کاروباری شراکت‘ دو طرفہ تجارت کا فروغ‘ مانچسٹر چیمبر اور ایف پی سی سی آئی کے مابین معاہدہ

کاروباری شراکت‘ دو طرفہ تجارت کا فروغ‘ مانچسٹر چیمبر اور ایف پی سی سی آئی کے مابین معاہدہ طے پاگیا

اسلام آباد( ویب نیوز ) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی پاک-یوکے بزنس کونسل نے گریٹر مانچسٹر چیمبرز آف کامرس (جی ایم سی سی) کے ساتھ کاروباری شراکت میں تعاون کے معاہدے پر دستخط کی تقریب کا انعقاد کیا – جی ایم سی سی میں 5000 سے زائد رجسٹرڈ برطانوی کاروبار شامل ہیں۔ دونوں فریقین کے مابین یہ اعلی سطحی انڈرسٹینڈنگ دراصل ایک باضابطہ معاہدہ ہے جو کہ پاکستان کی یوکے کے ساتھ کاروباری تاریخ کا اپنی نوعیت کا پہلا معاہدہ ہے۔ اس تاریخی معاہدے میں کاروباری شراکت داری میں نمو؛ دوطرفہ تجارت میں اضافہ؛ باہمی فائدہ مند کاروباری سرگرمیاں؛ تجارتی مارکیٹنگ کے طریقوں کو جدید بنانا اور دو طرفہ سرمایہ کاری اور نئے منصوبوں کی رفتار کو تیز کرنا شامل ہے۔ورچوئل میٹنگ کے دوران پاک یوکے بزنس کونسل کے چیئرمین عمران خلیل نصیر نے جی ایم سی سی کے ساتھ معاہدے کے فوائد اور خوبیوں کے بارے میں شرکا کو آگاہ کیا اور دونوں اطراف کے کاروباری اداروں کے مابین مشترکہ پروگراموں کے آغاز کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ اس طرح کا پہلا پروگرام مئی 2021 میں ہوگا جس کا مقصد پاکستان میں برطانوی کاروباری اداروں کو سرمایہ کاری اور بزنس کے مواقع کے بارے میں آگاہی دینا ہے۔ مزید برآں جی ایم سی سی بھی باہمی تقاریب اور اجلاس منعقد کرنے کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے گی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں ناصر حیات مگوں نے اس طرح کے فیصلہ کن معاہدوں کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے باہمی تعاون سے کی جانے والی کوششوں کے ذریعے پاکستان اور برطانیہ کے مابین کاروباری اور تجارتی تعلقات کو مستحکم کرنے کی خواہش اور عزم کا اظہار کیا۔ اس تقریب میں کراچی میں برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر اور پاکستان کے لئے تجارت کے ڈائریکٹر مائک نے بھی شرکت کی۔ان کے ساتھ ان کے ٹیم ممبران غفران عباس نقوی اور دیگر نے بھی شرکت کی جوکے ڈیپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ٹریڈ (ڈی آئی ٹی) سے تعلق رکھتے ہیں۔ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے مائک نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی اور جی ایم سی سی کے مابین یہ شراکت داری معاہدہ پاکستان اور برطانیہ کے مابین مضبوط باہمی تجارتی تعلقات کا ثبوت ہے۔ اس سے دونوں ممالک کے کاروباری، تجارتی، اور سرمایہ کاری کے رابطے مظبوط ہوں گے۔ دوروں اور ویبینارز کے ذریعہ ایک دوسرے کے ساتھ بہت بہتر تبادلہ خیال ہوگا اور دونوں خطوں میں ہزاروں کمپنیوں کی پروفائلز کو ترقی دی جا سکے گی.میں ان امکانات کے لئے پرجوش ہوں کیونکہ ان سے کاروباری شراکت داری میں بہت مدد ملے گی۔ جی ایم سی سی کے سی ای او کلائیو نے معاہدے کی اہمیت کے بارے میں بات کی اور مطلع کیا کہ کیوں جی ایم سی سی نے ایم او یو کے بجائے ایف پی سی سی آئی کے ساتھ شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کرنے کو ترجیح دی۔ انہوں نے ذکر کیا کہ یہ معاہدہ تیزی سے پاکستان اور گریٹر مانچسٹر کے خطے میں کاروبار کو ٹھوس مدد، رہنمائی، اور سہولت فراہم کرے گا۔ مانچسٹر میں پاکستان کے قونصل جنرل طارق وزیر ایسے معاہدے پر دستخط دیکھنے کے لئے بہت پرجوش دکھائی دیئے، جو اپنے ساتھ کاروبار اور سرمایہ کاری لے کر آئے گا۔ مانچسٹر میں پاکستان کے ٹریڈ اور انویسٹمنٹ اتاشی محمد اختر نے بھی تقریب میں شرکت کی اور ایف پی سی سی آئی کی کاوشوں کو سراہا۔ لندن میں پاکستانی قونصل خانے میں تجارت اور سرمایہ کاری کے وزیر شفیق اے شہزاد نے بھی معاہدے کے مقاصد کو پورا کرنے کے لئے تاجر برادری کو پاکستان ہائی کمیشن لندن کی مکمل مدد اور سہولت کاری کی پیش کش کی۔اس تقریب میں گریٹر مانچسٹر اور برطانیہ کے نارتھ ایسٹ کاروباری برادری کے ممبران، ڈی آئی ٹی (یوکے) کے افسران، گریٹر مانچسٹر کمبائنڈ لوکل اتھارٹی کے عہدیداران، مانچسٹر انورڈ انوسٹمنٹ ایجنسی (ایم آئی ڈی اے ایس) کے ممبران، بزنس گروتھ ہب، سی ای او پاکستان-بریٹش بزنس قونصل، ایس ایم ای سنٹر آف ایکسی لینس (یوکے) کے ممبران، پاک-یوکے بزنس کونسل (ایف پی سی سی آئی) کے ڈائریکٹرز، اور کے بی سی (ایف پی سی سی آئی) کے ممبران نے بھی شرکت کی۔ایس ایم ای سنٹر آف ایکسی لینس کے چیئرمین عمار مرزا نے سامعین کو نارتھ ایسٹ خطے کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی ترقی کے لئے ایس ایم ای سنٹر آف ایکسی لینس کے اہم کردار پر روشنی ڈالی یہ کاروبار ایف پی سی سی آئی کے توسط سے پاکستان میں کاروباری مواقع تلاش کرنے کے خواہشمند بھی ہوں گے۔تقریب کے آخر میں اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے اطہر سلطان چاولا، نائب صدر ایف پی سی سی آئی نے پاکستان اور برطانیہ کے تجارتی تعلقات کی ترقی اور استحکام میں ایف پی سی سی آئی کے اہم کردار پر شرکا کو آ گاہ کیا۔ انہوں نے کووڈ سے متعلق پابندیوں کے خاتمے کے بعد کاروباری اور تجارتی سیاحت اور مارکیٹنگ سرگرمیوں کی بحالی پر بھی زور دیا۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.