اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا درست نہیں، او آئی سی کا اعلامیہ
اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس جدہ میں منعقد ہوا، جس میں فواد شیرنے پاکستان کی نمائندگی کی۔
جدہ ( ویب نیوز)
اسرائیل کی جانب سے نام نہاد صومالی لینڈ ریجن کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کے معاملے پر اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس غیر قانونی فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اس معاملے پر او آئی سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کا غیرمعمولی اجلاس جدہ میں منعقد ہوا جس میں صومالیہ کی صورتحال اور اسرائیل کے یکطرفہ و غیرقانونی اقدام پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں مستقل نمائندے محمد فواد شیرنے غیر معمولی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی، فواد شیرنے صومالیہ کی خود مختاری پر پاکستانی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ اسرائیلی اقدام صومالیہ کی سرحدوں پر براہ راست حملہ ہے، اسرائیل کی فلسطینی عوام کو صومالی لینڈ ملک بدری پالیسی سخت پریشان کن ہے۔ فواد شیر کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا فلسطین پر قبضہ مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام اور تنازعات کا مرکزی ذریعہ ہے، اسرائیل اب اس غیر مستحکم رویئے کو افریقہ میں برآمد کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے علاقائی امن و سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے اجلاس میں مشترکہ اعلامیہ منظور کر لیا گیا، اعلامیے میں صومالیہ کی حمایت میں اوآئی سی ممالک نے اسرائیل کے فیصلے کی مذمت کی۔ خیال رہے کہ دسمبر 2025 میں اسرائیل نے صومالی لینڈ کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا، جسے صومالی لینڈ کی قیادت نے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے مطابق اسرائیل زرعی ترقی، صحت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں صومالی لینڈ کے ساتھ تعاون کو وسعت دینا چاہتا ہے۔اپنے ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے صومالی لینڈ کے صدرعبدالرحمان محمد عبداللہی کو مبارک باد دی تھی اور انہیں اسرائیل کے دورے کی دعوت بھی دی تھی۔





