موجودہ سیاسی بحران کو فوج کے ساتھ جوڑنا نامناسب ہے۔ میجر جنرل عاصم سلیم باجو ہ

راولپنڈی (خصو صی رپورٹ ) ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم سلیم باجو ہ نے سیاست میں فوج کے کردار کے الزامات کوسختی مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی بحران کو فوج کے ساتھ جوڑنا نامناسب ہے اوراس بحران کو سیاسی جماعتوں نے ہی حل کرنا ہے جب کہ آرمی چیف واضح طور ہر کہہ چکے ہیں کہ وہ آئین اور جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، سہولت کاری کا فیصلہ ملکی مفاد میں کیا، فریقین کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے میں مدد کی، فوج میں اختلافات کی باتیں بے بنیاد ہیں، سیاسی معاملات کے پیچھے اسکرپٹ رائٹر والی باتوں پر بہت افسوس ہوا، کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد افغانستان میں رہتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں میں ملوث ہیں، دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور مطلوبہ اہداف حاصل کئے جا رہے ہیں ملالہ یوسف زئی پر حملہ کرنے والے گروہ کو گرفتار کر لیا گیاہے ، کالعدم تحریک طالبان کے شوریٰ نامی گروہ میں دس دہشت گرد شامل تھے،حملے کا منصوبہ ملا فضل اللہ نے بنایا تھا۔۔ جمعہ کو یہاں میڈیا کے نمائندوں کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فوج کی توجہ آپریشن ضرب عضب اورسیلاب متاثرین پر ہے جب کہ سیاسی بحران کو فوج کے ساتھ جوڑنا نامناسب ہے فوج کا سیاست میں کوئی کردار نہیں، پارلیمنٹ کے باہر کا مسئلہ سیاسی جماعتوں کا ہے اور سیاسی بحران جب بھی حل ہونا ہے سیاسی جماعتوں نے ہی حل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات کے پیچھے اسکرپٹ رائٹر والی باتوں پر بہت افسوس ہوا،فوج سیاسی تنازعہ سیاسی طور پر حل کرنے کے موقف پر قائم ہے اور آرمی چیف واضح طور ہر کہہ چکے ہیں کہ وہ آئین اور جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، فوج ریڈ زون میں عمارتوں کی حفاظت کے لئے آئی تھی اورپی ٹی وی ہیڈ کوارٹر کا تحفظ فوج کی ذمہ داری نہیں تھی۔آپریشن ضرب عضب کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور مطلوبہ اہداف حاصل کئے جا رہے ہیں۔ آپریشن ضرب عضب کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لئے ایک میکینزم بنایا گیا تھا جس کے تحت ابھی تک 2 ہزار200 سے زائد انٹیلی جنس آپریشن کئے جا چکے ہیں جن میں 45 خطرناک دہشت گرد مارے جا چکے ہیں اور تقریبا 134 خطرناک دہشت گردوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شوریٰ گروپ کے علاوہ جن دیگر اہم دہشت گرد گروہوں کے آپریشن کامیابی سے ناکام بنائے جا چکے ہیں ان میں کوئٹہ ایئر بیس پر حملے کی کوشش کی گئی جس میں تمام دہشت گرد مارے گئے، اسی روز کوئٹہ ایوی ایشن بیس پر حملہ کیا اسے بھی ناکام بنایا گیا۔ کچھ عرصہ قبل رائے ونڈ کے علاقے میں ایک گروہ ایک گھر میں تھا جس تک پہنچا گیا اور اس گروہ کے منصوبوں کو ناکام بنایا گیا۔ اسی طرح قائد اعظم ریزیڈنسی زیارت پر حملہ کرنے والے تمام دہشت گرد بھی پکڑے جا چکے ہیں جب کہ چند روز قبل جو کراچی میں نیول ڈ?اکیارڈ پر حملہ ہوا اسے بھی ناکام بیانا گیا۔میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ ملا فضل اللہ اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد افغانستان میں رہتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں میں ملوث ہیں اور اسی وجہ سے حکومت پاکستان کو مطلوب بھی ہیں۔ شوریٰ سے تعلق رکھنے والے تمام دہشت گرد مالاکنڈ کے مقامی ہیں، تحقیقات کے دوران دہشت گردوں نیانکشاف کیا کہ ملالہ پر حملے کا منصوبہ ملا فضل اللہ نے بنایا تھا جب کہ اس پر عمل درآمد شوریٰ گروہ کی ذمہ داری تھی، دوران تفتیش اس گروہ نے نومبر 2012 میں سوات کالج آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے چوکیدار کو بھی قتل کرنے کا اعتراف کیا، اس گروہ نے مزید انکشاف ہوا کہ اگر یہ گروہ گرفتار نہ ہوتا تو انھیں ملا فضل اللہ کی فراہم کردہ فہرست کے مطابق مزید 22 اہم افراد کو نشانہ بنانا تھا جن میں سوات امن کمیٹی اور علاقے کے دیگر عمائدین بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملالہ یوسف زئی پر حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیار بھی برآمد کر لئے گئے ہیں، اب تمام ملزمان کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے گا اور ان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔

Editor

Next Post

کالعدم تحریک طالبان پنجاب کے سربراہ عصمت اللہ معاویہ کا ہتھیار ڈالنے کا اعلان

ہفتہ ستمبر 13 , 2014
ملا فضل اللہ دہشت گردی اور بھتہ خوری کام کرواتے تھے، خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور پاکستانی جہادی تحریک کے اندرونی ماحول کے پیش نظر اورتمام شرعی راہنمائی کے ذریعے عملی جہادی کردار کو افغانستان تک محدود