یہ صرف مارچ نہیں بلکہ کراچی کے مستقبل کا فیصلہ ہے اہلِ کراچی کو گھروں سے نکلنا ہوگا حافظ نعیم الرحمن
مارچ میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان ہوگا آج اہل کراچی اپنے مسائل کے حل کے لیے فیملی کے ہمراہ شریک ہوں شہریوں سے اپیل
کراچی( ویب نیوز)
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کراچی آمد کے موقع پر سانحہ گل پلازہ، حکومتی نااہلی و مجرمانہ غفلت، کراچی کے عوام کو درپیش سنگین مسائل اور یکم فروری کو شاہراہ فیصل پر ہونے والے ”جینے دو کراچی مارچ” کے سلسلے میں نمائش چورنگی پر قائم کیمپ کا دورہ کیا اور میڈیا سے گفتگو کی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کل شاہراہ فیصل پر عظیم الشان ”جینے دو کراچی مارچ”ہوگا مارچ میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ مارچ میں تمام مکتبہ فکر سے وابستہ افراد بلا تفریق رنگ و نسل و مذہب کے فیملی کے ہمراہ بڑی تعداد میں شریک ہوں یہ صرف مارچ نہیں بلکہ کراچی کے مستقبل کا فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ اب اہلِ کراچی کو گھروں سے نکلنا ہوگا اور قبضہ سسٹم کے خلاف بھرپور جدوجہد کرنی ہوگی۔ عوام نے اپنے میئر کا انتخاب کیا مگر اس پر بھی قبضہ کر لیا گیا، جسے اب ختم کرنا ہوگا۔ نہ ہمیں وفاق کا کنٹرول چاہیے اور نہ صوبے کا، بلکہ اہلِ کراچی کی اپنی بااختیار سٹی گورنمنٹ ہونی چاہیے جو آئین کے مطابق تمام اختیارات کی مالک ہو۔ جب اختیارات بیوروکریسی اور غیر منتخب عناصر کے ہاتھ میں ہوں گے تو نظام کبھی درست نہیں ہو سکتا۔انہوں نے اہلِ کراچی سے اپیل کی کہ وہ یکم فروری کو شاہراہ فیصل پر بڑی تعداد میں پہنچیں، بالخصوص نوجوان آگے بڑھ کر اس شہر کا مقدمہ لڑیں۔ اگر آج مزاحمت نہ کی گئی تو اسی طرح شہری ٹرالروں کے نیچے کچلے جاتے رہیں گے اور عوام کے ٹیکسوں کے پیسوں کو اشتہارات اور کرپشن کی نذر کردیا جائے گا۔امیر جماعت اسلامی نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور قابض میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سانحہ گل پلازہ کے بعد استعفیٰ دیں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ آج پورے شہر میں مختلف مقامات پر ریلیاں اور احتجاجی کیمپس لگائے گئے ہیں جو اہلِ کراچی کی پکار، امیدوں اور تمناؤں کی ترجمانی کر رہے ہیں۔ اس وقت کراچی کی حالت یہ ہے کہ پورا شہر کھنڈر کا منظر پیش کر رہا ہے اور حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ گزشتہ 17 سال سے سندھ پر پیپلز پارٹی کی حکومت ہے مگر ان 17 برسوں میں کراچی کو پانی، سیوریج، سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کا کوئی بڑا منصوبہ نہیں دیا گیا۔ شہر کے حصے کے 3360 ارب روپے کرپشن اور لوٹ مار کی نذر کر دیے گئے جبکہ عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آج صورتحال یہ ہے کہ پانی نلکوں میں نہیں بلکہ ٹینکروں کے ذریعے ملتا ہے اور ٹینکر مافیا کا راج قائم ہے۔ کراچی کے بچے کبھی کھلے گٹروں میں گر جاتے ہیں، کبھی ٹرالروں کی زد میں آتے ہیں اور کبھی آگ لگنے کی صورت میں انہیں بچانے والا کوئی نہیں ہوتا۔انہوں نے کہاکہ سانحہ گل پلازہ واقعہ پوری قوم کے لیے شدید اضطراب کا باعث بنا۔ فائر بریگیڈ کا عملہ تاخیر سے پہنچا، گاڑیوں میں پانی موجود نہیں تھا اور ریسکیو کے لیے ضروری آلات بھی دستیاب نہیں تھے۔ حکمران بتائیں کہ جب بنیادی سہولیات موجود نہیں تو پھر عوام کے ٹیکس کا پیسہ کہاں جا رہا ہے؟امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کراچی ٹیکس دیتا ہے تو پورا ملک چلتا ہے لیکن کراچی کی معیشت میں عظیم کردار کے باوجود اس کے وسائل کو کرپشن اور نااہلی کی نذر کر دیا گیا۔ہمیشہ پیپلز پارٹی کو ایم کیو ایم جیسی جماعتوں کی سہولت کاری حاصل رہی اور عوام کو دھوکہ دینے کے لیے ”فرینڈلی اپوزیشن” کا کھیل کھیلا جاتا رہا۔#
#/S




