چیئرمین سینیٹ کے حالیہ انتخاب کے بیلٹ پیپرز پیپلز پارٹی کو دینے سے انکار

چیئرمین سینیٹ کے حالیہ انتخاب کے بیلٹ پیپرز پیپلز پارٹی کو دینے سے انکار
خفیہ کیمروں کی تنصیب کا ریکارڈ بھی موجود نہیں ۔رپورٹ
اپوزیشن بھی  مولانا عبد الغفور حیدری کو8ووٹ نہ ملنے  بارے سوالات کا جواب دینے میں ناکام
کسی بھی عدالتی حکم  پر ہی بیلٹ کو ڈی سیل کیا جاسکتا ہے’۔سینیٹ سیکرٹریٹ

اسلام آباد (ویب  نیوز) ایوان بالا سے سرکاری طور پر چیئرمین سینیٹ کے حالیہ انتخاب کے بیلٹ پیپرز کی کاپی  پیپلز پارٹی کی قانونی ٹیم کو فراہم کرنے سے انکار کردیا گیا ۔ایک رپورٹ کے مطابق  پیپلز پارٹی کی قانونی ٹیم، جس کے ممبران میں سینیٹ کے 3 سابق چیئرمین، فاروق ایچ نائیک، رضا ربانی، نیئر حسین بخاری، پنجاب کے سابق گورنر سردار لطیف خان کھوسہ اور جاوید اقبال، شامل ہیں۔ ٹیم نے 12 مارچ کو ہونے والے سینیٹ چیئرمین کے انتخاب کی کارروائی کی مصدقہ نقول طلب کی تھیں۔ اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی 7 ووٹ مسترد ہونے کے بعد انتخاب ہار گئے تھے، اگر ان ووٹوں کو شامل کیا جاتا تو وہ صادق سنجرانی کو ایک ووٹ سے شکست دے سکتے تھے۔ تاہم اپوزیشن کے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں آٹھ ووٹ حکومتی امیداور کو مل گئے تھیاس میں کوئی ابہام بھی موجود نہیں ہے ۔ پی ڈی ایم کے امیدوار مولانا عبد الغفور حیدری کو 44 ،مرزا محمد آفریدی کو 54ووٹ ملے،  جب کہ اپوازیشن ارکان کی تعداد52 ہے، اپوازیشن جماعتیں اس معاملے میں اٹھنے والے سوالات کا جواب دینے میں ناکام ہے ۔ادھر پی پی کی ٹیم کو 12 مارچ کو ایوان بالا میں ہونے والی تمام سرگرمیوں کی مصدقہ کاپیاں اس لیے چاہیے تھیں تاکہ کسی مناسب فورم کے سامنے ووٹوں کے رد کیے جانے کو وہ چیلنج کرسکیں۔ سیکریٹریٹ نے  سینیٹر فاروق ایچ نائیک اور ایڈووکیٹ جاوید اقبال کو جوابی  خط لکھتے ہوئے کہا کہ ’12 مارچ 2021 کو ہونے والی سینیٹ کی تمام کارروائی سینیٹ کے ریکارڈ میں زبانی طور پر دستیاب ہے، جس میں ووٹوں سے متعلق پریزائڈنگ آفیسر کا فیصلہ، چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کا اعلان اور سینیٹر سید یوسف رضا گیلانی کے پولنگ ایجنٹ سینیٹر فاروق حامد نائیک کے دلائل بھی شامل ہیں۔ سیکریٹریٹ نے قانونی ٹیم کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے پریزائیڈنگ آفیسر کی نامزدگی کے حوالے سے وزارت پارلیمانی امور سے ہونے والے مواصلات کا ریکارڈ بھی فراہم کیا۔تاہم پولنگ سے قبل انکشاف ہونے والے چھپے ہوئے کیمروں کی تنصیب کے بارے میں رپورٹ کے بارے میں سیکریٹریٹ نے کہا کہ ‘سیکریٹریٹ نے اس کی کوئی سرکاری ویڈیو یا تصاویر نہیں بنائیں’۔انہوں نے وکلا کو ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے ‘سینیٹرز کو ہدایات’ کی مصدقہ کاپی بھی فراہم کیں۔بیلٹ پیپرز کی حوالگی کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے سیکریٹریٹ نے کہا کہ ‘انتخابی عمل کی تکمیل پر معمول کے مطابق 12 مارچ 2021 کو تمام بیلٹس کو سیل اور محفوظ تحویل میں رکھا گیا اور اسی شام کو سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے سیکریٹری کو درخواست جمع کرائی تھی’۔اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ‘سینیٹ کے 2012 کے ضابطہ اخلاق اور کاروبار کے ضابطہ 258 کے شرائط کے مطابق مجاز اتھارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی بھی عدالت کی طرف سے پوچھے جانے پر ہی بیلٹ کو ڈی سیل کیا جاسکتا ہے’۔یہاں یہ بات واضح رہے کہ سینیٹ چیئرمین کے انتخاب کے لیے پریزائڈنگ آفیسر مظفر حسین شاہ نے یوسف رضا گیلانی کے پولنگ ایجنٹ فاروق ایچ نائیک سے کہا ہے کہ اگر وہ ووٹوں کے مسترد ہونے کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں تو متعلقہ  ٹربیونل کے سامنے شکایت درج کرسکتے ہیں ۔