پاکستان‌کا تیار کردہ‌ فریم‌ ورک ‌ایران‌ اور امریکا‌ کوموصول ، ، امن منصوبہ دو مراحل پر مشتمل ہے جس میں فوری جنگ بندی اور اس کے بعد ایک جامع معاہدہ شامل ہے۔

لیڈ  (پاکستان کا امن منصوبہ)  امریکا اور ایران کو موصول، را ئٹرز

ایگزیوس نے  رپورٹ کیا تھا کہ امریکا، ایران اور علاقائی ثالثین دو مرحلوں پر مشتمل ایک ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں جو جنگ کے مستقل خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔  ایران عارضی جنگ بندی کے تحت آبنائے ہرمز کو نہیں کھولے گا  تجویز کا جائزہ لیتے وقت کسی قسم کی ڈیڈ لائن یا وقت کی حد کو قبول نہیں کرے گا۔ سینیئر ایرانی عہدیدار

ایران نے ان حملوں کا جواب آبنائے ہرمز کو مؤثر طریقے سے بند کر کے دیا ہے، جو دنیا بھر میں تیل اور قدرتی گیس کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ فراہم کرنے والی اہم آبی گزرگاہ ہے۔ اس کے علاوہ ایران نے اسرائیل، امریکی فوجی اڈوں اور خلیج کے گرد توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر بھی حملے کیے ہیں۔

واشنگٹن  (  ما نیٹرنگ ڈیسک )

را ئٹرز کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کو جنگ کے خاتمے کے لیے ایک امن منصوبے کا فریم ورک موصول ہوا ہے۔

را ئٹرز کے مطابق پاکستان‌کا تیار کردہ‌ فریم‌ ورک ‌ایران‌ اور امریکا‌ کیساتھ‌ شیئر کردیا گیا، امن منصوبہ دو مراحل پر مشتمل ہے جس میں فوری جنگ بندی اور اس کے بعد ایک جامع معاہدہ شامل ہے۔

ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ ایران عارضی جنگ بندی کے تحت آبنائے ہرمز کو نہیں کھولے گا اور ایران اس تجویز کا جائزہ لیتے وقت کسی قسم کی ڈیڈ لائن یا وقت کی حد کو قبول نہیں کرے گا۔

اتوار کے روز ایگزیوس نے پہلی بار رپورٹ کیا تھا کہ امریکا، ایران اور علاقائی ثالثین دو مرحلوں پر مشتمل ایک ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں جو جنگ کے مستقل خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔

یاد رہے کہ اتوار کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹرتھ سوشل’ پر نازیبا الفاظ سے بھرپور ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران منگل تک معاہدہ کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے میں ناکام رہا تو ایران کے توانائی اور ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے پر مزید حملے کیے جائیں گے۔

جس کے بعد پیر کے روز پورے خطے میں تازہ فضائی حملوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، یاد رہے کہ امریکا او اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کا آغاز ہوئے پانچ ہفتے سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، اس جنگ میں اب تک ہزاروں افراد شہید ہو چکے ہیں اور تیل کی قیمتوں میں اضافے نے عالمی معیشتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ایران نے ان حملوں کا جواب آبنائے ہرمز کو مؤثر طریقے سے بند کر کے دیا ہے، جو دنیا بھر میں تیل اور قدرتی گیس کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ فراہم کرنے والی اہم آبی گزرگاہ ہے۔ اس کے علاوہ ایران نے اسرائیل، امریکی فوجی اڈوں اور خلیج کے گرد توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر بھی حملے کیے ہیں۔

یاد رہے کہ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کو دی گئی اس دھمکی کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایران پر "قیامت” ڈھا دیں گے۔