لانگ مارچ اسلام آباد یا راولپنڈی ، کس طرف ہوگا، فیصلہ ہونا باقی ہے۔ مولانا فضل الرحمن

لانگ مارچ اسلام آباد یا راولپنڈی ، کس طرف ہوگا، فیصلہ ہونا باقی ہے۔ مولانا فضل الرحمن

گیٹ نمبر بھی ہم نے طے کرنا ہے۔19 جنوری کو الیکشن کمیشن کے سامنے  مظاہرہ کا اعلان

نیب کے سامنے بھی احتجاج کریں گے۔عمران خان کے اصل پشتی بان تنقید کا نشانہ بن سکتے

پی ڈی ایم کے سربراہ کی پریس کانفرنس

لاہور(ویب ڈیسک )پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے غیر معمولی اعلان کیا ہے کہ لانگ مارچ کے بارے میں ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے کہ رخ اسلام آباد کی طرف ہوگا یا راولپنڈی کی طرف،گیٹ نمبر بھی ہم نے طے کرنا ہے۔19 جنوری کو الیکشن کمیشن کے سامنے 11 جماعتوں کے اتحاد کا احتجاجی مظاہرہ ہوگا۔نیب کے سامنے بھی احتجاج کریں گے۔عمران خان کے اصل پشتی بانوں  کو تنقید کا نشانہ بنا  سکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار  انھوں نے جمعہ کو پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے سربراہی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔  مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے تمام استعفے پارٹی قیادت کے پاس پہنچ چکے ہیں۔حکومت کے پاس 31جنوری تک کی مہلت ہے ،اس کے بعد فیصلہ کریں گے کہ ہم نے لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف کرنا ہے یا راولپنڈی کی طرف ۔  مو لانا فضل الرحمان نے کہا کہ میڈ یا سے گزارش کروں گا کہ جمہوریت کے لیے اٹھنے والی آواز کو قوم تک پوری طاقت کے ساتھ پہنچا ئے ۔ حکومت کے پاس ایک مہینے کی مدت ہے اس کے بعد میں لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کریں گے ۔ پی ڈی ایم قیادت اس بات پر متفق ہے کہ پاکستان کو ڈیپ سٹیٹ بنا کر اسٹیبلشمنٹ نے پورے نظام کو یرغمال بنا لیا ہے ،عمران خان صرف ایک مہرہ ہے جس کے لیے دھاندلے کرنے والوں پر تنقید ہو گی ۔  19جنوری کو الیکشن کمیشن کے سامنے پی ڈی ایم مظاہرہ کرے گی اور نیب دفاتر کے سامنے بھی مظاہرے کرنے کا شیڈول طے کیا جا ر ہا ہے ۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نیب کو حزب اختلاف کے خلاف استعمال کرنے کے لیے بنا یا گیا ہے ،یہ احتساب نہیں بلکہ انتقام ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اتحاد پہلے سے زیادہ مضبوط ہے اور قوم کو اس ناجائز حکومت سے خلاصی کے لیے پرعزم ہے اور ہم اسٹبلشمنٹ کو دھاندلی کا مجرم سمجھتے ہیں۔  تمام مسائل انتہائی سنجیدہ اور گہرے تجزیے کے ساتھ زیر بحث آئے۔ آئے روز ایک خاص مہم جوئی کے تحت میڈیا پر پی ڈی ایم میں اختلاف کی خبریں پھیلائی جاتی ہیں آج وہ سب دم توڑ چکی ہیں اور پی ڈی ایم پہلے سے زیادہ مضبوط نظر آئے ہے۔پی ڈی ایم مستقبل اس ناجائز حکومت سے قوم کی جان خلاصی کے لیے پہلے سے زیادہ پرعزم نظر آئی ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ میڈیا سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ یہاں ہر طبقہ مظلوم ہیں اور اسی طرح میڈیا بھی مظلوم ہیں اور ہم میڈیا کے مظلوم کے طبقے کے ساتھ کھڑے ہیں اس لیے انہیں بھی احساس ہونا چاہیے کہ پاکستان میں جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے اٹھنے والی آواز کو پوری قوت کے ساتھ قوم تک پہنچائے۔ان کا کہنا تھا کہ پچھلے اجلاس میں کہا تھا کہ 31 دسمبر تمام اراکین اسمبلی اپنے استعفے پارٹی قیادت تک پہنچائیں گے اور سب نے اجلاس میں رپورٹ دی کی سب کے استعفے قیادت تک پہنچ گئے ہیں اور ایک ہدف مکمل ہوگیا ہے۔ ضمنی انتخابات میں حصہ لیں گے  سینیٹ انتخابات کے بارے ابھی فیصلہ کرنا باقی ہے  ‘ہم نے کہا تھا کہ 31 جنوری تک حکومت کو مستعفی ہونے کی مہلت ہے اور آج پھر اس کا اعادہ کرتے ہیں کہ حکومت کے پاس ایک مہینے کی مدت ہے، اس کے بعد پی ڈی ایم کی قیادت لانگ مارچ اور اس کی تاریخ کا اعلان کرے گی۔ ہماری تنقید کا رخ اب ان کی طرف برملا ہوگا اور اب ان کو سوچنا ہے کہ پاکستان کی سیاست پر اپنے پنجے گاڑھنے کا فیصلہ کرتے ہیں یا اس سے دست بردار ہو کر اپنی آئینی ذمہ داریوں کی طرف جاتے ہیں’۔پی ڈی ایم کے سربراہ نے کہا کہ ‘ہم بڑی وضاحت کے ساتھ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر رہے ہیں، فوج ہماری فوج ہے، ہم اس کو اپنی فوج سمجھتے ہیں، ہم تمام جرنیلوں کا احترام کرتے ہیں، یہ ہماری دفاعی قوت ہے۔وہ بھی اپنے فرض تک محدود رہیں ۔ اس موقع پر ایک سوال کے جواب میں مریم نوازشریف نے کہا ان کی جماعت کے  قومی و صوبائی اسمبلیوں  کے تمام ارکان استعفے ان کے پاس پہنچ گئے ہیں

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.