اسلام آبادہائی کورٹ ‘  شادی ہالز میں تقاریب   پر پابندی کیخلاف   درخواست مسترد

ایس او پیز پر عملدرآمد میں غفلت پر قانونی کارروائی ہوگی،

عدالت قومی سطح کے پالیسی فیصلوں میں مداخلت نہیں کرسکتی ، چیف جسٹس اطہر من اللہ

حکومتی پالیسیوں میںتضاد ہے،  آپ خود پابندی نہیں کررہے،  سرکاری وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس

پابندی کو اٹھا لیا جائے اور انہیں ایس او پیز کے تحت کام کرنے کی اجازت دی جائے،وکیل درخواستگزار

کوروناوائرس کی یہ لہر بہت تشویشناک ہے، سخت احتیاط کی ضرورت ہے،چیف جسٹس اطہر من اللہ

اسلام آباد (ویب ڈیسک )

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کورونا صورتحال پر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایس او پیز پر عملدرآمد میں غفلت پر قانونی کارروائی ہوگی، غفلت برتنے والا سول اور فوجداری مقدمات کا سامنا کرے گا۔تفصیل کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے کورونا کی وجہ سے شادی ہالز میں تقاریب پر پابندی کے خلاف کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ 8 صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے تحریر کیا ہے۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایگزیکٹو معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی وجہ سے درخواست نمٹائی جاتی ہے۔ عدالت این سی او سی کے فیصلوں میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا فیصلہ مفاد عامہ کا فیصلہ ہے۔ قومی کمیٹی کے فیصلوں پر عملدرآمد ہر شہری کا فرض ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں تحریر کیا ہے کہ بحثیت شہری ہم سب کو قومی کمیٹی کے فیصلوں کو من وتسلیم کرکے اس پر عملدرآمد کرنا چاہیے۔ ملک بھر کی جیلوں میں قیدیوں کی حد سے زیادہ تعداد کی وجہ کورونا پھیلاؤ کا خدشہ ہے۔ جیلوں میں بہت سارے انڈر ٹرائل قیدی ہیں جو بعد میں بے گناہ ثابت ہو کر رہا ہوتے ہیں۔ عدالت قومی کمیٹی سے توقع رکھتی ہے کہ جیل میں قیدیوں کی طبی سہولیات کے حوالے سے اقدامات اٹھائیں جائیں گے۔ کمیٹی کورونا سے بچنے کے لئے جیلوں کے اندر قیدیوں کی زندگی بچانے کے لئے اقدامات کریگی۔عدالت عالیہ کی جانب سے کہا گیا کہ این سی او سی کے 19 ویں اجلاس میں 300 سے زائد کے اجتماع پر پابندی عائد کی گئی تھی، فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔عدالت نے این سی او ای کے احکامات کو اپنے فیصلے کا حصہ بناتے ہوئے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ایس او پیز کی عملداری کی ذمہ داری تقریب کے آرگنائزرز پر عائد ہوگی۔ اجتماعات سے ہونے والی اموات اور کورونا پھیلاؤ کا ذمہ دار متعلقہ آرگنائزر کو قرار دیا جائے گا۔ خلاف ورزی کرنے والے آرگنائزر کے خلاف قانونی کارروائی اور مقدمات درج ہوں سکیں گے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر سیاسی قیادت کو ذمہ داری کا ثبوت دینا ہوگا۔ عدالتی فیصلے کے بعد سیاسی جماعتوں کو سوچنا پڑے گا کیا وہ لوگوں کی اموات کا باعث بننا چاہیں گی؟

