انٹرنیشنل سٹبلائزیشن فورس سے متعلق ریڈ لائن ظاہر کی ہے، اس کا مینڈیٹ سامنے آنے تک پاکستان فیصلہ نہیں کر سکتا، پاکستان اپنی فوج امن کیلئے دے سکتا ہے، حماس کو غیر مسلح کرنے کیلئے نہیں۔

  لیڈ  (بورڈ آف پیس /  اسرائیل  کی موجودگی )  پاکستان کو فرق نہیں پڑتا: دفتر خارجہ

سابق اسرائیلی وزیراعظم نیٹالی بینٹ کا بیان افواہوں پر مبنی ہے، ہم اس کے کسی بیان کا ردعمل نہیں دیتے، ہم اپنے کشمیری بہنوں بھائیوں کی بھرپور سفارتی اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔ وزیر اعظم بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں شرکت کریں گے.

پاکستان نے 16 فروری 2026 کے باجوڑ دہشت گرد حملے، جس میں 11 پاکستانی فوجی شہید ہوئے، پر افغان طالبان حکومت کے خلاف سخت احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے افغان ناظم الامور  کو دفتر خارجہ طلب کیا اور مضبوط ڈیمارش جاری کیا۔ باجوڑ میں واقع چوکی پر فائرنگ کے حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی،

بورڈ آف پیس میں اسرائیل کے ہونے نہ ہونے سے پاکستان کو فرق نہیں پڑتا: دفتر خارجہ
whatsapp sharing button

اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف دورہ امریکا کے دوران اعلیٰ امریکی حکام کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، وزیراعظم بورڈ آف پیس اجلاس میں شریک دیگر سربراہان مملکت سے بھی ملیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل سٹبلائزیشن فورس سے متعلق اپنی ریڈ لائن ظاہر کی ہے، اس کا مینڈیٹ سامنے آنے تک پاکستان فیصلہ نہیں کر سکتا، پاکستان اپنی فوج امن کیلئے دے سکتا ہے، حماس کو غیر مسلح کرنے کیلئے نہیں۔

ترجمان نے کہا کہ بورڈ آف پیس میں اسرائیل کے ہونے نہ ہونے سے پاکستان کو فرق نہیں پڑتا، سابق اسرائیلی وزیراعظم نیٹالی بینٹ کا بیان افواہوں پر مبنی ہے، ہم اس کے کسی بیان کا ردعمل نہیں دیتے، ہم اپنے کشمیری بہنوں بھائیوں کی بھرپور سفارتی اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم شہبازشریف آج امریکا کے تین روزہ سرکاری دورے پر واشنگٹن پہنچے ہیں، واشنگٹن میں شہبازشریف آج بورڈ آف پیس کےافتتاحی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

وزیراعظم کے وفد میں نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار سمیت دیگر وزراء بھی شامل ہیں، وزیراعظم سینئر امریکی قیادت کے ساتھ اجلاس میں شریک ہم منصبوں سے بھی بات کریں گے، یہ دورہ پاک امریکا دوطرفہ امور کے ساتھ عالمی مسائل پربات چیت کا موقع فراہم کرے گا۔

آسلام  آباد ( خصوصی رپورٹر )

پاکستان نے 16 فروری 2026 کے باجوڑ دہشت گرد حملے، جس میں 11 پاکستانی فوجی شہید ہوئے، پر افغان طالبان حکومت کے خلاف سخت احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے افغان ناظم الامور  کو دفتر خارجہ طلب کیا اور مضبوط ڈیمارش جاری کیا۔

جمعرات کو جاری کیے گئے دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے گاڑی میں بارودی مواد لاد کر کی جانے والی خودکش کارروائی اور اس کے بعد پاکستان کی فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی باجوڑ میں واقع چوکی پر فائرنگ کے حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی، یہ حملہ فتنہ الخوارج/ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں نے کیا۔

وزارتِ خارجہ نے شدید تشویش کا اظہار کیا کہ فتنہ الخوارج/ٹی ٹی پی کی پوری قیادت افغانستان میں موجود ہے اور یہ تنظیم افغان سرزمین سے بلا خوف و خطر کارروائیاں کر رہی ہے۔
بیان میں یاد دہانی کرائی گئی کہ پاکستان کو بارہا افغان طالبان حکومت کی جانب سے یقین دہانیاں کرائی گئی ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی واضح اور ٹھوس کارروائی تاحال نظر نہیں آتی۔

بیان کے مطابق افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی سرزمین سے سرگرم تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف، بشمول ان کی قیادت، فوری، ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ افغان طالبان حکومت کو بالکل واضح الفاظ میں آگاہ کر دیا گیا ہے کہ پاکستان اپنے فوجیوں، شہریوں اور سرحدی خودمختاری کے تحفظ کے لیے، فتنہ الخوارج گروہ اور اس کے تمام سہولت کاروں کو جہاں کہیں بھی ہوں، نشانہ بنانے اور ختم کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

اس سے قبل پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے بتایا کہ بھارتی سرپرستی یافتہ فتنہ الخوارج گروپ کے 12 دہشت گرد مارے گئے جبکہ باجوڑ، خیبرپختونخوا میں قائم ایک مشترکہ سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملے میں 11 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق 16 فروری 2026 کو خوارج نے سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ چیک پوسٹ پر بزدلانہ دہشت گرد حملے کی کوشش کی۔ حملہ آوروں نے چیک پوسٹ کی سکیورٹی توڑنے کی کوشش کی لیکن پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے چوکس، دلیر اور بروقت ردعمل نے ان کے ناپاک عزائم ناکام بنا دیے۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ جوانوں نے غیر متزلزل جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرار ہوتے ہوئے خوارج کا تعاقب کیا اور انہیں ٹھیک نشانے پر لیتے ہوئے 12 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

بیان کے مطابق حملہ آوروں نے آخری کوشش کے طور پر بارودی مواد سے بھری گاڑی چیک پوسٹ کی بیرونی دیوار سے ٹکرا دی۔ دھماکے کی شدت سے چیک پوسٹ کی عمارت منہدم ہو گئی، جس کے نتیجے میں وطن کے 11 بہادر بیٹوں نے جامِ شہادت نوش کیا اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا۔