ایران نے کویت سمیت مختلف خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ کویت میں امریکی فوجی اڈے کو مکمل طور پر ناکارہ بنادیا گیا ہے۔   ایران کا ایف 15 گرانے کا دعویٰsharethis sharing button

 لیڈ (ایران واشنگٹن مذاکرات)   امریکا کے ساتھ  مذاکرات مسترد ( علی لاریجانی)

کویتی وزارت دفاع کے ترجمان کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں متعدد امریکی فوجی طیارے گر کر تباہ ہونے کی تصدیق کی گئی فوج کی زمینی اور بحری افواج کے میزائل یونٹس نے گذشتہ گھنٹوں میں کویت میں امریکی علی السالم ایئر بیس اور شمالی بحر ہند میں دشمن جہازوں کو نشانہ بنایا، حملوں میں 15 کروز میزائل استعمال کیے گئے۔

ایرانی فضائی دفاعی نظام نے مرکزی تہران کی فضاؤں میں حملے کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔  ایران کے اقوامِ متحدہ میں سفیر رضا نجفی نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے اجلاس میں بتایا کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران ایران کی نطنز جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔

فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کے دفاع کے لیے تیار ہیں، اور ضرورت پڑنے پر ایران کی میزائل و ڈرون صلاحیتوں کو غیر مؤثر بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔

کویت سٹی، تہران: (ما نیٹرنگ ڈیسک ) کویتی وزارت دفاع نے کہا ہے کویت میں متعدد امریکی فوجی طیارے گر کر تباہ ہو گئے ہیں جبکہ ایران نے ایک امریکی ایف 15 طیارہ گرانے کی تصدیق کی ہے۔ ایران کے سیکیورٹی سربراہ علی لاریجانی نے واضح کیا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کرے گا، اور ان اطلاعات کی تردید کی کہ ایران واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کو اپنے دفاع کا جائز حق حاصل ہے۔ انہوں نے امریکی بیانات کو جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا:
“ہم اپنا دفاع کریں گے، چاہے جو بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔”

کویتی وزارت دفاع کے ترجمان کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں متعدد امریکی فوجی طیارے گر کر تباہ ہونے کی تصدیق کی گئی تاہم طیارے گرنے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔  انہوں نے تصدیق کی کہ تمام عملہ مکمل طور پر محفوظ ہے اور متعلقہ حکام نے فوری طور پر تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، عملے کو بحفاظت نکال کر اسپتال منتقل کیا گیا تاکہ ان کی صحت کا معائنہ کیا جا سکے اور ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ملکی حدودکی خلاف ورزی پر امریکی ایف15لڑاکا طیارہ ایرانی فضائی دفاع نے مارگرایا، امریکی لڑاکاطیارہ کویت میں گرکرتباہ ہوا۔

ایرانی فوج نے کہا کہ اس نے کویت میں امریکی علی السالم ایئر بیس اور بحر ہند میں جہازوں کو نشانہ بنایا ہے، فوج کی زمینی اور بحری افواج کے میزائل یونٹس نے گذشتہ گھنٹوں میں کویت میں امریکی علی السالم ایئر بیس اور شمالی بحر ہند میں دشمن جہازوں کو نشانہ بنایا، حملوں میں 15 کروز میزائل استعمال کیے گئے۔

قبل ازیں روسی میڈیا نے کویت میں امریکی لڑاکا طیارہ ایف 15 گر کر تباہ ہونے کا بتایا تھا، طیارے کا پائلٹ ایجکٹ کرنے میں کامیاب رہا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں گرتے ہوئے ایف 15 طیارے سے آگ کے شعلے نکلتے بھی دیکھے گئے تھے۔ روسی میڈیا کا کہنا تھا کہ ایف 15 لڑاکا طیارے کے پائلٹ کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ یاد رہے کہ ہفتے کے روز امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد ایران کی جانب سے کویت سمیت مختلف خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ اپنے بیان میں ایرانی فوج نے کہا کہ کویت میں امریکی فوجی اڈے کو مکمل طور پر ناکارہ بنادیا گیا ہے۔

