جو رقم سپریم کورٹ کے اکاوئنٹ میں آئی، وہ حکومت پاکستان کے پاس ہی آئی، یہ رقم کسی کے ذاتی اکانٹ میں نہیں گئی..سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا
حقیقت اب کھل کر سامنے آ چکی ہے برطانوی عدالت نے اپنا فیصلہ پبلک کیا ہوا ہے، القادر یونیورسٹی ٹرسٹ ایک ٹرسٹ کے تحت بنائی گئی کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے،
اسلام آباد ( ویب نیوز )
پاکستان تحریک انصاف کی سینئر رہنما اورسابق رکن قومی اسمبلی کنول شوذب نے کہا ہے کہ خواتین جب سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق خاتون اول بشری بی بی کے خلاف مقدمات کی سماعت سنتی تھیں تو کانوں کو ہاتھ لگاتی تھیں، یہ تذلیل صرف بشری بی بی کی نہیں، پورے ملک کی خواتین کی تھی۔ ان خیالات کااظہار کنول شوذب نے پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجاکے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرسلمان اکرم راجہ کا کہنا تھاکہ آج القادر ٹرسٹ کے حوالے سے بات کروں گا، کابینہ اجلاس میں فیصلہ ہوا جو رقم سپریم کورٹ کے اکاوئنٹ میں آئی، وہ حکومت پاکستان کے پاس ہی آئی، یہ رقم کسی کے ذاتی اکانٹ میں نہیں گئی۔ان کا کہنا تھا کہ اس رقم کے بدلے ہمارے فارن ریزرو میں اضافہ ہوا ، سپریم کورٹ کے اکانٹس سے یہ رقم سندھ حکومت کو دی گئی، حقیقت اب کھل کر سامنے آ چکی ہے برطانوی عدالت نے اپنا فیصلہ پبلک کیا ہوا ہے، القادر یونیورسٹی ٹرسٹ ایک ٹرسٹ کے تحت بنائی گئی کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے، یہ ٹرسٹ شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی کی طرح کا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان اور بشری بی بی نے اس یونیورسٹی سے فائدہ اٹھایا یہ سراسر جھوٹ ہے، 26 ویں آئین ترمیم کا مقصد ہی یہ تھا کہ من پسند ججوں کو سامنے لایا جائے، ہم قانون کی جنگ بھی لڑے گے اور اخلاق کی جنگ بھی لڑے گے، 2021 میں اس ٹرسٹ کی ٹرسٹی بنتی ہے اس کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں تھا، بشری بی بی کو سزا سنانے عمران خان کے گھر پر حملہ کیا گیا۔سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ القادر یونیورسٹی کو بند کرنے کی سازش ہورہی ہے۔ان کاکہنا تھا کہ 190ملین پائونڈ کو بنیاد بنا کر حکومت کی جانب سے بڑی یلغار ہوئی، حقیقت پہلے بھی واضح تھی، اب بھی کھل کر سامنے آئے گی۔انہوں نے کہا کہ ایک دو دن میں 190ملین پائونڈ فیصلے کو چیلنج کریں گے، ہم سوچ وفکر کی بنیاد پر لڑیں گے،ہم قانون کی جنگ بھی لڑیں گے اور اخلاق کی بھی۔مرکزی سیکرٹری جنرل تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ القادر یونیورسٹی بند کرنے کی سازش ہورہی ہے، یہ باقی یونیورسٹیوں کی طرح کا ایک ٹرسٹ ہے۔26ویں آئینی ترمیم سے عدالتی نظام کمزور ہوا ، تمام حقیقت سامنے آچکی ہے ہم اعلی عدلیہ سے رجوع کریں گے جبکہ سیاسی حوالے سے ہم ہر سطح پر مذاکرات کررہے ہیں۔کنول شوذب کا کہنا تھا کہ نومئی کے بعد بانی پی ٹی آئی کو ٹارگٹ کرکے 200 مقدمات بنائے گئے، من پسند ڈیل نہ ملنے پر عمران خان کو ہدف کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں پچھلے کچھ دنوں سے تماشہ لگا ہوا ہے، آپ سچ کو چھپا نہیں سکتے، بارہا جھوٹ بولتے ہیں۔9 مئی کے بعد جہاں عمران خان کو ٹارگٹ کیا گیا ساتھ ہی بشری بی بی کو ٹارگٹ کیا گیا، بشری بی بی ایک غیر سیاسی خاتون ہیں۔پاکستان کی سیاست میں خواتین کو ٹارگٹ کرنا شریف خاندان کی روایت ہے، ملک کے سب سے بڑے صوبہ پر جعلی وزیر اعلی تعینات ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو تنگ کرنے کے لئے بشری بی بی کو ناجائز قید میں رکھا گیا، عدت میں نکاح ایک جھوٹا اور غلیظ کیس تھا، بشری بی بی بہانہ ہے عمران خان نشانہ ہے، عدت میں نکاح کیس گھٹیا اور غلیظ کیس تھا۔کنول شوذب نے کہا کہ ہم خواتین جب سماعت سنتی تھیں تو کانوں کو ہاتھ لگاتیں ، یہ تذلیل صرف بشری بی بی کی نہیں پورے ملک کی خواتین کی تھی، من مانی ڈیلز مانگی جارہی ہے، بشری بی بی کو گرمی میں کس طرح رکھا گیا، رات 12 بجے ایمبولینس اندر گئی اور پتہ نہیں چلا کہ کیا ہوا۔انہوں نے کہا کہ کمرے کی بجلی بند کردی جاتی تھی تاکہ بشری بی بی پریشان ہو، آفرین ہے کہ بشری بی بی کو بھی نہ توڑا جاسکا، بشری بی بی حق کیلئے کھڑی ہے، پرسوں سے نیشنل چینل پر تماشا لگا ہوا ہے، 3 نومبر کو مذہبی رنگ کے نتیجے میں بانی چیئرمین پر حملہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ 8 فروری کو آپ کا چورن عوام مسترد کرچکی ہے، سوشل میڈیا کو آپ کنٹرول کرنے میں ناکام رہے ہیں، سچ چھپانے کیلئے آپ کو بار بار جھوٹ بولنا پڑتا ہے، ہمیں آپ کے 50 پریس کانفرنس کے نتیجے میں ایک پریس کانفرنس کرنی ہوتی ہے، لوگ آپ کے جھوٹ جان چکے ہیں، میرا لیڈر محافظ رسالت ہے۔