جوابی حملوں کی 52 ویں لہر، امریکیوں کو مشرقِ وسطیٰ سے نکلنے کی فوری ہدایت ، اسرائیل انٹرسیپٹر میزائل کی کمی کا شکار، برطانیہ مدد بھیجنے کے لیے تیار ہو گیا۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے آپریشن وعدہ صادق کے تحت حملوں کی نئی لہر کا آغاز کردیا، امریکی تنصیبات اور اسرائیل کو نشانہ بنایا، خطے میں تین امریکی فوجی اڈے اور اسرائیل میں اہداف تباہ کر دیے گئے ہیں، سعودی عرب پر ڈرون حملوں میں ہمارا کوئی ہاتھ نہیں، ہم نے سعودیہ پر ڈرون حملے نہیں کیے۔

پاسداران انقلاب نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس کے حملوں کی 52 ویں لہر کے دوران خطے میں تین امریکی فوجی اڈے اور اسرائیل میں اہداف تباہ کر دیے گئے ہیں، سعودی عرب پر ڈرون حملوں میں ہمارا کوئی ہاتھ نہیں، ہم نے سعودیہ پر ڈرون حملے نہیں کیے۔
ادھر عرب میڈیا کے مطابق 15 روز میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں ایران میں 1444 افراد شہید ہوئے، اسرائیلی حملوں سے لبنان میں 826 افراد شہید ہوئے۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل میں 14 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 15 روز میں ایرانی حملوں میں 11 امریکی فوجی مارے گئے، یواے ای میں 6، سعودیہ عرب میں 2 ، عراق میں 26، کویت میں 6، عمان میں 3، بحرین میں 2 افراد جاں بحق ہوئے۔ اسرائیلی وزارت صحت نے کہا ہے کہ ایران کے حملوں میں 24 گھنٹوں کے دوران 108 اسرائیلی زخمی ہوئے۔
اسرائیلی وزارت صحت نے کہا کہ 28 فروری کو ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز سے اب تک 3,195 اسرائیلی زخمی ہوئے۔ کتائب حزب اللہ نے امریکی تنصیبات پر ڈرون حملے کیے ہیں اور حملوں کی ویڈیو بھی جاری کر دی ہے۔ ڈرون حملے میں بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب امریکی وکٹری بیس کو نشانہ بنایا گیا۔
ایران کے پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ دہشت گرد نیتن یاہو کو جہنم واصل کرنے کا ارادہ باندھ لیا، اگر نیتن یاہو زندہ ہے تو اسے پوری طاقت کے ساتھ تلاش کر کے ہلاک کیا جائے گا۔
پاسداران انقلاب نے مزید کہا کہ سعودی عرب پر حملوں سے ایران کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے امریکا پر فالس فلیگ آپریشن کے لیے شاہد ڈرونز کی کاپی استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اصفہان شہر میں متعدد مقامات پر دھماکے ہوئے،صفہان شہر میں متعدد مقامات سے دھوئیں کے بادل بلند ہوتے دیکھے گئے۔ اصفہان شہر پر امریکی و اسرائیلی حملے میں 15 افراد شہید ہوئے۔
سوئٹزرلینڈ نے امریکی فوجی پروازوں کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ غیرجانبداری کے قانون کے تحت جنگ سے متعلق فوجی پروازوں کی اجازت نہیں۔ سوئس حکام نے یہ بھی کہا کہ امریکا کی 3 دیگر پروازوں کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ ایران نے بھارت کے 2 بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی۔ اس سے پہلے ایران ترکیہ کے ایک بحری جہاز کو بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے چکا ہے۔ ترکیہ کو اجازت ملنے کے بعد فرانس اور اٹلی نے اپنے جہازوں کو نکالنے کے لیے ایران سے براہ راست رابطے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے نیتن یاہو کے قتل کی خبر کو افواہ قرار دیدیا اور کہا کہ وزیراعظم نیتن یاہو خیریت سے ہیں۔ یہ حملے 28 فروری سے جاری ہیں، ایرانی حکومت کے ترجمان کے مطابق تباہ ہونے والی ان 43 ہزار میں سے 36500 عمارتیں اقامتی یونٹس ہیں۔ صرف تہران میں امریکا اور اسرائیل نے 10 ہزار عمارتوں کو نشانہ بنایا جن میں 43 ایمرجنسی طبی مراکز اور وہاں کھڑی 32 ایمبولینسیں، اور 120 اسکولز شامل ہیں۔ ایرانی حکومتی ترجمان کے مطابق امریکی و اسرائیلی حملوں مین 223 خواتین شہید ہوئی ہیں، شہادت پانے والے ٹیچرز اور طلبہ کی تعداد 206 ہوچکی ہے۔
ایران نے متحدہ عرب امارات کی فجیرہ پورٹ پر ڈرون حملہ کیا ہے، جس کے بعد متاثرہ مقام پر تیز آگ بھڑک گئی، حملے کے بعد فجیرہ پورٹ پر کچھ آئل لوڈنگ آپریشنز معطل ہوگئے، متاثرہ مقام پر خوف ناک آگ لگ گئی اور علاقہ دھواں دھواں ہوگیا۔ اماراتی حکام کے مطابق فضائی دفاع نے نو بیلسٹک میزائل اور تینتیس ڈرون تباہ کردیے۔
اسرائیل پر بھی ایران کے جوابی حملے جاری ہیں، تل ابیب میں بیس دھماکے ہوئے، جن سے متعدد مقامات پر آگ لگ گئی۔ ایرانی افواج نے امریکا کو خطے سے اپنی صنعتیں منتقل کرنے کی وارننگ دی ہے اور کہا کہ جن فیکٹریوں میں امریکی شیئرز ہیں وہ ان سے دور رہیں۔ ایرانی افواج نے دبئی کی جبل علی پورٹ، ابوظبی کی خلیفہ پورٹ اور فجیرہ پورٹ کے قریب رہائشیوں کو امریکی اڈوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر اسٹارمر مشرقِ وسطیٰ میں ہزاروں انٹرسیپٹر ڈرون بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔ فوجی حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آکٹوپس نامی انٹرسیپٹر اینٹی ڈرون سسٹم کو مشرقِ وسطیٰ میں ایران کیخلاف استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں، یہ انٹرسیپٹر برطانیہ میں تیار کیا جاتا ہے اور پہلے ہی یوکرین کو روس کے خلاف دفاع کے لیے فراہم کیا جا چکا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کو طعنہ دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے چین سے بھیک مانگنے پر مجبور ہوچکا ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز امریکا اور اس کے اتحادیوں کے علاوہ سب کیلئے کھلی ہے، خطے میں امریکی سکیورٹی کی چھتری میں بہت سے سوراخ ہوچکے ہیں اور وہ مشکلات سے بچانے کے بجائے مشکلات کو دعوت دینے کا سبب بن رہی ہے۔
عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے جمعے کو ہمارے خارگ جزیرے پر حملے دبئی اور راس الخیمہ کے قریب سے ہیمرز میزائل سسٹم سے کیے تھے،ایران ان حملوں کا جواب دے گا لیکن اس بات کا خیال رکھے گا کہ شہری آبادی کو نقصان نہ پہنچے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران ڈیل کرنا چاہتا ہے لیکن وہ اس وقت ایسا کرنے کے لیے تیار نہیں کیوں کہ شرائط ابھی اتنی مناسب نہیں ہیں، آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے کئی ممالک نے مدد کا وعدہ کیا ہے، آبنائے ہرمز سے تیل لینے ممالک راستے کی سکیورٹی یقینی بنائیں،
ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ نے تیل برآمدات کے لیے اہم ایرانی جزیرے خارگ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے لیکن مزا لینے کے لیے شاید ہم اسے چند بار اور نشانہ بنائیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی موت کی خبروں کو افواہ قرار دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میں سن رہا ہوں کہ وہ زندہ نہیں ہیں اور اگر وہ زندہ ہیں تو اپنے ملک کی خاطر سمجھداری سے کام لیتے ہوئے انھیں ہتھیار ڈال دینے چاہئیں۔
کینیا میں روسی سفارت خانے کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ روس کا ایک Il-76 کارگو طیارہ 13 ٹن سے زیادہ طبی سامان لےکر آذربائیجان پہنچا، جہاں سے یہ امداد ایرانی حکام تک منتقل کی جائے گی۔
روسی وزارت ہنگامی حالات کے مطابق یہ امدادی کھیپ ادویات اور طبی سامان پر مشتمل ہے، آذربائیجان سے امدادی سامان ٹرکوں کے ذریعے سرحد کے راستے ایران بھیجا جائےگا۔ دوسری طرف چین نے بھی ایران کے شہر مناب میں سکول حملہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے عطیہ دینے کا اعلان کیا ہے، جو ایرانی ہلال احمر کے ساتھ مل کر متاثرہ خاندانوں تک پہنچایا جائے گا۔ ایرانی فوج نے خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حملے میں بریگیڈیئر جنرل عبداللہ جلالی شہید ہوگئے ہیں۔ایرانی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ صیہونی ادارے کی جانب سے کیے گئے حملے کے بعد وطن کے دفاع کے دوران بریگیڈیئر جنرل عبداللہ جلالی نے جامِ شہادت نوش کیا، وہ دشمن کے حملے کے وقت دفاعی کارروائیوں کی قیادت کر رہے تھے۔





