پاکستان کے ایران اور افغانستان کیساتھ مضبوط و پائیدارتعلقات خطہ کی ترقی وتحفظ کے لئے ناگزیر ہیں. لیاقت بلوچ

30 دسمبر کواپنجاب گرینڈ کنونشن میں پنجاب بھر میں بلدیاتی کالے قانون کے خلاف اور بااختیار بلدیاتی نظام کے قیام کے لئے پُرامن انقلابی جدوجہد کا لائحہ عمل دیا جائے گا،میڈیا سے گفتگو

لاہور(ویب  نیوز) نائب امیر جماعت اسلامی، سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ ملک و مِلّتِ کو سیاسی، معاشی، سماجی بحرانوں اور ہمسایہ برادر ملکوں کے ساتھ سفارتی تعلقات کے بحران سے نکالنا پوری قومی، سیاسی اور عسکری قیادت کی ذمہ داری ہے. پاکستان کے ایران اور افغانستان کیساتھ مضبوط، پائیدار اور بااعتماد تعلقات خطہ کی ترقی اور تحفظ کے لئے ناگزیر ہیں.نائب امیر جماعت نے  امیرالعظیم، فرید احمد پراچہ، جاوید قصوری کے ہمراہ ایم پی اے عرفان شفیع کھوکھر کے انتقال پر ملک شفیع کھوکھر، ملک سیف الملوک، ملک افضل کھوکھر، ملک فیصل کھوکھر اور ملک شہباز کھوکھر سے تعزیت اور دُعائے معفرت، صبرِ جمیل کی دُعائیں کیں. ملک مھمد الیاس کے بھتیجے، جماعتِ اسلامی کے مرحوم رہنما بشیر عارف کے پوتے اور معروف سیاسی رہنما میاں ظہور وٹو کے بیٹے کی دعوتِ ولیمہ تقریب میں شرکت کی اور مرکزی مسلم لیگ/ ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی رہنما قاری یعقوب شیخ کے بیٹے کی ولیمہ تقریب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئیکہا کہ قرآن و سُنت کی بالادستی، آئین کے مطابق مملکتِ خداداد پاکستان کے نظام کو استوار کرنا ملک و مِلّتِ کی طاقت بنے گا؛ اس سے انحراف اور فرار سے فساد، انتشار اور لاقانونیت پھیلے گی، جو کسی صورت ملک و مِلّتِ کے مفاد میں نہیں.انہوں نے کہا کہ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم آئین کو متنازع بنانے کی سازش ہے. فوجی آمریت، پی پی پی، پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کی حکومتوں نے کبھی بھی اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو پارلیمنٹ میں پیش کرکے آئین کے مطابق اسلامی قانون سازی کی کوشش نہیں کی. کسی بھی حکومت نے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات، وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں اور آئینِ پاکستان کے حکم کے مطابق سُود جیسی لعنت کے خاتمہ اور پاکیزہ اسلامی معاشی نظام کے قیام کی سمت میں کوئی اقدام نہیں کیا.لیاقت بلوچ نے کہاکہ عملاً پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں فوجی حکمرانوں اور نام نہاد پاپولر سیاسی، جمہوری شخصیات کی بالادستی کا مصنوعی انجینئرڈ نظام ناکام ہوگیا ہے. فرضی، مصنوعی بیانیوں نے پوری قوم کا وقت اور وسائل برباد کئے ہیں. جماعتِ اسلامی کے مینارِ پاکستان اجتماعِ عام میں ”بدل دو نظام” کے لائحہ عمل پر عوام ساتھ دیں، انشائاللہ ھم اِس فرسودہ اور اسلام و عوام دشمن نظام کو بدل کر دکھائیں گے اور بابرکت، خوشحال اسلامی نظام قائم کریں گے. لیاقت بلوچ نے کہا کہ مئی 2025ء میں معرکہ حق بُنیان مّرصُوص کی کامیابی نے دُنیا بھر میں پاکستان کی عزت و توقیر میں اضافہ کیا. 2025ء میں فلسطینیوں اور کشمیریوں پر یہود و ہنود نے ظلم و ستم کی انتہا کردی. 2025ء میں بھی اسلام آباد، کوئٹہ اور پنجاب کے عوام بااختیار بلدیاتی نظام اور بلدیاتی انتخابات سے محروم رہے. 30 دسمبر کو امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمن کے طلب کردہ پنجاب گرینڈ کنونشن میں پنجاب بھر میں بلدیاتی کالے قانون کے خلاف اور بااختیار بلدیاتی نظام کے قیام کے لئے پُرامن انقلابی جدوجہد کا لائحہ عمل دیا جائے گا.#