مشترکہ مفادات کونسل میں مردم شماری کے  نتائج پر اختلافات برقرار

مشترکہ مفادات کونسل میں مردم شماری کے  نتائج پر اختلافات برقرار

سی سی آئی کا مستقل سیکرٹریٹ قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا

اسلام آباد (ویب  نیوز)مشترکہ مفادات کونسل کے  اجلاس میں قومی مردم شماری کے نتائج پر اتفاق رائے نہ ہوسکا، اختلافات برقرارہیں، پیر کوورچوئل اجلاس بلانے  کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سی سی آئی کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کا  فیصلہ کرلیا گیا ۔ طویل مدت سے آئینی تقاضے سے انحراف کیاجا رہا تھا  آئین کے تحت  سی سی آئی کا مستقل سکریٹریٹ قائم کیا گیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا 44 واں اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔ وزرائے اعلیٰ اور متعلقہ  وزراء اور حکام شریک ہوئے  جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 154 (3) کے تحت مشترکہ مفادات کونسل کا مستقل سیکرٹریٹ قائم  کیا جائے گا ،18ویں ترمیم کے بعد پہلی حکومت ہے جس کے دور میں سیکرٹریٹ کے قیام میں پیشرفت  ہونے جارہی ہے۔اجلاس میں نیپرا کی سالانہ رپورٹ کو 2019-20 اور اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2020 کی منظوری دی گئی۔ سی سی آئی نے پیٹرولیم (ریسرچ اینڈ پروڈکشن) پالیسی 2012 میں ترمیم کی منظوری دے دی۔ اجلاس کے آغاز میں  سی سی آئی کے  سابقہ  فیصلوں پر عملدرآمد کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ مردم شماری -2017 کے نتائج  کے باضابطہ اجراء اور  اس معاملے پر حتمی فیصلہ کے لئے پیرکوورچوئل میٹنگ کا فیصلہ کیا گیا۔ سی سی آئی کے 43 ویں اجلاس کی ہدایت کے مطابق  نیپرا کی سالانہ رپورٹ 2018-19 اور اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ  2019 میں  صوبوں کے مشاہدات کو شامل کرتے ہوئے  رپورٹوں کو منظور کیا گیا ہے ۔مائع قدرتی گیس ( ایل این جی) کی درآمد اور آئین کے آرٹیکل 158 اور 172 (3) کے نفاذ کے معاملے پر ، وزیر برائے منصوبہ بندی ، وزیر توانائی اور ایس اے پی ایم پر مشتمل کمیٹی برائے کمیٹی برائے بجلی و پٹرولیم کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ صوبوں  سے مشاورت کی جائے گی تاکہ مقامی گیس کے ذخائر اور گھریلو گیس کی ضروریات  سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مستقبل کی حکمت عملی پر  اتفاق رائے پیدا ہوسکے۔اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن  ملک میں اعلی تعلیم کے حوالے سے واحد معیاری ترتیب دینے والا قومی ادارہ ہوگا۔ ایچ ای سی صوبوں کے ساتھ بہتر نمائندگی اور ہم آہنگی کے لئے اپنے علاقائی مراکز کو مستحکم کرے گی۔ ملک بھر میں کاروباری معیار اور معیار سے متعلق پالیسی میں  ہم آہنگی کو مزید بہتر بنانے کیلئے  فیصلہ کیا گیا کہ صوبے اپنے معیارات کو کالعدم قرار دے کر پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے طے شدہ معیار کا اختیارکریں گے۔ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ معیارات کے مطابق ، معیاری لیبلنگ اور سرٹیفیکیشن مارکس علامت (لوگو)  پی ایس کیو سی اے کا خصوصی ڈومین رہے گا۔ 25 ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں / وفاقی علاقوں میں زکوتہ فنڈز کی تقسیم کے معاملے پر فارمولے پر اتفاق کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ سابقہ  فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے بعد قبائلی اضلاع کیلئے بھی  فنڈز مختص کیے جائیں گے۔ متفقہ فارمولہ کے تحت  فنڈضم شدہ اضلاع کے مستحق لوگوں میں تقسیم کے لئے صوبہ خیبرپختونخوا کو منتقل کیا جائے گا۔  ذرائع کے مطابق مردم شماری کے نتائج پر وفاق اور صوبوں میں اختلافات برقرار ہیں بالخصوص  سندھ نے ایک بار پھر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