پاکستان صرف قیام امن میں حصہ لینے کے لیے تیار،حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی کوشش میں شامل نہیں ہوں گے، اسحاق ڈار
،بھارت نے نور خان ائیربیس پر حملہ کر کے سپر غلطی کی،،بھرپور جواب دے کر اس کا غرور خاک میں ملادیا
۔نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس
اسلام آباد(ویب نیوز)
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ہم حماس کو غیرمسلح کرنے نہیں جائینگے،حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی کوشش میں شامل نہیں ہوں گے، پاکستان صرف قیام امن میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے،بھارت نے نور خان ائیربیس پر حملہ کر کے سپر غلطی کی، 4 روزہ جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج نے بھارتی دعوں کو پاش پاش کردیا اور اس کا غرور خاک میں ملادیا۔پہلگام کی آڑ میں بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو نشانہ بنایا،پلوامہ کی آڑ میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرنے کی کوشش کی۔ امریکی صدر 60 سے زائد بار دنیا کو پاکستان کی فتح کا بتا چکے۔ ان خیالات کااظہار نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں اپنی سالانہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ متحدہ عرب امارات کے صدر کا حالیہ دورہ پاکستان نہایت خوش آئند رہا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ یو اے ای صدر کے دورے کے دوران دوطرفہ تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر تفصیلی بات چیت ہوئی، جبکہ یہ دورہ مختلف شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان متعدد تجارتی اور سرمایہ کاری معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔ ان معاہدوں میں توانائی، بینکنگ اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے شامل ہیں، جو دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو نئی جہت دیں گے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ پاکستان کے خارجہ تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کا وقار دنیا بھر میں بلند ہوا ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کو بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی ہے، جو حکومت کی متوازن اور موثر خارجہ حکمت عملی کا ثبوت ہے۔ اسحاق ڈار نے کہاکہ 22 اپریل کے بعد دفتر خارجہ بہت زیادہ متحرک رہا، بھارت نے نور خان ائیربیس پر حملہ کر کے سپر غلطی کی، بھارت نے ایف 16 گرانے کا بھی جھوٹ بولا، ہم نے دنیا کو بتایا کہ ہم پہل نہیں کریں گے۔پہلگام کی آڑ میں بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو نشانہ بنایا،پلوامہ کی آڑ میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرنے کی کوشش کی،پلوامہ کے بعد بھارت نے جو کچھ کیا وہ ہمیں یاد تھا، بھارت نے 36 گھنٹوں میں 80 ڈرون بھیجے، 79 کو ہم نے نیوٹرلائز کیا۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ طیارے گرائے جانے کے بعد بھارت نے مسلسل غلط بیانی کی،ہم نے کسی کو نہیں کہا کہ ہماری بھارت سے صلح صفائی کروائے، 4 روزہ جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج نے بھارتی دعووں کو پاش پاش کیا۔ امریکی صدر 60 سے زائد بار دنیا کو پاکستان کی فتح کا بتا چکے، امریکا کے ساتھ ہماری تجارت 13.28 ارب ڈالر ہوگئی ہے، ہمارا ٹریڈ سرپلس ہے، ہمارا امریکا کے ساتھ انسداد دہشت گردی تعاون بڑھا ہے، امریکا نے اس سال بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو عالمی دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا، اللہ نے پاکستان کو عالمی برادری میں بہت پذیرائی دی ہے، جب وزیراعظم نے حلف اٹھایا تھا تو پاکستان سفارتی سطح پر تنہائی کے شکار ملک کے طور پر جانا جاتا تھا، ہمیں اب پاکستان کو معاشی قوت بنانا ہے، بھارت کو ہمارے جواب کے بعد مجھے امریکی وزیرخارجہ نے کال کی، پاکستان نے بہترین حکمت عملی اپناتے ہوئے بھارت کو بھرپور جواب دیا۔ انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم نے اقتدار سنبھالا تو پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار تھا، چھ مئی سے پہلے اور بعد میں ساٹھ عالمی لیڈروں کی کالزآئیں، بھارت کا میزائل مارنا بڑی غلطی تھی، ایک ڈرون نے فوجی تنصیبات کو معمولی نقصان پہنچایا، پاک بھارت جنگ میں بھارت کے 79 ڈرونز نیوٹرلائز کیے۔انہوں نے کہا کہ 2025 میں پاکستان کو عزت ووقار ملا پاکستان سفارتی سطح پر تنہا تھا، پاکستان کی ایک ارب کی لایبیلیٹی سرمایا کاری میں تبدیل ہو جائے گی، یو اے ای کی فوجی فاونڈیشن میں ایک ارب ڈالر کی سرمایا کاری ہوگی۔ علاقائی تعلقات پر بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ رواں برس بنگلہ دیش میں جمود ٹوٹا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش کے دورے کے دوران پاکستانی وفد نے بنگلہ دیشی سیاسی جماعتوں کی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف 36 گھنٹے کے دورے میں پاکستان کے لیے بنگلہ دیش میں بہت زیادہ گڈ ول دیکھنے میں آئی۔ بنگلہ دیش میں انتخابات کے بعد نئی حکومت کے ساتھ بھرپور انگیجمنٹ کی جائے گی۔ نائب وزیراعظم کے مطابق سری لنکا اور نیپال کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بھی رواں برس نہایت اچھے رہے ہیں، جو خطے میں پاکستان کی فعال سفارت کاری کا مظہر ہیں۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہاکہ ہم حماس کو غیر مسلح کرنے نہیں جائیں گے، پاکستان صرف قیام امن میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی کوشش کا حصہ نہیں بنیں گے۔وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس پر سول ملٹری قیادت میں بہت کلیئرٹی ہے، فوج بھیجنے کے فیصلے سے متعلق کسی خبر کی تصدیق نہیں کر سکتا، 20 سے زائد ممالک تیار ہیں وہ بے شک حماس کو غیر مسلح کریں ہم ایسا کام نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان سے ہزارعلما کا کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی نہ کرنے کا فتوی خوش آئند ہے، افغانستان کی طرف سے اعلان کے بعد ہمیں اس کے اثرات دیکھنا ہوں گے، ہم نے یواین کے جتنے کنٹینرز تھے انہیں انسانی بنیادوں پر افغانستان جانے کی اجازت دی ہے۔ ہم نے ماضی میں دہشت گردی کا 98 فیصد خاتمہ کردیا تھا، تیس 40 ہزار دہشت گرد واپس آئے اور دوبارہ دہشت گردی شروع کردی، اگرپاکستان کوخوشحال بنانا ہے تو اس دہشت گردی سے جان چھڑانا پڑیگی۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈارنے کہاکہ ہم نے برطانیہ کو ڈیمارش کیا ہے اور بالکل ٹھیک کیا ہے، یہ اس ملک کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے کاموں کو روکے، یورپی یونین سے چار سال سے کوئی فعال رابطہ نہیں تھا، ہمارا یورپی یونین کے ساتھ چار سال بعد برسلز میں اسٹریٹیجک ڈائیلاگ ہوا۔ نائب وزیر اعظم کے مطابق چین پاکستان کا آہنی دوست تھا، ہے اور رہے گا، دورہ ماسکو میں پاک چین دوستی کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا، پاک چین دوستی اور تعلقات مثالی ہیں۔انہوں نے کہا کہ چینی وزیر خارجہ سے 19 مئی کو ملاقات ہوئی، ان سے کہا ہم نے آپ کی ٹیکنالوجی کی بہترین مارکیٹنگ کی، رواں برس صدر اور وزیر اعظم نے بھی چین کے دورے کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ 17 ستمبر کو اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس معاہدہ ہوا، سعودی عرب اور چین کی پاک بھارت تنازع میں کردار کو بھولا نہیں جا سکتا، ترکیہ کے ساتھ بھی ہماری دوستی ہے، سعودی عرب نے ہر معاشی بحران میں پاکستان کو سپورٹ کیا، حرمین شریفین کی حفاظت کیلیے ہر پاکستانی تیار ہے۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ فلسطین کو پاکستان نے ہمیشہ سپورٹ کیا ہے، فلسطین کی آزاد ریاست ہونی چاہیے بیت القدس دارالخلافہ ہونا چاہیے، فلسطین سے متعلق پاکستان کا موقف بہت دیرینہ ہے، یو این اجلاس میں پاکستان سمیت 7 ممالک نے غزہ پر ٹرمپ کو رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔ وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اسرائیل معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے، پاکستان معاہدہ کی خلاف ورزی کی مذمت بھی کر رہا ہے، دیگر ممالک بھی اسرائیل کی مذمت کر رہے ہیں،





