‘فیفا’ نے پاکستان فٹ بال فیڈریشن(پی ایف ایف) کی رکنیت معطل کر دی

پاکستان فٹ بال فیڈریشن کی رکنیت معطل

زیورخ(ویب  نیوز)فٹبال کی عالمی تنظیم ‘فیفا’ نے پاکستان فٹ بال فیڈریشن(پی ایف ایف) کی رکنیت معطل کر دی۔فیفا کے جاری بیان کے مطابق عالمی تنظیم کی کونسل نے یہ قدم پاکستان میں دو فٹ بال ایسوسی ایشن کے درمیان جاری تنازع کی وجہ سے اٹھایا۔فیفا کونسل کے بیورو نے جاری بیان میں کہا کہ پاکستان فٹ بال فیڈریشن (پی ایف ایف) کی رکنیت اس کے معاملات میں تیسرے فریق کی مداخلت کے باعث فوری طور پر معطل کی گئی، جو فیفا کے آئین کی صریح خلاف ورزی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ صورت حال ایسے وقت میں پیدا ہوئی جب پی ایف ایف کے لاہور میں قائم ہیڈ کوارٹر پر احتجاج کرنے والے ایک گروہ نے قبضہ کرلیا اور انہوں نے ہارون ملک کی صدارت میں قائم پی ایف ایف کی نارملائزیشن کمیٹی، جو فیفا کی جانب سے قائم کی گئی تھی، کو ہٹا کر پی ایف ایف کے معاملات سید شفقت حسین شاہ کے حوالے کردیئے گئے۔علاوہ ازیں بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان فٹبال فیڈریشن کی معطلی کی وجہ پی ایف ایف ہیڈ کوارٹر پر قبضہ بنی اور پاکستان فٹبال فیڈریشن نارملازیشن کمیٹی کو اختیارات کی واپسی تک پاکستان کی رکنیت معطل رہے گی۔خیال رہے کہ اس سے قبل فیفا کے ایک انتباہی خط میں خبردار کیا گیا تھا کہ پی ایف ایف ہیڈ کوارٹر پر ہونے والا قبضہ ختم کیا جائے اور فیفا کے دیئے گئے مینڈیٹ کے مطابق دفتر کو چلانے دیا جائے بصورت دیگر یہ معاملہ فوری طور پر بیورو آف فیفا کونسل کے سامنے فیصلے کے لیے رکھا جائے گا۔تاہم صورت حال تبدیل نہ ہوئی جس پر فیفا نے پی ایف ایف کی رکنیت کو معطل کردیا۔فیفا کے جاری حالیہ بیان کے مطابق پاکستان کی رکنیت اس وقت تک معطل رہے گی جب تک کونسل کو نارملائزیشن کمیٹی کی جانب سے یہ تصدیق نہیں کردی جاتی کہ پی ایف ایف کی عمارت، اکاونٹس، انتظامیہ اور مواصلاتی نظام کو ان افراد کے حوالے نہیں کردیا جاتا جن کو فیفا کے تحت اس کا مینڈیٹ حاصل ہے۔علاوہ ازیں فیفا نے افریقی ملک چاڈ کی فٹ بال ایسوسی ایشن(ایف ٹی ایف اے) کی رکنیت بھی معطل کردی۔فیفا کے جاری بیان کے مطابق فیفا کی بیورو کونسل نے یہ فیصلہ چاڈ کی فٹ بال ایسوسی ایشن (ایف ٹی ایف اے) کے معاملات میں حکومت کی مداخلت پر کیا ہے اور اس کا اطلاق فوری ہوگا۔فیفا کا مزید کہنا تھا کہ چاڈ کی رکنیت معطل کرنے کا فیصلہ حال ہی میں یہاں کے حکومتی حکام کی جانب سے ‘ایف ٹی ایف کے’ کے اختیارات مکمل طور پر ختم کرنے کے اعلان کے بعد کیا گیا، مذکورہ اعلان کی روشنی میں نیشنل کمیٹی کو فٹ بال ایسوسی ایشن کے معاملات عارضی طور پر سونپ دیئے گئے ہیں جبکہ ایف ٹی ایف اے کی عمارت کا کنٹرول بھی کمیٹی کے حوالے کردیا گیا۔فٹ بال کی عالمی تنظیم کے مطابق چاڈ کی فٹ بال ایسوسی ایشن کی رکینیت اس وقت تک معطل رہے گی جب تک مقامی حکومت یہ اعلان نہ کردے کہ ایف ٹی ایف اے کو صدر موختر محمود حامد کی صدارت میں دوبارہ بحال کردیا گیا ہے اور وہ فیفا کو اس حوالے سے آگاہ کریں گے کہ ان کو ایف ٹی ایف اے کی عمارت کا کنٹرول دوبارہ سونپ دیا گیا ہے۔