 اسلام آبادہائی کورٹ نے مارکیز اور شادی ہالز میں تقاریب کے انعقاد پر حکومت کی جانب سے پابندی عائد کرنے کے فیصلے خلاف دائر درخواست مسترد کردی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے قراردیا ہے کہ عدالت قومی سطح کے پالیسی فیصلوں میں مداخلت نہیں کرسکتی، وفاقی حکومت نے ماہرین کی رائے پر فیصلہ کیا ہے لہذا عدالت اس میں مداخلت نہیں کرسکتی،عدالت نے شادی ہال ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے نمٹا دی۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے مارکیز اور شادی ہالز مالکان کی جانب سے حکومت کی جانب سے ان ڈور پروگراموں پر پابندی عائد کرنے کے فیصلہ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے کہا کہ غیر معمولی حالات میں قیادت کے غیر معمولی فیصلے ہونے چاہئیں، کوروناکی وجہ سے مستقبل میںکیا ہو گا کوئی نہیں جانتا،یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود بھی اپنے بنائے ہوئے ایس او پیز پر عمل کرے۔ دوران سماعت درخواست گزاروں کے وکیل سردار تیمور اسلم کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز وزیر اعظم عمران خان نے خطاب میں کہا کہ کاروباربند نہیں کررہے۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے کہاکہ وہ ایس او پیز کے تحت اپنا کاروبار جاری رکھنا چاہتے ہیں، پہلے بھی انہوں نے بہت کاروباری نقصان برداشت کیا لیکن اب حکومت کی جانب سے 20نومبر سے انڈور شادی ہالز میں شادی کی تقاریب منعقد کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے کہا کہ اس پابندی کو اٹھا لیا جائے اور انہیں ایس او پیز کے تحت کام کرنے کی اجازت دی جائے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ کوروناوائرس کی یہ لہر بہت تشویشناک ہے، سخت احتیاط کی ضرورت ہے۔ دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے وفاقی حکومت کی جانب سے تفصیلی جواب جمع نہ کروانے پر برہمی کااظہار کیا تاہم بعد ازاں اٹارنی جنرل آف پاکستان بیرسٹر خالد جاوید خان خود عدالت میں پیش ہوئے ۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ کوروناوائرس کے پھیلائو کے حوالہ سے ماہرین کی رائے کا احترام کرنا ضروری ہے کیونکہ کوروناوباء میں بہت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ، ماہرین کی رائے ہے کہ اس میں احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی اپنے تمام جلسے جلسوسوں پر پابندی عائد کر دی ہے اور جلسے نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ یہ اچھی بات ہے تاہم اس پر تمام سیاسی جماعتوں اور پوری قوم کو یکجہتی کی ضرورت ہے، غیر معمولی حالات ہیں لہذا غیر معمولی حالات میں غیر معمولی فیصلے کرنے ہیں۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سرکاری وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ خود پابندی نہیں کررہے، حکومتی پالیسیوں میںتضاد ہے جبکہ دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے مارکیز مالکان کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کو کیاچاہئے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ کوروناوائرس کی جو صورتحال ہے ہمیں خود ساری چیزیں بند کردینی چاہئیں۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل آف پاکستان بیرسٹر خالد جاوید خان کا کہنا تھا کہ عوام کی صحت کا معاملہ بہت اہم ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کی بناوٹ کیا ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا وزیر اعظم کمیٹی کے چیئرمین جبکہ وزراء اعلیٰ ممبرز ہیں۔ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں جو ہوا وہ امتیازی سلوک ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے کا کہنا تھا کہ ہمارے ایک بہت اچھے چیف جسٹس کو ہم نے کوروناوائرس سے کھو دیا۔ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ اسپینیش فلو سے 50ملین لوگ ہلاک ہوئے۔ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو تو صحت کی اچھی سہولت میسر ہو گی مگر عوام کو نہیں، وزیر اعظم کو تو دوسروں کے لئے مثال ہونا چاہیئے، وزیر اعظم نے اپنا اگلا اجتماع منسوخ کر لیا۔ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ بڑے آدمی کا تو پھر بھی اچھا خیال رکھ لیا جاتا ہے،غریب عوام کو کورونامیں باہر جلسوں میںنکالا گیا۔جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ہماری پارلیمنٹ سے بہت توقعات ہیںلیکن وہ کردار ادا نہیں کررہی،کسی کو نہیں پتہ کوروناوائرس کا اگلا شکار کون ہے، کوئی نہیں سوچ رہا کہ کوروناوائرس کا اگلا نشانہ وہ بھی بن سکتا ہے، ساری سیاسی جماعتوں کو یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ہم ماہرین کی رائے اور حکومت اقدامات پر اعتماد کرتے ہیں۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ وزارت صحت اور صوبوں کی مشاورت سے فیصلے کئے گئے، نان اکنامک بزنس پرمکمل پابندی لگائی گئی ہے، ہمارے لئے آسان ہے کہ شٹ ڈائون کر دیں لیکن ہم اس طرف ابھی نہیں جارہے۔اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کوروناکی وجہ سے صورتحال کو نظر انداز نہیں کرسکتے، ہمارے مد نظر ایک طرف معیشت اور دوسری طرف عوام کی صحت کی صورتحال ہے۔جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ ایس او پیز پر عملدرآمد کروائے، نیشنل باڈی کے فیصلوں پر عملدرآمد میں کردار اداکرنا چاہئے۔ZS

#/S