 4 نشستوں پر کامیابی حاصل کرسکے جبکہ پیپلز پارٹی ایک نشست کے اضافے کے بعد مجموعی طور پر 7 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ بدھ کو سندھ سے سینیٹ کی 11 نشستوں کے انتخابات کے لیے سندھ اسمبلی میں پولنگ کا آغاز صبح 9 بجے شروع ہوا جو بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہا۔ مجموعی طور پر 167 ارکان نے حق رائے دہی استعمال کیا۔ سب سے پہلے خواتین، ٹیکنو کریٹ اور پھر جنرل نشستوں پر کاسٹ کیے گئے ووٹوں کی گنتی کی گئی۔ جنرل نشست پر پیپلز پارٹی کے جام مہتاب حسین ڈھر، شیری رحمان، تاج حیدر، سلیم مانڈوی والا اور شہادت اعوان ایڈوکیٹ کامیاب ہوئے جبکہ جنرل سیٹ کی باقی 2 نشستوں پر تحریک انصاف کے فیصل واڈا اور ایم کیو ایم کے فیصل سبزواری نے فتح حاصل کی۔ شیری رحمان اور فیصل سبزواری نے پہلی ہی گنتی میں کامیابی حاصل کرلی تھی، فیصل سبزواری کو ایک ووٹ اضافی ملا۔ نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کی شیری رحمان نے 22، تاج حیدر 20، سلیم مانڈوی والا 20، جام مہتاب 19، شہادت اعوان 19، ایم کیو ایم کے فیصل سبزواری نے 22 اور تحریک انصاف کے امیدوار فیصل وائوڈا 20 ووٹ حاصل کرکے سینیٹر منتخب ہوگئے۔ جنرل نشستوں پر 6 ووٹ مسترد ہوئے۔ شکست کھانے والوں میں جی ڈی اے کے پیر صدر الدین شاہ نے 15، پیپلز پارٹی کے صادق میمن نے 2 اور دوست علی جیسر نے 1 ووٹ حاصل کیا۔ ٹیکنو کریٹ پر پیپلز پارٹی کے فاروق ایچ نائیک نے 61 اور تحریک انصاف کے سیف اللہ ابڑو نے 57 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔ پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر کریم خواجہ نے 43 اور تحریک لبیک کے امیدوار یشااللہ خان نے 3 ووٹ حاصل کیے جبکہ 3 ووٹ مسترد ہوئے۔ اس طرح ٹیکنو کریٹ پر پیپلز پارٹی نے 5 ووٹ زیادہ حاصل کیے۔ خواتین کی نشست پر 167 ارکان نے حق رائے دہی استعمال کیا جن میں سے 4 مسترد قرار دیے گئے اس طرح پیپلز پارٹی کی پلوشہ خان60 اور ایم کیو ایم کی خالدہ اطیب 57 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائیں۔ پیپلز پارٹی کی رخسانہ شاہ کو 46 ووٹ ملے۔ اس طرح پیپلز پارٹی نے 7 ووٹ زیادہ حاصل کیے۔بلوچستان میں سینٹ کے 12نشستوں میں سے حکومتی اتحادکو 8جبکہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے حمایت یافتہ 4امیدوار کامیاب ہو کر سینیٹر منتخب ہوگئے ہیں ،کل 7جنرل نشستوں پر حکومتی اتحادکے 5جبکہ اپوزیشن کے 2، ٹیکنوکریٹس اور خواتین کی دو دو نشستوں پر مقابلہ ایک ایک سے برابر رہا جبکہ اقلیتی نشست پر بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار نے کامیابی حاصل کی ۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کو بلوچستان اسمبلی کی عمارت میں سینٹ انتخابات کے لئے پولنگ کا سلسلہ صبح 9بجے شروع ہوا اور بغیر کسی وقفے کے شام 5بجے تک جاری رہا ۔ بلوچستان اسمبلی میں سب سے پہلا ووٹ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما و صوبائی وزیر زراعت انجینئر زمرک خان اچکزئی ، دوسرا ووٹ بلوچستان عوامی پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی نوابزادہ میر طارق مگسی اور تیسرا ووٹ حاجی محمد خان لہڑی نے کاسٹ کیا جبکہ خواتین میں سب سے پہلا ووٹ پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات بشری رند نے جبکہ آخری ووٹ بلوچستان نیشنل پارٹی کے میر حمل کلمتی نے استعمال کیا ۔ بلوچستان میں سینٹ کی 12نشستوں کے لئے کل 28امیدواران کے درمیان مقابلہ ہوا ،7جنرل نشستوں کے لئے 15 امیدواران ، 2ٹیکنوکریٹ سیٹوں کے لئے 4، خواتین کی 2نشستوں کے لئے 7جبکہ اقلیت کے ایک نشست کے لئے 4امیدوار میدان میں تھے ۔ جنرل نشستوں پر بلوچستان عوامی پارٹی کے 4امیدوار پرنس آغا عمر احمد زئی ، میر سرفراز بگٹی ، عبدالخالق اچکزئی اور منظور احمد کاکڑ جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے ساجد ترین ایڈووکیٹ اور محمد قاسم رونجھو، جمعیت علما اسلام کے مولانا غفور حیدری اور خلیل بلیدی ، عوامی نیشنل پارٹی کے ارباب عمر فاروق کاسی ، جمہوری وطن پارٹی کے محمد جواد ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے عثمان کاکڑ اور حکومتی اتحاد کا حمایت یافتہ آزاد امیدوار عبدالقادر کے درمیان مقابلہ ہوا۔پریزائیڈنگ آفیسر محمد رزاق بلوچ کے مطابق جنرل نشستوں پر حکومتی اتحاد کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار عبدالقادر گیارہ ، جمعیت علما اسلام کے مولانا غفور حیدری 9،بلوچستان نیشنل پارٹی کے محمد قاسم رونجھو9،بلوچستان عوامی پارٹی کے منظور احمد کاکڑ ،سرفراز بگٹی ،پرنس آغا عمر احمدزئی اور عوامی نیشنل پارٹی کے ارباب عمر فاروق کاسی نے آٹھ آٹھ ووٹ لے کامیاب قرار پائے ۔ اسی طرح ٹیکنوکریٹ کی 2نشستوں پر جمعیت علما اسلام کے کامران مرتضی ایڈووکیٹ ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے ساجد ترین ایڈووکیٹ ، بلوچستان عوامی پارٹی کے سعید ہاشمی اور نوید جان کے درمیان مقابلہ ہواجن میں سے جمعیت علما اسلام کے کامران مرتضی ایڈووکیٹ نے 23اور بلوچستان عوامی پارٹی کے سعید ہاشمی نے 21ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے ۔ اس کے علاوہ خواتین کی 2نشستوں پرجمعیت علما اسلام کی آسیہ ناصر ، عوامی نیشنل پارٹی کی بینش سکندر مسیح ، بلوچستان عوامی پارٹی کی ثمینہ ممتاز اور کاشفہ گچگی ، بلوچستان نیشنل پارٹی کی طاہرہ جتک اور شمائلہ اسماعیل کے علاوہ گزشتہ روز بی این پی میں شمولیت اختیار کرنے والی آزاد امیدوار نسیمہ احسان شاہ کے درمیان مقابلہ ہوا ۔ جن میں بلوچستان عوامی پارٹی کی امیدوار ثمینہ ممتاز نے 27اور گزشتہ روز بی این پی میں شمولیت اختیار کرنے والی نسیمہ احسان نے 21ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔ دریں اثنا اقلیتی نشست کے لئے عوامی نیشنل پارٹی کے بینش سکندر ، بلوچستان عوامی پارٹی کے دھنیش کمار ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سنیل کمار اور جمعیت عللما اسلام کے ہیمن داس کے درمیان مقابلہ ہوا جس پر بلوچستان عوامی پارٹی کے دھنیش کمار 40ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے اور اس کے مدمقابل جمعیت علما اسلام کے امیدوار ہیمن داس 25ووٹ لے کر دوسرے نمبرپر رہے ۔سینٹ انتخابات کے موقع پر کوئٹہ شہر میں سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے بلکہ سرکاری میڈیا کے علاوہ کسی بھی چینل اور اخبارکے نمائندے کو اسمبلی عمارت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی جس کی وجہ سے میڈیا نمائندوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے بلوچستان اسمبلی کی عمارت کے باہر کھڑے ہو کر سینٹ انتخابات کی کوریج کی ۔خیبر پختون خوا میں حکمران جماعت نے سینیٹ انتخاب کا معرکہ اپنے نام کرلیا۔کے پی کے  میں سینیٹ کی 12نشستوں  پر ہونے والے انتخاب  میں 10 ن نشستیں حکمران جماعت نے حاصل کرلیں۔ جنرل نشست پر پاکستان تحریک انصاف کے شبلی فراز، محسن عزیز، لیاقت ترکئی، فیصل سلیم، ذیشان خانزادہ کامیاب ہوئے اور 7 جنرل نشستوں میں سے پانچ حاصل کیں۔دوسری دو جنرل نشستوں پر  جے یو آئی ف کے عطا الرحمن اور عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار ہدایت اللہ کامیاب ہوئے۔ٹیکنوکیٹ نشست پر پاکستان تحریک انصاف کے دوست محمد محسود اور ہمایوں خان کامیاب رہے اور خواتین کی نشست پر تحریک انصاف کی ثانیہ نشتر اور فلک ناز کامیاب قرار پائیں ۔ثانیہ نشتر نے 56جبکہ فلک ناز نے 51ووٹ حاصل کئے ۔جماعت اسلامی کی عنایت نسیم 36ووٹ لے پائیں ۔ ۔  اقلیت کی نشست پی ٹی آئی کے گل دیب سنگھ نے جیت لیں.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.