نیب کی جانب سے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف  اور  ان کے بچوں کے خلاف  ریفرنس دائر کیا جاچکا، شہزاد اکبر

اسلام آباد(صباح نیوز)

ریفرنس میں 16 افراد نامزد ہیں، چار کا تعلق  شہباز شریف خاندان سے ہے

میڈیا پر صفائی  دینے والے عدالت میں صفائی پیش کریں

 شہباز شریف سچے ہیں تو میرے سوالوں کاجواب کیوں نہیں دیتے،مشیر داخلہ کی پریس کانفرنس

 مشیر داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ نیب کی جانب سے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف  اور ان کے  بچوں کے خلاف  ریفرنس دائر کیا جاچکا ہے ریفرنس میں 16 افراد نامزد ہیں، چار کا تعلق  شہباز شریف خاندان سے ہے ، میڈیا پر صفائی  دینے والے عدالت میں صفائی پیش کریں ۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس  کرتے ہوئے مشیر داخلہ نے کہاکہ ریفرنس  میں نامزد10 لوگ ایسے ہیں جو منی لانڈرنگ کے نیٹ ورک کو چلانے میں ان کی معاونت کرتے رہے چار افراد جرم تسلیم کرتے ہوئے سلطانی گواہ بن گئے، تین کمپنیاں بھی  منی لانڈرنگ نیٹ ورک کا حصہ ہیں ان میں  گڈ نیچر ٹریڈنگ کمپنی پرائیویٹ  لمیٹڈ  ہے یہ کمپنی  نثار گل اور علی احمد کے نام پر بنائی گئی۔نثار گل 10 سال  سی ایم ہائوس میں شہباز شریف  کے ڈائریکٹر  پولیٹیکل افیئر رہے علی احمد ڈائریکٹر اسٹرٹیجک رہے نثار احمد گل زیر حراست  ہیں علی احمد  ابھی تک اشتہاری ہیں  اس کیس میں اربوں روپے کی منی لانڈرنگ  ہوئی دوسری بے نامی کمپنی  یونی ٹاس اسٹیل کے نام سے ہے اس میں بھی یہ دو اشخاص   اور تیسرا شخص طاہر نقوی  جو  شریف گروپ آف کمپنی میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہے اس کے نام پر  تھی تیسری بے نامی کمپنی نثار ٹریڈنگ   کنسرن ہے یہ کمپنی  اہم اس لئے  ہے کہ یہ کمپنی راشد  کرامت کے نام رجسٹرڈ  ہے راشد کرامت شریف آف گروپ کمپنی میں 20ہزار تنخواہ  پر ، پرچیز اسسٹنٹ  ہے اور اربوں روپیہ اس کے اکائونٹ میں آرہا ہے صرف یہ کمپنی ہے جو ریفرنس کا حصہ بنی ہے اس کمپنی میں کک بیک اور کمیشن بھی وصول کیے  جاتے تھے ۔ جب پنجاب میں ان کی حکومت تھی  تو مختلف ٹھیکیداروں اور مختلف پارٹی کے لوگوں سے پیسہ وصول  کیا جاتا رہا۔ کہتے یہ ہیںکہ ہم  نے پارٹی ٹکٹ کیلئے پیسے  دئیے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے  آپ  نے اگر پارٹی ٹکٹ کے لئے  یا کوئی عہدہ  لینے کیلئے پیسے دئیے تو وہ نثار ٹریڈنگ  کنسرن کے اندر کیوں جمع ہورہے  ہیں وہ ن لیگ کے پارٹی فنڈ میں کیوں جمع نہیں ہورہے ۔ دوسرا سوال  یہ پیدا ہوتاہے کہ ن لیگ کے اندر پیسے لے کر عہدے دئیے جاتے ہیں چاہے وہ سرکاری ہوں یا پارٹی عہدے ہوں 177 جعلی ٹی ٹیزرریفرنس کا حصہ ہیں۔ حمزہ شہباز  کے اکائونٹ میں آنے والی رقوم کی تفصیل بھی ریفرنس میں درج ہے ۔ شہزاد اکبر نے کہاکہ تفصیلی تحقیق پر نیب کی ٹیم کو کریڈٹ  جاتا ہے انہوں نے اپنے 11ملازمین کے بینک اکائونٹس کو استعمال کرکے ساڑھے نو ارب روپے  کی منی لانڈرنگ  کی ۔ یہ صرف  ایک تحقیقاتی  رپورٹ ہے جیسے جیسے معاملات کھلتے جائیں گے مزید اربوں روپے کی منی لانڈرنگ سامنے آئے گی ۔ یہ ساڑھے 9 ارب براہ راست  شریف خاندان سے منسلک ہیں ملک مقصود شریف گروپ آف کمپنی  میں  چپڑاسی  ہیں ان کی ماہانہ تنخواہ 16000روپے  ہے 2016-17 میں صرف دوسالوں میں ان کے اکائونٹ میں 2.3 ارب روپیہ نکالا اور ڈالا گیا ۔ اظہر عباس  شریف گروپ آف کمپنی میں کلرک ہیں ان کی 9000 روپے تنخواہ ہے انہوں نے 2011  میں ان کی کمپنی  میں ملازمت اختیار کی اس کے اکائونٹ میں 1.2 ارب روپے  کی منی لانڈرنگ  ہوئی ۔ تیسرے غلام شبر  بھی کلرک ہیں ۔ 2012 سے 2014 تک 1.1 ارب روپے کی منی لانڈرنگ ان کے اکائونٹ  میں ہوئی چوتھے حضر حیات نذر رمضان شوگر مل میں اسسٹنٹ اکائونٹنٹ ہیں جن کی ماہانہ تنخواہ 38000  روپے ہے ان کے اکائونٹ میں 2010  سے 2014 تک 1.4 ارب  کی منی لانڈرنگ ہوئی پانچویں محمد انوار ہیں یہ بھی شریف گروپ  آف کمپنی میں چپڑاسی  ہیں ان کے اکائونٹ  میں  880 ملین کی منی لانڈرنگ ہوئی ۔ چھٹے اقرار حسین یہ رمضان شوگر مل میں اکائونٹ کلرک ہیںساڑھے چھ  سوملین کی  منی لانڈرنگ  تین سالوں میں ہوئی  تنویر الحق آئی ٹی برانچ میں کلرک ہیں ان کے اکائونٹ  سے 512 ملین کی منی لانڈرنگ ہوئی۔ توقیر الدین اسلم منیجر سیل  ہیں ان کے اکائونٹ  سے 480 ملین کی  منی لانڈرنگ  ہوئی ۔ 4 پیپرز کمپنیاں توقیر کے نام رجسٹرڈ  ہیں گلزار احمد خان کے اکائونٹ سے 425 ملین کی منی لانڈرنگ  ہوئی  ۔ سرور انور رئیڈر ہیں ان کے اکائونٹ  سے 230 ملین لانڈرنگ   کی گئی ۔ رانا وسیم منیجر آئی ٹی ان کے اکائونٹ سے 250 ملین کی منی لانڈرنگ کی جاتی ہے ان کے  گروپ کے ملازمین کا یہ صرف 11اکائونٹس کاساڑھے 9 ارب روپیہ  کا حساب ہے ایف آئی اے شوگر کمیشن رپورٹ کے سلسلے میں تحقیقات کررہی  ہے منظم گینگ نے منظم طریقے سے  منی لانڈرنگ کی۔میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے  کہا کہ میڈیا پر صفائی دینے والے عدالت میں صفائی پیش کریں ۔ شہباز شریف سچے ہیں تو میرے سوالوں کاجواب کیوں نہیں دیتے۔انہوں نے دعوی کیا کہ ان کی امپورٹڈ لینڈ کروزر کی کسٹم ڈیوٹی انہیں جعلی اکانٹس سے ادا کی گئی، ڈی ایچ اے فیز 5 لاہور میں دو مختلف گھر خریدے گئے اور ان کی ادائیگی بھی ان جعلی غیرملکی ترسیلات سے کی گئی اور اس کے علاوہ وسپرنگ پائن میں ولاز ہیں وہ بھی انہوں نے اپنی بیوی کو تحفے میں دیے ہیں جس کی ادائیگی بھی اسی سے کی گئی ہے۔

am-auz-mz

#/S

Editor

Next Post

نوازشریف کے کسی نمائندے نے آرمی چیف سے ملاقات نہیں کی، مریم نواز

بدھ ستمبر 23 , 2020
اسلام آباد (ویب ڈیسک) جی ایچ کیو میں ہونے والے ڈنر کا علم نہیں لیکن میں سمجھتی ہوں کہ جس ایشو پر بلایا گیا تھا وہ گلگت بلتستان کا معاملہ تھا فیصلے پارلیمنٹ میں ہونے چاہئیں،جی ایچ کیو میںنہیں ،نواز شریف کی صحت آپریشن کی متقاضی ہے جب تک کوروناوائرس […]