گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت پارلیمان کے ذریعے تبدیل کی جائے..شہباز شریف

،گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت پارلیمان کے ذریعے تبدیل کی جائے..شہباز شریف

 نواز شریف کی تقریر میں محاذ آرائی کی کوئی بات نہیں تھی

فوج سے بطور ادارہ 25سال سے رابطے میں ہیں، مشاورت اور مفاہمت سے ہی ملک آگے چل سکتا ہے

حکومت کو جتنا وقت دینا تھا دے چکے مزید وقت نہیں دیں گے  .اپوزیشن لیڈر

لاہور(ویب ڈیسک )قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ ن لیگ اورپیپلزپارٹی دونوں تیار ہیں،جب وقت آیا تو اسمبلیوں سے مستعفی ہونے میں دیر نہیں لگائیں گے۔ نواز شریف کی تقریر میں محاذ آرائی کی کوئی بات نہیں تھی، مستقبل کیلئے اپنی تجاویز دی ہیں، جن پر غور کرنا چاہیے،میڈیا رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے صدرشہبازشریف نے پارٹی رہنماں خواجہ آصف، احسن اقبال اور رانا ثنا اللہ کے ہمراہ لاہور میں سینیئر اخبار نویسوں سے ملاقات کی۔اس موقع پر شہباز شریف کا کہنا تھاکہ 100 فیصد یقین ہے کہ عمران خان مجھے گرفتار کرانا چاہتے ہیں، تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے آئندہ الیکشن شفاف ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا الیکشن میں کسی بھی جانب سے مداخلت نہ ہو، اس ایجنڈے کی تکمیل تک نئے الیکشن نہیں ہونے چاہیں، گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت پارلیمان کے ذریعے تبدیل کی جائے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قومی خزانے کے اربوں روپے بچائے،کبھی تنخواہ نہیں لی، بیرون ملک تمام دورے اپنے خرچ پر کیے، فوج سے بطور ادارہ 25سال سے رابطے میں ہیں، مشاورت اور مفاہمت سے ہی ملک آگے چل سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی تقریر میں محاذ آرائی کی کوئی بات نہیں تھی،انھوں نے مستقبل کیلئے اپنی تجاویز دی ہیں، جن پر غور کرنا چاہیے، ۔ نواز شریف نے اداروں کو اپنی حدود میں رہنے کی تلقین کی۔ میرے قائد کا مقصد کسی سے تصادم نہیں اور نہ ہی ہم تصادم کے قائل ہیں، خود کو اے پی سی کے فیصلے کا پابند سمجھتے ہیں۔،انہوں نے کہا کہ مفاہمت میرا نظریہ ہے مگر اس سے کبھی کوئی فائدہ نہیں لیا، فرائض کی بجا آوری سے کہیں آگے جاکر قومی خزانے کے اربوں روپے بچائے۔عوام کی خدمت سے سیاسی جماعتوں کی عزت بڑھے گی۔ نظام تب طاقتورہوگاجب سیاسی جماعتیں عوام کی خدمت کریں گی۔ ہزاروں آرٹیکل 6 لے آئیں عوامی خدمت کرنے تک نظام مضبوط نہیں ہوگا۔بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی ہوئی میرے مقدمات کی اس مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں۔ ہمیں اپنی تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے۔ میری گرفتاری ہوئی تو اس کا سامنا کروں گا۔بات کو جاری رکھتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مجھ سے اس لیے پریشان ہیں کہ میں سیاسی مفاہمت کا داعی ہوں، آرمی چیف سے سیاسی لیڈر شپ کی ملاقات کی خاص سٹریٹجک اہمیت تھی، اس میں وزیر اعظم کا نہ ہونا کیا ثابت کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو جتنا وقت دینا تھا دے چکے مزید وقت نہیں دیں گے،  ، اے پی سی کے فیصلوں پر ہر صورت عمل درآمد ہوگا۔ ، اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت کو بے نقاب کیا جائے،ان کا کہنا تھا کہ عوام کی بھرپور تائید اور حمایت ہی ماروائے آئین کا راستہ روک سکتی ہے۔ گلگت بلتستان بارے کوئی بھی فیصلہ، کشمیر پالیسی سے ہٹ کر نہیں ہونا چاہیے

Editor

Next Post

حکومت مخالف تحریک شروع کرنے سے متعلق اہم قائدین میں  مشاورت تیز

اتوار ستمبر 27 , 2020
آئندہ ماہ اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک شروع کرنے سے متعلق اہم قائدین میں  مشاورت تیز  مرحلہ وار ہر آپشن استعمال کیا جائے گا ۔اپوزیشن کے پاکستان جمہوری تحریک کا سربراہ مقرر کرنے کا فیصلہ   مولانا فضل الرحمان کانواز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ دونوں رہنماؤں کے درمیاں ملکی سیاسی صورتحال […]