امریکی  اخبار   وال  اسٹریٹ  جرنل کے مطابق  سعودی  عرب کی قیادت  میں  خلیجی ممالک  نے ایران  پر امریکی حملےکی مخالفت کی ہے۔عرب ممالک خاموش ہیں لیکن پس منظر میں رہ کر لابنگ کر رہے ہیں کہ امریکا ایران پر حملہ نہ کرے کیونکہ اس سے عالمی آئل مارکیٹ کو شدید دھچکہ لگے گا اور لامحالہ امریکی معیشت بھی متاثر ہوگی۔

امریکی اخبار کے مطابق عرب ریاستوں کو خدشہ ہےکہ ایران پر حملے سے آبنائے ہرمز کے ذریعےگزرنے والے تیل کے ٹینکروں کی آمدورفت متاثر ہوسکتی ہے، یہ تنگ آبی گزرگاہ خلیج فارس کے دہانے پر ایران کو اس کے عرب پڑوسیوں سے جدا کرتی ہے اور دنیا کی تقریباً پانچویں حصےکی تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان رابطے معطل ہوچکے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری مظاہروں کے بعد سخت کریک ڈاؤن پر  مداخلت کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

امریکا ایران پر حملہ  نہ کرے ورنہ عالمی آئل مارکیٹ ہل جائیگی: سعودیہ، قطر اور عمان نے خبردار کردیا

واشنگٹن  ( ما نیٹرنگ ڈیسک )

امریکی  اخبار   وال  اسٹریٹ  جرنل کے مطابق  سعودی  عرب کی قیادت  میں  خلیجی ممالک  نے ایران  پر امریکی حملےکی مخالفت کی ہے۔ وال اسٹریٹ  جرنل کے مطابق سعودی عرب، قطر  اور عمان  نے امریکا کو خبردار کیا ہےکہ  وہ ایران پر حملہ  نہ کرے  ورنہ عالمی آئل مارکیٹ ہل جائےگی اور اس سے امریکی معیشت کو بھی نقصان پہنچےگا۔

اخبار کے مطابق  بظاہر یہ عرب ممالک خاموش ہیں لیکن پس منظر میں رہ کر لابنگ کر رہے ہیں کہ امریکا ایران پر حملہ نہ کرے کیونکہ اس سے عالمی آئل مارکیٹ کو شدید دھچکہ لگے گا اور لامحالہ امریکی معیشت بھی متاثر ہوگی۔

اخبار کے مطابق سعودی حکام نے تہران کو یقین دلایا ہےکہ وہ ایران کے ساتھ کسی تنازع میں نہیں پڑیں گے  اور امریکا کو ایران پر حملےکے لیے اپنی فضائی حدود استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ یہ اقدام امریکی کارروائی سے خود کو دور  رکھنے اور اسے روکنے کی کوشش کے طور پر کیا گیا ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق عرب ریاستوں کو خدشہ ہےکہ ایران پر حملے سے آبنائے ہرمز کے ذریعےگزرنے والے تیل کے ٹینکروں کی آمدورفت متاثر ہوسکتی ہے، یہ تنگ آبی گزرگاہ خلیج فارس کے دہانے پر ایران کو اس کے عرب پڑوسیوں سے جدا کرتی ہے اور دنیا کی تقریباً پانچویں حصےکی تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔

اخبار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے واضح نہیں کیا کہ ایران کے خلاف کس نوعیت کی فوجی کارروائی پر غور کیا جا رہا ہے تاہم حکام کا کہنا ہےکہ حملے کا امکان زیادہ ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ ایران کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے صدر ٹرمپ کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں، صدر مختلف آرا سنتے ہیں لیکن آخرکار وہی فیصلہ کرتے ہیں جو وہ بہتر سمجھتے ہیں۔

گزشتہ روز  ٹرمپ نے ایرانی مظاہرین سے براہ راست مخاطب ہوتے ہوئے انہیں حکومت کی جانب سے احتجاج دبانے کی کوششوں کی مخالفت کرنے اور  ریاستی اداروں پر قبضہ کرنے کو کہا تھا اور  اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا کہ  ‘مدد آ رہی ہے۔’ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان براہِ راست رابطے منقطع ہو گئے ہیں جس کے بعد ممکنہ حملوں کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ  ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان رابطے معطل ہوچکے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری مظاہروں کے بعد سخت کریک ڈاؤن پر  مداخلت کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

گزشتہ روز ٹرمپ نے سوشل میڈیا پت جاری اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے محب وطن لوگ احتجاج جاری رکھیں، اپنے اداروں پر قبضہ کرلیں، مدد پہنچ رہی ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ قاتلوں اور ظلم کرنے والوں کے نام یاد رکھیں، انہیں بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔

دوسری جانب تہران نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا۔