(سانحہ گل پلازہ ) کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے اور اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کا مطالبہ
سارے کام ایم کیو ایم نے کیے ہیں تو ہمیں پھر پھانسی پرلٹکاؤ، جو غلط عمارتیں ہم نے بنائیں کیا 18سال میں ان کو کسی نے روکا؟ کراچی میں پریس کانفرنس
کراچی کے عوام ریاست کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ آگے بڑھ کر ان کی بات سنے، کراچی کے عوام کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ مصطفیٰ کمال

کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست نے کراچی کو کس کے حوالے کر رکھا ہے، پورا شہر سوال کر رہا ہے کہ آخر کچھ کیوں نہیں کیا جا رہا، کراچی کے عوام ریاست کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ آگے بڑھ کر ان کی بات سنے، کراچی کے عوام کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب سندھ حکومت سے شکایت کی جاتی ہے تو ایم کیو ایم پر بلدیہ فیکٹری، بھتہ خوری اور بوری بند لاشوں کے الزامات لگا دیے جاتے ہیں، حالانکہ ان جرائم سے ایم کیو ایم کا کوئی تعلق نہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی ناراضگی کی وجہ سے وزیراعظم چاہتے ہوئے بھی کچھ چیزیں نہیں کرسکتے، بینظیر بھٹو کی شہادت پر شہر کو آگ بھی ایم کیو ایم نے لگائی؟ 2008کی حکومت میں سارے کیسز ایم کیو ایم نے ختم کیے؟ آپ 18سال سے صوبے میں ہیں تو ہمیں پھانسی پر کیوں نہیں لٹکاتے؟
انہوں نے کہا کہ سارے کام ایم کیو ایم نے کیے ہیں تو ہمیں پھر پھانسی پرلٹکاؤ، جو غلط عمارتیں ہم نے بنائیں کیا 18سال میں ان کو کسی نے روکا؟ آپ بلدیہ فیکٹری اوربوری بند لاشوں کی بات کرتے ہیں، اسی دور میں آپ کی پارٹی کے صدر ایم کیو ایم کی درگاہ پر آتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کو چلانے کے لیے پیپلز پارٹی کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے، جس کے باعث نظام درہم برہم ہو چکا ہے، اگر نظام کو بچانے کے لیے کراچی کو قربانیاں دینی پڑیں گی تو ریاست واضح طور پر بتا دے کہ مزید کتنی جانیں درکار ہیں، کراچی کو بھٹو کے دیے گئے آئین کے مطابق ملک کا فنانشل کیپیٹل بنایا جائے اور اسے وفاق کے تحت لیا جائے، کیونکہ موجودہ نظام میں یہ لوگ ٹھیک ہونے والے نہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے کراچی کے عوام کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور یہ ترمیم ملک کے لیے ناسور بن چکی ہے، اٹھارویں ترمیم کوئی مقدس شق نہیں، پاکستان کو بچانے کے لیے اسے واپس لینا ہوگا، انہوں نے آرٹیکل 148 اور 149 کے تحت وفاقی مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایم کیو ایم صوبے میں اقلیت میں بھی رہے تو کیا شہریوں کو پانی، سڑکیں اور بنیادی سہولیات نہیں دی جائیں گی؟
انہوں نے پیپلز پارٹی پر الزام عائد کیا کہ ایم کیو ایم کی جانب سے وزیراعظم سے فنڈز حاصل کرنے پر وزیراعلیٰ سندھ انہیں رکوا دیتے ہیں، یہ جمہوری دہشت گردی ہے جسے سندھ میں فوری طور پر ختم ہونا چاہئے، امید ہے کہ حکومتِ پاکستان اور ریاستِ پاکستان بات سنیں گے اور کراچی کے عوام کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔





