واہگہ بارڈر کے قریب خود کش دھماکہ‘ رینجرزاہلکاروں سمیت60 جاں بحق ‘80سے زائد زخمی

وزیر اعظم کی وزارت داخلہ اور سیکیورٹی اداروں کو پنجاب حکومت سے مکمل تعاون اور رابطے کی ہدایت
خودکش حملہ آپریشن ضرب عضب کا ممکنہ ردعمل ‘کالعدم جند اللہ نے واہگہ خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرلی

لاہور/واہگہ/

لاہور‘ واہگہ بارڈر کے قریب خود کش دھماکہ‘ رینجرزاہلکاروں سمیت60 جاں بحق ‘80سے زائد زخمی ‘المناک واقعہ میں 2 خاندان اجڑ گئے‘ ایک خاندان کے 8 دوسرے کے 5 نشانہ بن گئے‘آئی جی پنجاب نے دھماکہ کش ہونے کی تصدیق ‘دھماکہ پریڈ ختم ہونے کے بعد ہوا ‘دھماکہ کی آواز کئی کلو میٹر دور تک سنائی دی گئی ‘واہگہ بارڈر چیک پوسٹ کے ارد گرد موجود متعدد عارضی دکانوں کو نقصان پہنچا ‘رینجرز اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا‘ لاہور کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ‘ڈی آئی جی اشرف حیدر کی ہلاکتوں کی تصدیق اضافے کا خدشہ ظاہر کردیا‘ وزیر اعلیٰ نے دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ‘ زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات کی فراہمی کی ہدایت ‘صدر مملکت ‘وزیر اعظم میاں نوا زشریف‘ وزیر اعلیٰ پنجاب ‘ امیر جماعت اسلامی سراج الحق‘ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان‘ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف سمیت دیگر کی دھماکے کی مذمت‘وزیر اعظم کی وزارت داخلہ اور سیکیورٹی اداروں کو پنجاب حکومت سے مکمل تعاون اور رابطے کی ہدایت‘حملہ آپریشن ضرب عضب کا ردعمل ہے ‘کالعدم جند اللہ نے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ۔ اتوار کو پولیس کے مطابق دھماکہ پریڈ ختم ہونے کے بعد ہوا جبکہ ابتدائی اطلاعات ہیں کہ دھماکہ سلنڈر پھٹنے سے ہوا تاہم ابتدائی طورپر حتمی طورپر کچھ نہیں کہا جاسکتا، زخمیوں میں رینجرز اہلکار بھی شامل ہیں۔دھماکے کے باعث واہگہ بارڈر چیک پوسٹ کے ارد گرد موجود متعدد عارضی دکانوں کو نقصان بھی پہنچا ہے جبکہ رینجرز اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔گھرکی ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جبکہ کئی زخمیوں کوشالامار ہسپتال منتقل کیاجارہاہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق ایمبولینسیں مسلسل زخمیوں کو لارہی ہیں اور زخمیوں کی کثیر تعداد کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامناہے۔دھماکے کے مقام سے متعلق متضاد اطلاعات ہیں جن میں کچھ ذرائع کے مطابق دھماکہ واہگہ بارڈر کے قریب ہوٹل میں سلنڈر پھٹنے کے باعث ہوا جبکہ کچھ کے مطابق یہ دھماکہ واہگہ بارڈر کی پارکنگ میں ہوا ہے۔دھماکہ رینجرز مارکیٹ میں ہوا ہے جہاں رینجرز اہلکار بھی موجود تھے۔آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا نے خود کش دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب لوگ پریڈ دیکھ کر باہر ا رہے تھے۔ابتدائی معلومات کے مطابق آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ 18 سے 20 سال کی عمر کے خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔آئی جی پنجاب نے اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دھماکے میں 5 کلو بارودی مواد استعمال ہوا ہے۔آئی جی پنجاب کے مطابق وہاں سیکورٹی اہلکار بھی موجود تھے۔دھماکے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق بارودی مواد میں بال بیرنگ کثیر تعداد میں استعمال کیے گئے جس کے باعث دھماکے کی شدت بہت زیادہ تھی۔خود کش حملہ آور پریڈ ختم ہونے کا انتظار کر رہا تھا اور پریڈ ختم ہونے کے بعد اس نے رش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ ڈی ایم ایس گھرکی ہسپتال ڈاکٹر خرم نے 48 لاشوں کے ہسپتال لانے کی تصدیق کی ہے۔جاں بحق افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اور زخمیوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کردیا۔جبکہ دھماکے میں ایک ہی خاندان کے 8 افراد جبکہ ایک خاندان کے 5 افر اد جاں بحق ہوئے ۔گھرکی ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جبکہ کئی زخمیوں کوشالامار ہسپتال منتقل کیاجارہاہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق ایمبولینسیں مسلسل زخمیوں کو لارہی ہیں اور زخمیوں کی کثیر تعداد کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامناہے۔جبکہ ہسپتال میں جگہ کم ہونے کے باعث زخمیوں کو دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی۔ میاں شہبا زشریف نے قیمتی جانوں کے نقصان پر افسوس کااظہار کرتے ہوئے بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کردی ۔‘وزیر اعظم میاں نوا زشریف‘ وزیر اعلیٰ پنجاب ‘ سابق صدر پرویز مشرف ‘ امیر جماعت اسلامی سراج الحق‘ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان‘ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف سمیت دیگر کی دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ دریں اثناء ذرائع کے مطابق حساس اداروں نے کئی روز قبل محرم الحرام میں ممکنہ دہشت گردی سے نہ صرف پنجاب حکومت آگاہ کر دیا تھا بلکہ ممکنہ دہشت گرد کا خاکہ پولیس کو بھجوا دیا تھا ۔حساس اداروں کے مطابق ممکنہ دہشت گرد کا نام عبدالرحمان ہے اور اس کی عمر تقریباً 17 سال ہے۔حساس اداروں کے مطابق ممکنہ دہشت گرد عبدالرحمان پچھلے کچھ عرصے سے غائب تھا او راس کے بارے میں شبہ تھا کہ یہ محرم الحرام کے جلوس یا کسی اہم حکومتی شخصیت کو نشانہ بنا سکتا ہے ۔ حساس اداروں کی ان معلومات کے بعد پنجاب پولیس حرکت میں آ گئی تھی اور اس نے ممکنہ دہشت گرد کی تلاش کے لیے کئی چھاپے بھی مارے تاہم وہ اسے گرفتار نہ کر سکی اور 8محرم کو دہشت گردی کا یہ واقعہ ہو گیا تاہم اس حملہ میں خودکش حملہ آور کی عمر 20 سے 25 سال بتائی جا رہی ہے۔

Editor

Next Post

e-Paper 01-01-2015

جمعرات جنوری 1 , 2015
  e-Paper