فیفا نے ستمبر 2019 میں پی ایف ایف کی نارملائزیشن کمیٹی کا تقرر کیا تھا، پی ایف ایف کے متنازع انتخابات کے تقریبا 4 سال بعد ہی پاکستان فٹ بال مسائل سے دوچار ہو گئی، اس دوران اس وقت کے صدر فیصل صالح حیات کی جگہ عدالت کے مقرر کردہ ایڈمنسٹریٹر کو پی ایف ایف ہیڈ کوارٹرز کا انتظام سونپنے پر فیفا نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کو اکتوبر 2017 سے مارچ 2018 تک 6 ماہ کے لیے معطل کردیا تھا۔پی ایف ایف کی نارملائزیشن کمیٹی کے تقرر کے بعد اس کی صدارت حمزہ خان کے سپرد کی گئی تھی تاہم گزشتہ سال دسمبر میں انہوں نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا جس کے بعد منیر سدھانا کو قائم مقام چیئرمین مقرر کیا گیا تھا، اس سال جنوری میں ہارون ملک کو پی ایف ایف کی نارملائزیشن کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر نامزد کیا گیا تھا کیونکہ فیفا نے ابتدائی طور پر مقرر کردہ کمیٹی کے تمام اراکین کو تبدیل کردیا۔انچارج کی حیثیت سے منیر سدھانا نے حمزہ کے تمام فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا تھا یعنی ہارون اور ان کی کمیٹی کو شروع سے ہی کام کا آغاز کرنا پڑا، رواں سال 30 جون تک مینڈیٹ سونپ جانے کے بعد ہارون نے رواں ماہ کے اوائل میں اعلان کیا تھا کہ وہ اپریل تک انتخابی روڈ میپ دیں گے۔واضح رہے کہ فیفا کی معطلی سے پاکستان بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت سے محروم ہوگیا ہے کیونکہ فیفا صرف ایک فیڈریشن کو تسلیم کرتا ہے جسے فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی تسلیم کرتی ہے۔بدھ کے واقعات نے طویل عرصے سے جاری بحران میں اضافہ کردیا ہے جہاں 2003 سے پی ایف ایف کے صدر کے منصب پر موجود فیصل صالح حیات کے 2015 کے انتخابی تنازع کے بعد سے پاکستان فٹبال مسائل سے دوچار ہے۔ان انتخابات کے بعد پی ایف ایف دو دھڑوں میں تقسیم ہوگیا تھا، ایک حیات کی زیر سربراہی اور دوسرا سینئر نائب صدر ظاہر علی شاہ کی سربراہی میں کام کررہا تھا اور اس کے دو سال بعد جب لاہور ہائیکورٹ نے پی ایف ایف کے امور چلانے کے لیے ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا تھا تو فیفا نے پاکستان پر پابندی عائد کردی تھی۔اگرچہ فیصل صالح حیات کو صدر کے عہدے پر بحال کر دیا گیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ پنجاب فٹ بال ایسوسی ایشن (پی ایف اے) کے انتخاب کے بعد پی ایف ایف کے تازہ انتخابات کروائے جائیں جو پی ایف ایف میں پھوٹ پڑنے کا سبب بنے تھے۔سپریم کورٹ کی جانب سے کرائے گئے پنجاب فٹبال ایسوسی ایشن کے انتخابات میں اپنے امیدوار سردار نوید حیدر خان کی کامیابی کے بعد فیصل صالح حیات کو اس نتیجے پر کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن پی ایف ایف انتخابات میں تازہ ڈرامہ رونما ہونے والا تھا۔انتخابات سے قبل سردار نوید نے فیصل صالح حیات کا ساتھ چھوڑتے ہوئے ظاہر علی شاہ کا ہاتھ تھام لیا تھا جس کے نتیجے میں اشفاق پی ایف ایف کے سربراہ منتخب ہو گئے تھے البتہ فیصل صالح حیات نے سپریم کورٹ کی جانب سے کرائے گئے انتخابات کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اسے پی ایف ایف کے معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا۔اس کے نتیجے میں فیفا نے نارملائزیشن کمیٹی کا تقرر کیا تھا جس کے بعد اشفاق اور ظاہر کی راہیں جدا ہو گئی تھیں اور اس کا مطلب یہ تھا کہ پی ایف ایف پر قبضے کے لیے تین گروپس کوششوں میں مصروف تھے۔

#/S