.کل جماعتی کانفرنس….حکومت گرانے کے آپشن کے ایجنڈے پراتفاق رائے نہ ہو سکا

حکومت گرانے کے آپشن کے ایجنڈے پراتفاق رائے نہ ہونے پر کل جماعتی کانفرنس کثیرالجماعتی کانفرنس میں تبدیل

عیدالاضحی کے بعد سے زیرا لتواء کل جماعتی کانفرنس کو مرکزی قائدین کی طرف سے متعدد بار بیانات میں  فیصلہ کن قرا ردیا جاتا رہا

تاہم اس  ا ے پی سی کا بھی رسمی اعلامیہ تک محدودرہنے کا امکان

 ان امکانات کی پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے اپوزیشن کی36 ارکان کی غیر حاضری  کے تناظر میں تصدیق بھی کی جارہی

حکومت کے خلاف کسی  ممکنہ آپشن پر  بڑی اپوزیشن جماعتیں کسی  واضح  موقف اور کسی نتیجہ پر نہ پہنچ سکیں

اسلام آباد (ویب ڈیسک )حکومت گرانے کے آپشن کے ایجنڈے پراتفاق رائے نہ ہونے پر کل جماعتی کانفرنس  کو کثیرالجماعتی کانفرنس کا نام دے دیا گیا  عیدالاضحی کے بعد سے زیرا لتواء کل جماعتی کانفرنس کو مرکزی قائدین کی طرف سے متعدد بار بیانات میں  فیصلہ کن قرا ردیا جاتا رہا ہے تاہم ا ے پی سی کا رسمی اعلامیہ تک محدودرہنے کا امکان ہے اور ان امکانات کی پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے اپوزیشن کی36 ارکان کی غیر حاضری  کے تناظر میں تصدیق بھی کی جارہی ہے۔ حکومت کے خلاف تحریک چلانے ،  فوری عام انتخابات یا وزیراعظم  کے حوالے سے تحریک عدم اعتماد  کسی آپشن پر تاحال بڑی اپوزیشن جماعتیں کسی  واضح  موقف اور کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکی ہیں  ۔تمام اپوزیشن جماعتوں کو بلاول بھٹو کی طرف سے دعوت نامے بھجوا دیئے گئے  ہیں۔پیپلزپارٹی نے  اپنی سطح پر ایجنڈے کو حتمی شکل دے دی ہے ۔کانفرنس میں حکومتی ناکامیوں کو اجاگر کرتے ہوئے جدوجہد جاری رکھنے کے روایتی اعلامیہ کے اجرا ء کا بھی امکان ہے ۔جمعہ کی شام پیپلز پارٹی کے جاری بیان کے مطابق حکومت کی دو سالہ کارکردگی اور مستقل کا لائحہ عمل ایجنڈے میں شامل کیا گیا ہے دعوت نامہ کے برعکس بیانات میں اس بڑی سرگرمی کو اے پی سی ہی قراردیا جارہا ہے جب کہ دعوت نامہ میںکثیرالجماعتی کانفرنس لکھا گیا ہے ۔اپوزیشن جماعتوں سے وفود کے نام موصول ہوگئے ہیں۔ن لیگ کے وفد میں شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال شامل ہیں۔خواجہ آصف، ایاز صادق، امیر مقام  شامل ہیں، جے یو آئی کے وفد  میں مولانا فضل الرحمان، اکرم درانی اور  مولانا عبدالغفور حیدری شامل ہونگے ۔ دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بھی اپنے وفود کے نام ارسال کردیئے ہیں، پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل نیر بخاری نے کہا ہے کہ وفود میں تبدیلی اپوزیشن جماعتوں کی اپنی صوابدید ہے، وفود ناموں کی تبدیلی اپوزیشن جماعتوں کا اپنا فیصلہ ہوگا

#/S

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.