30سے زائدارکان قومی و صوبائی اسمبلی کی جہانگیر ترین کے گھر بیٹھک

30سے زائدارکان قومی و صوبائی اسمبلی کی جہانگیر ترین کے گھر بیٹھک

اجلاس میں آئندہ کی حکمت پر تبادلہ خیال ،پی ٹی آئی ارکان نے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی پیشکش کر دی

اگلااجلاس 21 اپریل کوطلب

لاہور (ویب  نیوز)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے 30سے زائد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کی لاہور میں سردار جہانگیر ترین کے گھر بیٹھک ہوئی۔ اجلاس میں آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پی ٹی آئی ارکان نے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی پیشکش کر دی۔ ارکان اسمبلی نے رائے دی ہے کہ اگر ناانصافیاں جاری رہیں تو استعفے کا آپشن موجود ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق جہانگیر ترین کی بینکنگ کورٹ میں پیشی کے بعد جہانگیر ترین کے ہم خیال اراکین اسمبلی ان کے گھر اکٹھے ہوئے ۔ 30سے زائد ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی جن میں وزراء بھی شامل ہیں ، جہانگیر ترین کے گھر اکٹھے ہوئے اور اس موقع پر ان اراکین اسمبلی کی اکثریت نے جہانگیر ترین سے کہا کہ اگر آپ کہیں تو ہم اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے لئے تیار ہیں تاہم اس پیشکش کو اجلاس میں وقتی طور پر رد کردیا گیا اور کہا گیا یہ ابھی مستعفی ہونے کا وقت نہیں ہے تاہم اگر ناانصافیاں جاری رہیں تو استعفوں کاآپشن موجود ہے۔ اجلاس میں موجود ارکان اسمبلی نے مزید ناراض حکومتی ارکان اسمبلی سے رابطے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ارکان نے اس موقع پر گرما گرم بحث بھی کی اور کہا کہ ابھی تک حکومت نے مثبت رویہ نہیں دکھایا، علاوہ ازیں پی ٹی آئی ہم خیال اراکین کااجلاس21 اپریل کو جہانگیر خان ترین کی رہائش گاہ پر افطار پارٹی کے طور پر بلایا گیا ہے۔اجلا س میں موجودہ صورتحال اور سیاسی مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں مزید نئے ممبران کی آمد بھی متوقع ہے،اس اجلاس میں جہانگیر ترین کی اگلی پیشی کے حوالہ سے متفقہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا کہ اگر حکومت کی جانب سے یہی طرز عمل رکھا جاتا ہے تو پھر پی ٹی آئی ارکان اپنا فیصلہ کرنے میں حق بجانب ہوں گے، وزیر اعظم عمران خان کو ایک خط بھی لکھا گیا تھا کہ ارکان ایک وفد کی صورت میں ان سے ملنا چاہتے ہیں اور جہانگیر ترین کے حوالہ سے جو تحفطات ہیں ان کو حل کیا جائے ، وہ نہ تو کوئی ریلیف مانگ رہے ہیں اور نہ کہہ رہے ہیں کہ ان کے ساتھ کسی قسم کی کوئی رعایت کی جائے لیکن کم ازکم میرٹ پر فیصلہ کیا جائے اور جہانگیر ترین کے معاملہ کو پارٹی کے پلیٹ فارم پر حل کیا جائے، نہ کہ اس ایشو کر میڈیا پر لایا جائے اور عوام کے اندر اس کو لے جایاجائے۔ ZS

#/S