نالے میں گرنے والی 24 سالہ خاتون کی نعش تقریباََ 3 کلو میٹر دور آؤٹ فال روڈ سے ملی جبکہ 10 ماہ کی بچی کی نعش 17 گھنٹے بعد برآمد کر لی گئی ہے

سپر.  ( ماں بیٹی کی موت )غیر محفوظ مین ہول اور  غفلت   حادثے کا سبب قرار

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے تحقیقاتی کمیٹی بنا دی، ڈائریکٹر ٹیپا شبیر حسین اور  پراجیکٹ ڈائریکٹر زاہد عباس اور ڈپٹی ڈائریکٹر شبیر احمد کو بھی معطل کر دیا گیا۔

سیوریج ہول میں 2 افراد گرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے اس میں کسی انسان کا ڈوبنا تکنیکی طور پر ممکن ہی نہیں، جس مقام کی نشاندہی کی گئی ہے وہ داتا دربار کے قریب پرندہ مارکیٹ میں ہے،

لاہور: بھاٹی گیٹ کے قریب نالے میں گرنے والی خاتون اور بچی کی نعشیں مل گئیں

لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ کے قریب نالے میں گرنے والی 24 سالہ خاتون کی نعش تقریباََ 3 کلو میٹر دور آؤٹ فال روڈ سے ملی جبکہ 10 ماہ کی بچی کی نعش 17 گھنٹے بعد برآمد کر لی گئی ہے۔  ریسکیو کی غوطہ خور ٹیم کو سگیاں کے قریب سے بچی کی نعش ملی ہے۔

قبل ازیں ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ بدقسمت واقعہ رپورٹ ہوا اور 1122 کو کال آئی، اس کال کو دیکھ کر تمام تر واقعے کہ تحقیق کی گئی، خاتون کی نعش ملنے کے بعد تمام ادارے اس وقت بچی کو ڈھونڈنے کیلئے مل کر کام کر رہے ہیں۔

فیصل کامران نے مزید بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے خاتون کے شوہر کی ایک، ایک بات سچ ثابت ہوئی، یہ لوگ داتا دربار سے سلام کر کے نکلے تھے کہ حادثہ پیش آگیا، سیف سٹی نے تمام چیزیں نکال لی ہیں۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی بنا دی، جو 24 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرے گی، جبکہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ڈائریکٹر ٹیپا شبیر حسین کو معطل کردیا گیا، غفلت اور کوتاہی کے مرتکب پراجیکٹ ڈائریکٹر زاہد عباس اور ڈپٹی ڈائریکٹر شبیر احمد کو بھی معطل کر دیا گیا۔

خاتون کی نعش ملنے سے قبل ریسکیو ذرائع کا کہنا تھا کہ جس سیوریج ہول میں 2 افراد گرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے اس میں کسی انسان کا ڈوبنا تکنیکی طور پر ممکن ہی نہیں، جس مقام کی نشاندہی کی گئی ہے وہ داتا دربار کے قریب پرندہ مارکیٹ میں ہے، انتظامیہ نے اس جگہ کھدائی کر رکھی تھی۔

ریسکیو ذرائع نے بتایا کہ واقعے کے وقت اس علاقے میں اندھیرا تھا، ریسکیو 1122 کی سپیشلائزڈ ٹیمیں اور غوطہ خور صرف چند منٹوں میں جائے وقوع پر پہنچ گئے، جبکہ لاہور انتظامیہ کا کہنا تھا کہ سیوریج لائن کا معائنہ کیا، معلوم ہوا کہ وہاں کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔

اس دوران لاپتہ خاتون کے والد نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ اس کی بیٹی کو قتل کیا گیا ہے، اس بیان کے بعد پولیس نے خاتون کے شوہر سمیت 3 افراد کو گرفتار کر لیا جنہیں بعد میں رہا کر دیا گیا۔

گھر سے باہر سیر کرنے نکلی متاثرہ فیملی مینار پاکستان کے بعد داتا دربار پہنچی تھی، اس دوران خاتون اور بچی کھلے نالے کی منڈیر پر بیٹھیں جہاں سے دونوں نیچے گر گئیں۔

