چینی فوج مقبوضہ لداخ کے گائوں میں گھس آئی، بھارت میں ہلچل

چینی فوج مقبوضہ لداخ کے گائوں میں گھس آئی، بھارت میں ہلچل

چینی فوجی سادہ وردی میں گاڑیوں میں سوار ہوکر آئے اور گائوں کے لوگوں سے بات چیت کے بعد واپس چلے گئے،بھارتی میڈیا

نئی دہلی(ویب ڈیسک )بھارت اور چین کے درمیان لداخ میں لائن آف ایکچول کنٹرول(ایل اے سی)کے پاس ایک گائوں میں چینی فوجی گھس آئے۔ اس سے متعلق ایک ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے، بھارتی میڈیا میں اس کی ہلچل مچ چکی ہے۔تفصیلات کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب چین اور بھارت لداخ میں کشیدگی کم کرنے کے مقصد سے ایک اور مرحلے کی بات چیت کی تیاری کر رہے ہیں، ایل اے سی پر چینی فوج مقبوضہ لداخ کے ایک گائوں میں داخل ہو گئی۔بھارتی میڈیا کے مطابق چینی فوجی سادہ وردی میں گاڑیوں میں سوار ہوکر آئے تھے اور گائوں کے لوگوں سے بات چیت کے بعد وہاں رکنے کی بجائے اپنی جانب واپس چلے گئے۔میڈیا کے مطابق لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر بھارت کی جانب سے جس گائوں میں چینی فوجیوں کے داخلے کی بات کی جا رہی ہے وہ مشرقی لداخ میں لیہ سے تقریبا 135 کلو میٹر کے فاصلے پر نیوما علاقے میں واقع ہے اور اس کا نام چانگ تھانگ بتایا جا رہا ہے۔بھارتی میڈیا میں یہ خبر مذکورہ گائوں سے وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کے حوالے سے شائع کی گئی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ فوجی گاڑیوں میں سوار ہوکر آئے تھے۔سوشل میڈیا پر فوجیوں کے داخلے سے متعلق ایک نئی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں بڑے میدانی علاقے، غالبا چراگاہ، میں بعض چینی شہریوں کو سادہ وردی میں کاروں سے اترتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے وہاں موجود افراد اور چینی فوجیوں کے درمیان مقامی زبان میں کافی دیر تک بات چیت کو بھی سنا جا سکتا ہے۔ بعد میں یہ افراد اپنی گاڑیوں میں سوار ہوکر واپس چلے گئے۔اطلاعات کے مطابق وہاں پر بڑی تعداد میں مقامی چرواہے موجود تھے جنہوں نے فوجیوں کی آمد پر احتجاج کیا جس کے بعد چینی شہری وہاں سے واپس ہوئے۔ مقامی لوگوں نے اس واقعے سے متعلق سرحد کی حفاظت کرنے والے بھارتی فورسز کو بھی اطلاع دی تھی۔تبت سے تعلق رکھنے والے بیشتر پناہ گزین لداخ میں آباد ہیں جس میں سے ایک بڑی تعداد چانگ تھانگ اور لیہ میں رہتی ہے۔ چانگ تھانگ میں مقامی بکروال اور قبائلی بھی آباد ہیں۔بھارت اور چین کے درمیان مشرقی لداخ میں گزشتہ تقریبا آٹھ ماہ سے حالات کشیدہ ہیں اور دونوں ملکوں کی فوجیں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہیں۔ کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے اب تک فریقین میں کئی دور کی بات چیت ہوچکی ہے تاہم ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

#/S

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.