پاکستان کوروناوائرس ،،،مزید 45مریض انتقال کر گئے ملک بھر میں 2432نئے کیسز

ملک میں کورونا سے مزید 45افراد جاں بحق،2432نئے کیسز رپورٹ

چار لاکھ 72ہزار99مریض صحتیاب، 2334مریضوں کی حالت تشویشناک ہے،این سی اوسی

اسلام آباد (ویب ڈیسک )پاکستان میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران عالمی وباء کوروناوائرس کے مزید 45مریض انتقال کر گئے جس کے بعد ملک میں اب تک کوروناوائرس سے انتقال کرنے والے کل مریضوں کی تعداد 10908تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کوروناوائرس کے2432نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد ملک میں اب تک کل رپورٹ ہونے والے کوروناوائرس کیسز کی تعداد پانچ لاکھ 16ہزار770تک پہنچ گئی ہے۔ اب تک ملک میں کوروناوائرس کے چار لاکھ 72ہزار99مریض مکمل طور پر صحتیاب ہو چکے ہیں۔ اس وقت ملک میں کوروناوائرس کے 2334مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ اس وقت ملک میں کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد 33763تک پہنچ گئی ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی اوسی) کی جانب سے ہفتہ کے روز ملک میں کوروناوائرس کی صورتحال کے حوالہ سے جاری تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق اس وقت ملک میں کوروناوائرس سے انتقال کرنے والے مریضوں کی شرح 2.1فیصد جبکہ صحتیاب ہونے والے مریضوں کی شرح 91.4فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ24گھنٹوں کے دوران ملک میں کوروناوائرس کے 2793مریض مکمل طور پر صحتیاب ہو کر گھروں کو چلے گئے۔ این سی او سی کے مطابق صوبہ سندھ کوروناوائرس کے کل رپورٹ ہونے والے کیسز، صحتیاب ہونے والے مریضوں اور فعال کیسز کے اعتبار سے ملک بھر میں پہلے نمبر پر ہے جبکہ صوبہ پنجاب دوسرے نمبر پر ہے۔ کوروناوائرس سے ہونے والی اموات کے اعتبار سے صوبہ پنجاب ملک بھرمیں پہلے جبکہ صوبہ سندھ دوسرے نمبر پر ہے۔کوروناوائرس کے فعال کیسزکے اعتبار سے صوبہ خیبر پختونخوا اس وقت ملک بھر میں تیسرے نمبر پر ہے۔ خیبر پختونخوا میں کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد3468تک پہنچ گئی ہے۔ صوبہ سندھ میں کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد 17361،صوبہ پنجاب 10515،وفاقی دارلحکومت اسلام آباد1773،بلوچستان287،آزاد جموں وکشمیر 282جبکہ گلگت بلتستان میں کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد33رہ گئی ہے جو ملک بھر میں سب سے کم ہے۔ این سی اوسی کے مطابق اب تک صوبہ سندھ میںکوروناوائرس کے دو لاکھ12ہزار266مریض مکمل طور پر صحتیاب ہو چکے ہیں، صوبہ پنجاب میں ایک لاکھ 33 ہزار586،خیبر پختونخوا میں 57755،اسلام آباد 37621،بلوچستان18060،آزاد جموںوکشمیر8063جبکہ گلگت بلتستان میں کوروناوائرس کے 4748 مریض مکمل طور پر صحتیاب ہو چکے ہیں۔ اسلام آباد میں کوروناوائر کے کل رپورٹ ہونے والے کیسزکی تعداد 39 ہزار888تک پہنچ چکی ہے، خیبر پختونخوا میں 62 ہزار 996، سندھ میں 2 لاکھ 33 ہزار396، پنجاب میں ایک لاکھ 48 ہزار 488، بلوچستان میں 18 ہزار 537، آزاد کشمیر میں 8 ہزار 583 اور گلگت بلتستان میں 4 ہزار 882 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 4 ہزار 387 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 3 ہزار 769، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 773، اسلام آباد میں 450، گلگت بلتستان میں 101، بلوچستان میں 190 اور آزاد کشمیر میں 238 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ملک بھر میں اب تک 73 لاکھ 26 ہزار 431 افراد کے کوروناوائرس کے ٹیسٹ کئے جا چکے ہیں جبکہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 42 ہزار 422 افراد کے کوروناوائرس کے ٹیسٹ کئے گئے۔ پہلے50ہزار کیسز 86 دنوں اور آخری پچاس ہزار کیسز صرف بائیس روز میں سامنے آئے۔ پاکستان میں کورونا کا پہلا کیس 26 فروی کو سامنے آیا جبکہ کورونا سے پہلی موت اٹھارہ مارچ کو رپورٹ ہوئی۔قومی ادارہ صحت نے پاکستان میں کورونا کی نئی قسم کی تصدیق کر دی ہے۔ قومی ادارہ صحت کے مطابق دو پاکستانیوں میں کورونا وائرس کی نئی قسم پائی گئی۔ دونوں شہری برطانیہ سے وطن واپس آئے۔وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ کورونا کی نئی قسم کے چار مشکوک مریضوں کا تعلق لاہور سے ہے۔ چاروں کے ٹیسٹ لے کر این آئی ایچ بھجوا دیے ہیں۔کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیراختیارکرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازے کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکربیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پرکوئی اثرنہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔پا نی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اورہرایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اوروہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.