ماں بیٹی گرنے پر داتا دربار منصوبے کی پوری ٹیم معطل، ٹیپا ذمہ دار قرار
دوسرا انٹرو
لاہور  (  بیورو چیف  ) صوبائی دارالحکومت کے بھاٹی چوک میں ماں بیٹی کے سیوریج لائن میں گرنے کے واقعہ کی ابتدائی رپورٹ مرتب کر لی گئی، وزیراعلیٰ نے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دینے کا حکم دے دیا، پولیس کو مقدمہ کے لیے درخواست دے دی گئی۔  ذرائع کے مطابق فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ مرتب کر لی، واقعہ پر ٹیپا انتظامیہ نے ابتدائی رپورٹ غلط دی اور غلط بریف کیا گیا، بعض ویڈیوز اور شوہر کا بیان سننے کے بعد دوبارہ آپریشن شروع کیا گیا۔  بتایا گیا کہ دوبارہ آپریشن کے دوران خاتون سعدیہ کی لاش ملی اور مسلسل آپریشن کے بعد کمسن بچی ردا فاطمہ کی لاش بھی مل گئی، وزیراعلیٰ کو بریف دی گئی کہ ٹیپا کے افسران کی غفلت کے باعث یہ واقعہ رونما ہوا۔

ذرائع کے مطابق داتا دربار کے باہر لگے کیمروں نے مدد کی، سیف سٹی کے کیمروں سے موقع کی کلیئر ویڈیو نہ مل سکی، اوپن اور غیر محفوظ مین ہول حادثے کا سبب بنا، مانیٹرنگ میں ذمہ داروں نے انتہائی غفلت برتی، سگیاں سے بچی کی لاش برآمد کی گئی۔

وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف نے پورے عملے کو فوری طورپر معطل کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ غفلت کسی صورت برداشت نہیں کروں گی، انتہائی دلخراش واقعہ ہے، جس پر مجھے شدید دکھ ہے۔

دوسری طرف ٹیپا کی جانب سے واقعے پر مقدمہ درج کرانے کے لیے تھانہ بھاٹی دروازہ پولیس کو باضابطہ درخواست دے دی گئی، منصوبے کے ٹھیکیدار پر حفاظتی انتظامات نہ کرنے کا الزام لگایا گیا۔

ٹیپا کے مطابق سائٹ ٹھیکیدار کے حوالے کرنے کے بعد مکمل ذمہ داری کنٹریکٹر پر عائد تھی، اوپن اور غیر محفوظ مین ہول حادثے کا سبب بنا، درخواست میں ٹھیکیدار کے پراجیکٹ منیجر، سیفٹی انچارج اور سائٹ انچارج کو نامزد کیا گیا۔

ٹیپا کے مطابق بیریکیڈنگ، وارننگ سائنز اور مین ہول کور فراہم نہیں کیے گئے، درخواست میں کہا گیا کہ واقعہ سے عوام میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، ذمہ داران کے خلاف تعزیری قوانین کے تحت کارروائی کی جائے۔

علاوہ ازیں ڈی جی ایل ڈی اے نے داتا دربار منصوبے پر کام کرنے والی پوری ٹیم معطل کر دی، معطل کیے جانے والے افسران میں پراجیکٹ ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور سب انجینئر شامل ہیں۔

قبل ازیں پراجیکٹ ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر کو معطل کیا گیا تھا، کنٹریکٹر پر فوری مقدمہ درج کرانے کی ہدایت کی گئی، پراجیکٹ پر کام کرنے والی نجی کمپنی کو شو کاز نوٹس جاری کر دیا گیا، ڈی جی ایل ڈی اے کی ہدایت پر ریزیڈنٹ انجینئر نیسپاک کو شو کاز نوٹس جاری کیا گیا۔

ڈی جی ایل ڈی اے نے نیسپاک کے ریزیڈنٹ انجینئر کی معطلی اور محکمانہ کارروائی و انکوائری کی سفارش کی، منصوبے میں نیسپاک ٹیم کے کردار کو بھی انکوائری کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