پاکستان میں گندم کی اوسطا  پیداوار 29من فی ایکٹر، چاول 50من،  گنا 656من 

پاکستان میں گندم کی اوسطا  پیداوار 29من فی ایکٹر، چاول 50من،  گنا 656من

بھارت میں گندم 51من، چاول64، گنے کی پیداوار اوسطا 796من  ہے۔

پاکستانی کسان کو دیگر ممالک کے مقابلے میں کم  حکومتی معاونت میسر ہے وزیراعظم کو بریفنگ

وزیراعظم کی سربراہی میں زرعی شعبے کے فروغ کے  لئے  قومی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ

اسلام آباد (ویب  نیوز) پاکستان میں گندم کی اوسطا  پیداوار 29من فی ایکٹر، چاول 50من، مکئی57من، کاٹن18 اور گنے کی پیداوار 656من  ہے ۔بھارت میں یہ پیداوار بالترتیب گندم 51من، چاول64، مکئی42، کاٹن 18جبکہ گنے کی پیداوار اوسطا 796من  ہے۔پاکستانی کسان کو دیگر ممالک کے مقابلے میں کم  حکومتی معاونت میسر ہے وزیراعظم کی سربراہی میں زرعی شعبے کے فروغ کے  لئے  قومی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ۔ وزیراعظم عمران خان  کی زیر صدارت پیر کو یہاں  ملک کے زرعی شعبے کی بحالی کے حوالے سے اصلاحات پر جائزہ اجلاس ہوا۔نجی شعبے کے نمائندگان بھی شریک تھے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ملکی مجموعی پیداوار میں زرعی شعبے کا حصہ موجود استعداد سے کم ہے۔ اسی طرح گندم چاول، مکئی، کپاس اور گنے کی پیداوار بھی خطے کے مقابلے میں کم ہے۔  موثر حکمت عملی اورکسانوں کو مالی و تکنیکی معاونت کی فراہمی سے زرعی پیداوار کے تناسب کو سال 2031تک 74ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ سال 2020 میں ملکی مجموعی پیداوار میں زرعی شعبے کا حصہ49ارب ڈالر رہا جس میں اکتیس ارب ڈالر لائیو سٹاک، ایک ارب فشریز جبکہ سترہ ارب ڈالر زرعی فصلوں کی مد میں ریکارڈ کیا گیا۔ سال2000میں یہ حصہ بیس ارب ڈالر تھا جس میں دس ارب ڈالر لائیوسٹاک جبکہ فصلوں کا حصہ دس ارب ڈالر تھا۔ اس اعتبار سے گذشتہ بیس سالوں میں زرعی فصلوں کی پیداوار میں صلاحیت کے مطابق استعداد کو برؤے کار نہیں لایا جا سکا۔ مختلف اجناس کے حوالے سے بتایا گیا کہ گندم کی فصل میں ملکی اوسطا  پیداراو 29من فی ایکٹر، چاول 50من، مکئی57من، کاٹن18 اور گنے کی پیداوار 656من رہی ہے جبکہ بھارت میں یہ پیداوار بالترتیب گندم 51من، چاول64، مکئی42، کاٹن 18جبکہ گنے کی پیداوار اوسطا 796من رہی ہے۔ ملک میں پراگریسیو کسان کی اوسطا پیداوار گندم 45من فی ایکڑ، چاول80من، مکئی، 80من، کاٹن 35 من جبکہ گنا میں اوسطا پیداوار 950من ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت کسان کو فی ایکڑ140ڈالر ایگری کریڈٹ دستیاب ہے جبکہ بھارت میں یہ 369ڈالر، امریکہ میں 192جبکہ چین میں 628ڈالر میسر آ رہا ہے۔ اسی طرح سبسڈی کی مد میں بھی ہمارے کسان کو دیگر ممالک کے مقابلے میں کم معاونت میسر ہے جو کہ اوسطا 27ڈالر فی ایکڑ ہے۔ اجلاس کو زرعی شعبے میں موجود استعداد کو  بروئے کار لانے کے حوالے سے مجوزہ ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان 2021پر تفصیلی  بریفنگدی گئی  وزیرِاعظم کو پیش کردہ ایگری کلچر ٹرانسفارمیشن پلان کے پہلے مرحلے میں بیج سیکٹر میں اصلاحات، ڈیجیٹل سبسڈی کا نظام متعارف کرانے، مشینری کے استعمال کے فروغ، پانی کا موثر استعمال، کاشتکاروں کو کریڈٹ کی فراہمی، ایکسٹینشن سروسز کی تنظیم نو، سٹوریج کی سہولیات اور تحقیقاتی شعبوں میں اصلاحاتی پروگرام متعارف کرانے سمیت آٹھ بڑے اقدامات کی نشاندہی  کی گئی ۔ پلان کے تحت کپاس، زیتون، مال مویشیوں میں جنیٹک امپروومنٹ اور فشریز (ماہی گیری) کو ترجیحاتی شعبے کے طور پر لیا جائے گا۔ مندرجہ بالا شعبہ جات میں اصلاحات پر عمل درآمد کے حوالے سے مجوزہ ٹائم لائنز وزیرِ اعظم کو پیش  کی گئیںَ کسانوں کو ٹارگیٹیڈ سبسڈی کی فراہمی کے لئے ڈیجیٹل طریقہ کار پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ موجود اعداد وشمار کے مطابق صوبہ پنجاب میں 67فیصد کسانوں  تقریبا سینتیس لاکھ کا ڈیٹا موجود ہے۔ جن میں سے اٹھارہ لاکھ کسان کسی نہ کسی صورت میں ڈیجیٹل نظام سے سروسز استعمال کر چکے ہیں۔ نو لاکھ کسانوں کو سبسڈی فراہم کی گئی ہے۔ جبکہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں چار لاکھ کسان ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر ریجسٹرڈ ہیں۔   زرعی پیداوار میں اضافے کے حوالے سے مشینری کے استعمال  کے فروغ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ  دی گئی جس میں گورنمنٹ کی جانب سے درکار معاونت کے حوالے سے مجوزہ اعدادو شمار پیش کیے گئے ۔ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانا، زرعی شعبے کا فروغ اور کسان کو اس کا جائز حق دلواناموجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔  ملکی معیشت میں زراعت کی اہمیت کے باوجود ماضی میں اس شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ٹیکنالوجی کے فروغ کو نظر انداز کیاگیا جس کا خمیازہ ہمارے کسان اور ملکی معیشت کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی بڑھتی آبادی کے پیش نظر فوڈ سیکیورٹی کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے، خوراک کی درآمدات پر آنے والے اخراجات میں کمی لانے اور شعبے میں موجود پوٹینشل کو برے کار لانے کے لئے زرعی شعبے کی بحالی اور ترقی ایک قومی ترجیح ہے۔ اجلاس میں زرعی شعبے کے فروغ کے حوالے سے وزیرِ اعظم کی زیر صدارت اعلی سطحی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ۔ کمیٹی وفاقی و صوبائی حکومتوں کے نمائندگان، نجی شعبے اور ماہرین پر مشتمل  ہوگی۔ جو ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان کو حتمی شکل دیکر وزیرِ اعظم کو پیش کرے گی تاکہ اس پر ترجیحی بنیادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.