کراچی:  137 منٹ میں 100 ٹرانزیکشنز ، کلفٹن کا رہائشی 85 لاکھ روپے سے محروم ، مگر بینک کا فراڈ مانیٹرنگ سسٹم سویا رہا

یونائیٹیڈ بینک لمیٹڈ اور یوفون انتظامیہ کی نااہلی یا سہولت کاری ؟ نیشنل سائبر کرائم انوسٹی نے مقدمہ درج کرلیا

کراچی ( ویب  نیوز)

نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی نے ڈیجیٹل بینکنگ اور ٹیلی کام کمپنیوں کی ملی بھگت سے سائبر کرمنلز کو سہولت فراہم کرنے کا مقدمہ درج کرلیا، یونائیٹیڈ بینک لمیٹڈ (یوبی ایل) اور یوفون انتظامیہ کی نااہلی سے شہری 85 لاکھ کی رقم سے محروم ہوا،سائبر کرمنلز نے ہفتہ وار تعطیل کے دوران 137 منٹ میں 100 سے زائد ٹرانزیکشن کے زریعے رقم جاز کیش کے مرچنٹ اکاؤنٹس اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حبیب بینک لمیٹڈ میں کھولے گئے جعلی اکاؤنٹس میں منتقل کروائی . نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کراچی نے بینکنگ سائبر فراڈ اور سم سوئپنگ اسکینڈل کا سراغ لگاتے ہوئے منظم گروہ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ مقدمہ الزام نمبر 12/2026 کے مطابق درخواست گزار سنی کمار ولد کیلاش جو باتھ آئی لینڈ کلفٹن کراچی کا رہائشی ہے نے شکایت درج کروائی کہ 29 ستمبر 2025 کو وہ ڈولمن مال کراچی میں موجود تھے کہ ان کا یوفون سم نمبر اچانک بند ہوگیا۔ اگلے روز یوفون بزنس سینٹر جانے پر انکشاف ہوا کہ ان کی سم بغیر بائیومیٹرک تصدیق کے حیدرآباد/دھابیجی میں دوبارہ جاری کردی گئی ہے۔ متاثرہ شہری کے مطابق اسی نمبر سے منسلک ان کے یو بی ایل بینک اکاؤنٹ سے راتوں رات 100 سے زائد غیر مجاز ٹرانزیکشنز کے ذریعے تقریباً 85 لاکھ روپے مختلف اکاؤنٹس میں منتقل کر دیے گئے، جس سے انہیں شدید مالی نقصان اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ تفتیش کے دوران سی ڈی آر، جی پی ایس لوکیشن اور سم ری ایشو ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ شکایت کنندہ شام 7:43 بجے کلفٹن ڈولمن مال میں موجود تھا جبکہ صرف 7 منٹ بعد دھابیجی، ضلع ٹھٹھہ میں اسی کے نام پر ڈپلیکیٹ سم جاری کردی گئی، حالانکہ دونوں مقامات کا فاصلہ تقریباً 62 کلومیٹر ہے، جو جسمانی طور پر ممکن نہیں۔ حکام کے مطابق یہ معاملہ ٹیلی کام کمپنی کی مجرمانہ غفلت یا اندرونی سہولت کاری کو ظاہر کرتا ہے۔ تحقیقات میں مزید انکشاف ہوا کہ فراڈیوں نے پہلے متاثرہ شخص کے بینک اکاؤنٹ تک غیر قانونی رسائی حاصل کی پھر موبائل بینکنگ، او ٹی پی اور ڈیوائس بائنڈنگ سسٹم کو بائی پاس کرتے ہوئے مسلسل ٹرانزیکشنز کیں۔ تکنیکی تجزیے کے مطابق 137 منٹ میں 104 ٹرانزیکشنز کی گئیں یعنی اوسطاً ہر 1.3 منٹ بعد رقم منتقل کی جاتی رہی، مگر بینک کا فراڈ مانیٹرنگ سسٹم الرٹ جاری نہ کرسکا۔ رپورٹ کے مطابق یو بی ایل بینک نے تسلیم کیا کہ اس کے مردان برانچ کے ملازم زیشان نے شکایت کنندہ سمیت 28 اکاؤنٹس تک غیر قانونی رسائی حاصل کی تاکہ اپنے ساتھیوں کی مدد کرسکے اور جس وقت این سی سی آئی اے میں متاثرہ شہری نے درخواست دی اور تحقیقات شروع ہوئیں یو بی ایل نے احتیاطی تدابیر کے طور پر زیشان کو ملازمت سے برطرف کردیا جس کے بعد وہ روپوش ہوگیا جبکہ بینک انتظامیہ کو معلومات مل چکی تھیں تو اس کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے این سی سی آئی اے کی مدد کی جاسکتی تھی تاکہ سائبر کرمنل کے خلاف کارروائی کامیاب ہوسکے لیکن بینک انتظامیہ کی ناقص حکمت عملی سے سائبر کرمنلز کارروائی سے بچ گئے جس پر بینک انتظامیہ کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے؟ بائیومیٹرک سسٹم کے تجزیے میں 154 ناکام بائیومیٹرک کوششیں اور 110 سے زائد غلط فنگر امپریشنز بھی سامنے آئے، جبکہ نادرا پالیسی کے مطابق محدود کوششوں کی اجازت ہوتی ہے۔ مزید تفتیش میں معلوم ہوا کہ ملزمان نے اکاؤنٹ ہیک کرنے کے بعد رقم مختلف اکاؤنٹس، موبائل والٹس اور کاروباری اکاؤنٹس میں منتقل کی جن میں میڈیکل اسٹور، موبائل شاپس اور بینک کنیکٹ اکاؤنٹس شامل ہیں۔یاد رہے کہ جاز کیش کے جن اکاؤنٹس میں رقم منتقل ہوئی وہ مرچنٹ اکاؤنٹس تھے اور مرچنٹ اکاؤنٹس کے لئے ایس او پیز ہیں کہ کاروبار ظاہر کیا جائے گا اس کا سروے ہوگا پھر اکاوئنٹ کھولا جائے گا لیکن اس کیس میں جاز کیش کی نااہلی بھی واضح نظر آئی جن اکاؤنٹس میں رقم منتقل ہوئی وہاں اس نام سے شخص بھی موجود نہیں تھا اور نہ ہی کوئی کاروبار تھا پھر کیسے اکاوئنٹ کھولے گئے؟۔اسی طرح خواندہ نہ ہونے والی خواتین کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) اہلکار ظاہر ہو کر انگوٹھے کے نشانات لیے گئے اور ان کے نام پر جاز کیش اور ایچ بی ایل کنیکٹ اکاؤنٹس کھولے گئے اور حبیب بینک لمیٹڈ میں بھی بغیر ایس او پی کیسے اکاوئنٹ کھول گئے اس پر سوالیہ نشان ہے ۔ تحقیقات کے مطابق واردات میں استعمال ہونے والا موبائل فون بھی ٹریس کرلیا گیا جس کے ذریعے اکاؤنٹ ہیک کیا گیا۔اس ڈیوائس سے یو بی ایل میں اس فراڈ سے ایک ماہ قبل بھی ایک فراڈ کیا گیا اور اس کے باوجود بینک کے فراڈ الرٹ سسٹم نے وارننگ جاری نہیں کی اور اس ڈیوائس کو یو بی ایل سسٹم میں بلاک کرنے کے عمل کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یوفون اور بینک کے سکیورٹی سسٹم کی ناکامی اور اندرونی ملی بھگت کے باعث ملزمان کو سم اور بینک اکاؤنٹ پر غیر قانونی کنٹرول حاصل ہوا اور بڑے پیمانے پر سائبر مالیاتی فراڈ ممکن ہوا۔

#/S