پریس کو دبانے کیلئے نشانہ بنایا جارہا ہے: حافظ حسین احمد

حکومت اپوزیشن جماعتوں نے  اربوں روپے  کی سرکاری اراضی پر قبضہ کیا ہوا ہے

جیکب آباد پریس کلب کے صدر سے گفتگو

جیکب آباد+کوئٹہ  (ویب ڈیسک)

جمعیت علما اسلام پاکستان کے سینئر رہنما اور سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ پریس کوپریس کرنے کے لیے پورے ملک میں میڈیا کو نشانہ بنایا جارہا ہے، جیکب آباد انتظامیہ کی جانب سے بغیر کسی نوٹس کے جیکب آباد پریس کلب کے ایک حصے کوتجاوزات کے نام پر مسمار کرنے کی سخت  مذمت کرتا ہوں۔ جیکب آباد پریس کلب کے صدر محمد نواز سولنگی سے پریس کلب کے ایک حصے کو مسمار کرنے والے افسوسناک واقعے پر گفتگو کرتے ہوئے حافظ حسین احمد نے کہا کہ جیکب آباد اور ملک بھر کے پریس کلبزکا نام اگر بلاول یابنی گالہ پریس کلب رکھا جائے تو یہ کارروائی نہیں ہوسکتی۔ جیکب آباد میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے منتخب نمائندوں نے اربوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی پر قبضہ کیا ہوا ہے جس پر بنگلے، اسکول، پیٹرول پمپ سمیت دوکانیں اور مارکیٹیں تعمیر کی ہوئی ہیں۔ انتظامیہ کو وہ نظر نہیں آرہی   بلکہ انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔انھوں نے کہا کہ  پریس کلب سمیت غریب عوام کے دکانوں وگھروں کو مسمار کرکے ہزاروں لوگوں کو بے روزگار اور بے گھر کیا جارہا ہے۔ تجاوزات کے نام پر اگر کارروائی کرنی ہے تو پھر پہلے ان بااثر لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے جنہوں نے اربوں روپے کی سرکاری اراضی پر قبضہ کیا ہوا ہے لیکن جیکب آباد میں صرف غریب لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ جیکب آباد پریس کلب عوامی ادارہ ہے جہاں مظلوم عوام داد رسی کے لیے آتے ہیں لیکن انتظامیہ نے پریس کلب کو نشانہ بنا کر مظلوموں کے ادارے کو ٹارگیٹ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے صحافیوں کو اس واقعے پر متحد ہونا ہوگا اور ایسی ذیادتیوں کے خلاف ملکر آواز بلند کرنا ہوگی، انہوں نے کہا کہ جمعیت علما اسلام پاکستان اس مشکل گھڑی میں جیکب آباد سمیت ملک بھر کے صحافیوں اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔

Editor

Next Post

تھر پارکر میں 13 ماہ کے دوران 125 سے زائد خواتین کی خودکشی

اتوار فروری 14 , 2021
تھرپارکر (ویب ڈیسک) غربت افلاس معاشرتی ناہمواریوں سے ضلع تھرپارکر میں خودکشیوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور گزشتہ 13ماہ کے دوران 125سے زائد خواتین گلے میں پھندا یا کنویں میں گر کر جانیں گنوا بیٹھیں۔ ضلع تھرپارکر میں مسائل حل ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں، […]