امریکی صدر کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے ایران پر بڑے پیمانے پر جنگی حملہ شروع کر دیا ہے، جبکہ اسرائیلی وزیرِ دفاع نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ ایران نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے اسرائیل کے اہم شہروں پر بیلسٹک میزائلوں کی بارش کی۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق اسرائیل کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں کی پہلی لہر کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ملک بھر میں فضائی حملے کے سائرن بجا دیے گئے ہیں تاکہ عوام کو ممکنہ میزائل حملوں سے آگاہ کیا جا سکے۔  امریکی صدر نے ویڈیو بیان میں کہا “ہم نے ایران میں ایک وسیع فوجی آپریشن شروع کیا ہے؛ ہم ظالم ایرانی حکومت کے خطرے کو ختم کر دیں گے۔” اسرائیلی چینل 12 نے ایک سیکیورٹی ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں جاری کارروائی امریکا اور اسرائیل کا مشترکہ آپریشن ہے۔ امریکی سنٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق امریکی فضائیہ کے تین F-15E اسٹرائیک ایگل طی ارے “غلطی سے اپنے ہی دفاعی نظام” کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔  بیان کے مطابق یکم مارچ رات 11:03 بجے (ای ٹی) آپریشن “ایپک فیوری” کی معاونت کرتے ہوئے یہ طیارے کویت کی فضائی حدود میں گر کر تباہ ہوئے۔

دوسری جانب ایران کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر نے دعویٰ کیا کہ کویت-عراق سرحد کے قریب ایرانی فضائی دفاع نے ایک امریکی F-15 طیارہ مار گرایا، جس کا اعلان ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے IRIB کے ذریعے کیا گیا۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق تہران میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ فضائی حملہ ریولوشن اسکوائر کے قریب کیا گیا، جہاں مظاہرین جمع تھے۔ ایرانی فضائی دفاعی نظام نے مرکزی تہران کی فضاؤں میں حملے کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔  ایران کے اقوامِ متحدہ میں سفیر رضا نجفی نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے اجلاس میں بتایا کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران ایران کی نطنز جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔

فرانس کے وزیرِ خارجہ ژاں نول بیرو نے کہا ہے کہ فرانس سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، عراق، بحرین، کویت، عمان اور اردن کے دفاع کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان ایفی ڈیفرین نے کہا ہے کہ تقریباً ایک لاکھ ریزرو فوجی متحرک کر دیے گئے ہیں اور “تمام آپشنز میز پر موجود ہیں”، چاہے دفاعی ہوں یا جارحانہ۔

اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے نے احتجاجی مظاہروں کے پیشِ نظر سیکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے ویزا اپائنٹمنٹس منسوخ کر دی ہیں۔ کراچی، لاہور اور پشاور میں امریکی قونصل خانوں نے بھی تمام خدمات عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔

ایمیزون ویب سروسز (AWS) کے مطابق بحرین اور متحدہ عرب امارات میں ڈیٹا سینٹرز کو بجلی اور کنیکٹیویٹی مسائل کا سامنا ہے، جس کی وجہ ایرانی جوابی حملے بتائی جا رہی ہے۔ کمپنی نے صارفین کو دیگر ریجنز استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

ایرانی ہلالِ احمر کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں 555 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 131 شہروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ایک لاکھ سے زائد رضاکار ہائی الرٹ پر ہیں۔

چین کی وزارتِ خارجہ نے تہران میں ایک چینی شہری کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ چین نے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا۔

ایران کے سیکیورٹی سربراہ علی لاریجانی نے واضح کیا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کرے گا، اور ان اطلاعات کی تردید کی کہ ایران واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کے دفاع کے لیے تیار ہیں، اور ضرورت پڑنے پر ایران کی میزائل و ڈرون صلاحیتوں کو غیر مؤثر بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔

مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر 15 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کو اپنے دفاع کا جائز حق حاصل ہے۔ انہوں نے امریکی بیانات کو جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا “ہم اپنا دفاع کریں گے، چاہے جو بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔”

متحدہ عرب امارات نے تہران میں اپنا سفارت خانہ بند کرنے اور سفیر کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے، ایرانی میزائل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں شہری تنصیبات پر حملے قرار دیا گیا ہے۔