یوسف رضا گیلانی کا نوٹیفکیشن فوری روکنے کی استدعا مسترد، درخواست میں ترمیم کی ہدایت

یوسف رضا گیلانی کا نوٹیفکیشن فوری روکنے کی استدعا مسترد، درخواست میں ترمیم کی ہدایت
علی حیدر گیلانی کی وڈیو میں نا پیسوں کا ذکر ہے نہ ہی ٹکٹ دینے کا،مواد کے ساتھ متعلقہ افراد کو فریق بنائیں، الیکشن کمیشن
رشوت لینے اور دینے والا دونوں ہی گناہ گار ہوتے ہیں،جن 16 لوگوں کی بات ہو رہی، ان کے نام کمیشن کو دیں،الطاف قریشی
وڈیو میں لگتا ہے معاملہ نشان زدہ بیلٹ پیپر ملنے کا تھا، نشان زدہ بیلٹ پیپر ملے تو کوئی اپنا حق رائے دیہی کیسے استعمال کرے گا؟
تحریک انصاف کے وکیل نے ویڈیو کا ٹرانسکرپٹ دیا ہوا ہے، جن لوگوں کو یہ رقم آفر کی گئی انہیں فریق نہیں بنانا چاہیے تھا ؟
الیکشن کمیشن نے ویڈیو سامنے آنے پر نوٹس بھی لیا، الیکشن کمیشن نے نوٹس لینے پر پریس ریلیز بھی جاری کی، وکیل پی ٹی آئی بیرسٹر علی ظفر
ہم نے کوئی نوٹس نہیں لیا تھا، میڈیا پر کہا گیا کہ دوہرا معیار ہے، ڈی جی لاء سے پوچھا تو انہوں نے کہا نوٹس نہیں لیا، رکن الیکشن کمیشن پنجاب

اسلام آباد(ویب  نیوز) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے علی حیدر گیلانی ویڈیو سکینڈل پر پیپلز پارٹی کے نو منتخب سینیٹر یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن فوری روکنے کی استدعا مسترد کر تے ہوئے پی ٹی آئی کو نوٹیفکیشن روکنے کی درخواست میں ترمیم کرنے کی ہدایت کی ،الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت آج(بدھ) تک ملتوی کر دی ۔الیکشن کمیشن کے رکن الطاف قریشی نے ریمارکس دیئے کہ علی حیدر گیلانی کی وڈیو میں نا پیسوں کا ذکر ہے اور نہ ہی ٹکٹ دینے کا۔منگل کو الیکشن کمیشن میں علی حیدر گیلانی ویڈیو اسکینڈل کی بنیاد پر یوسف رضا گیلانی کی نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ پنجاب سے رکن الیکشن کمیشن الطاف قریشی کی سربراہی میں 4 رکنی بنچ نے سماعت کی۔ پی ٹی آئی نے سندھ کے صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ کی آڈیو ٹیپ بھی پیش کردی۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد سے سینیٹ کی نشست کے لیے قومی اسمبلی میں ووٹنگ ہوئی، ایوان میں پی ٹی آئی اور اتحادیوں کے 180 جبکہ اپوزیشن کے 160 ووٹ تھے، الیکشن شفاف ہوتے تو حفیظ شیخ بڑے مارجن سے جیت جاتے، نمبر گیم میں تحریک انصاف کے امیدوار حفیظ شیخ کو اکثریت حاصل تھی، سینیٹ انتخاب میں پیسے اور پارٹی ٹکٹس کے عوض دھاندلی کی گئی، سینیٹ الیکشن سے ایک اور روز پہلے دھاندلی کا ثبوت ملا، یوسف رضا گیلانی پی ٹی آئی کے ایم این ایز کو رشوت دیتے رہے، وزیراعظم نے معلومات آنے پر الیکشن کمیشن کو مداخلت کا کہا۔ جس پر ممبر سندھ نثار درانی نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کو مداخلت کا کب کہا گیا ؟ ، علی ظفر نے کہا کہ وزیراعظم نے میڈیا کے ذریعے الیکشن کمیشن کو کہا تھا۔پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ 2 مارچ کو میڈیا پر علی حیدر گیلانی کی ویڈیو سامنے آئی، جس میں یوسف رضا گیلانی کا بیٹا لالچ، رشوت دینے کا کہہ رہا ہے، علی حیدر گیلانی ووٹ نہ دینے پر ضائع کرنے کا طریقہ بتا رہے تھے، درحقیقت علی حیدر گیلانی کے خلاف اسٹنگ آپریشن کیا گیا، وڈیو میں دو ایم این ایز کیپٹن(ر)جمیل اور فہیم سے گفتگو ہو رہی ہے۔ ممبر پنجاب الطاف قریشی نے کہا کہ چاہتے ہیں جذبات نہیں قانون کے تحت چلیں، جن 16 لوگوں کی بات ہو رہی، ان کے نام کمیشن کو دیں،مواد کے ساتھ متعلقہ افراد کو فریق بنائیں، ہم بیٹھے ہی کارروائی کرنے ہیں، ہم تو چاہتے ہیں کارروائی ہو لیکن اس کے لئے آپ کو مواد دینا ہے، وڈیو میں نا پیسوں کا ذکر ہے نہ ہی ٹکٹ دینے کا، وڈیو میں لگتا ہے معاملہ نشان زدہ بیلٹ پیپر ملنے کا تھا، نشان زدہ بیلٹ پیپر ملے تو کوئی اپنا حق رائے دیہی کیسے استعمال کرے گا؟ بار بار کہا جاتا ہے ارکان بک گئے، ایسا لفظ کہنا بھی اچھا نہیں، رشوت لینے اور دینے والا دونوں ہی گناہ گار ہوتے ہیں، جنہیں پیسے کی آفر ہوئی وہ بیان حلفی تو دیں، ویڈیو میں موجود پی ٹی آئی ارکان کے بیان حلفی آ جاتے تو بھی کچھ ہو جاتا ۔ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف کے وکیل نے ویڈیو کا ٹرانسکرپٹ دیا ہوا ہے، جن لوگوں کو یہ رقم آفر کی گئی انہیں فریق نہیں بنانا چاہیے تھا ؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس سیکشن 9 کے تحت اختیارات ہیں، ان کو فریق نہیں وہ گواہ ہوسکتے ہیں، ویڈیو میں موجود لوگوں کے کم از کم بیان حلفی دئیے جاتے، جن لوگوں کو رقم دینے کی پیشکش ہوئی ان کے بیان حلفی ہوتے۔ رکن الیکشن کمیشن پنجاب نے کہا کہ آج اسی طرح کے کیس میں فیصلہ دے چکے ہیں، تائیدی شہادت لازمی ہونی چاہیے ۔دوران سماعت علی حیدر گیلانی کی ویڈیو چلائی گئی۔ وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ویڈیو سامنے آنے پر نوٹس بھی لیا، الیکشن کمیشن نے نوٹس لینے پر پریس ریلیز بھی جاری کی۔ جس پر رکن الیکشن کمیشن پنجاب نے کہا کہ ہم نے کوئی نوٹس نہیں لیا تھا، میڈیا پر کہا گیا کہ دوہرا معیار ہے، ڈی جی لاء سے پوچھا تو انہوں نے کہا نوٹس نہیں لیا، ہم نے ایم پی اے عبد السلام کو نوٹس نہیں لیٹر لکھا کہ ویجلینس کمیٹی سے رجوع کریں، ایسی باتوں سے گریز کرنا چاہیے۔ رکن الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس ویڈیو میں پیسے اور ٹکٹ کا کوئی ذکر نہیں۔ بیرسٹر علی ظفر نے دلائل میں کہا کہ علی حیدر گیلانی، کیپٹن(ر) جمیل اور فہیم خان ایم این ایز کو ووٹ ضائع کرنے کا طریقہ بتا رہے ہیں، اس ویڈیو کو علی حیدر گیلانی نے خود تسلیم کیا کہ یہ درست ہے۔ رکن الیکشن کمیشن پنجاب نے کہا کہ ان ویڈیوز میں کون ہیں ان کے نام بتائیں اور انہیں فریق بنائیں، کوئی شہادت دیں پھر ہی کارروائی ہوسکتی ہے، الیکشن کمیشن نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد نااہل بھی کرسکتا ہے۔ممبر الیکشن کمیشن پنجاب نے کہا کہ جذبات سے نہیں قانون پر بات کریں، ہر بندہ اپنے کام کا ذمہ دار ہے، ویڈیو میں جس کا نوٹیفکیشن رکوانا ہے اس کا ذکر نہیں، آپ کی پٹیشن اوتھ کمشنر سے تصدیق شدہ نہیں۔ وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ کرپشن کو پکڑنے کے لئے ایسی چیزیں ضروری ہیں، الیکشن کمیشن نے یہی اختیارات این اے 75 ڈسکہ میں استعمال کئے، الیکشن کمیشن کرپٹ پریکٹسز روکنے کیلئے بے پناہ اختیارات استعمال کرسکتا ہے۔ ممبر خیبر پختونخوا ارشاد قیصر نے ریمارکس دیئے کہ کارروائی کرنا چاہتے ہیں لیکن شواہد ٹھوس ہونے چاہیں۔ ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ کیا فرانزک کے بغیر ویڈیو کو تسلیم کر سکتے ہیں؟ جس پر علی ظفر نے کہا کہ علی حیدر گیلانی نے ویڈیو کو غلط قرار نہیں دیا، انہوں نے پریس کانفرنس میں وڈیو کو تسلیم کیا۔ ویڈیو تسلیم کر لی گئی اب کمیشن تحقیقات کرے۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.