مجھے انتہائی عاجزی کے ساتھ یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ایران اور امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ لبنان اور دیگر جگہوں پر فوری طور پر جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ وزیراعظم

سپر ( امریکا ایران جنگ بندی )  چین اور سعودی عرب کا پاکستان کی کوششوں کا خیرمقدم  ( شہباز شریف مسعود پزشکیان میں ٹیلیفونک رابطہ

فریقین نے قابل ذکر حکمت اور سمجھداری کا مظاہرہ کیا ہے اور امن و استحکام کے مقصد کو آگے بڑھانے میں تعمیری طور پر مصروف عمل رہے ہیں، ہمیں پوری امید ہے کہ ’اسلام آباد مذاکرات‘ پائیدار امن کے حصول میں کامیاب ہوں گے، مزید اچھی چیزیں بانٹنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان

چینی وزارت خارجہ نےکھا پاکستان اور دیگر ممالک کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں، چین نے خود بھی ایران امریکا جنگ بندی میں مثبت کردار ادا کیا۔ سعودی عرب نے امریکا اور ایران میں ہونے والی 2 ہفتوں کی جنگ بندی کیلئے پاکستان کی کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے۔

چین اور سعودیہ کا امریکا ایران جنگ بندی کیلئے پاکستان کی کوششوں کا خیرمقدم

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان اور دیگر ممالک کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں، چین نے خود بھی ایران امریکا جنگ بندی میں مثبت کردار ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ چین ہمیشہ سیاسی اور سفارتی ذرائع سے تنازعات کے حل اور فوری جنگ بندی کا حامی رہا ہے۔

ماؤننگ نے کہا کہ ہمارا مقصد مشرق وسطیٰ اور خلیج میں دیریا امن قائم کرنا ہے، تنازعات کا حل فوجی کارروائیوں سے نہیں بلکہ مذاکرات سے ممکن ہے۔

سعودی عرب نے امریکا اور ایران جنگ بندی کے لئے پاکستان کی کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے۔

ترجمان سعودی وزارت خارجہ کے مطابق خطے میں پائیدار امن اور مستقل جنگ بندی کیلئے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں، امریکی صدر اور وزیراعظم پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

دوسری جانب اماراتی صدارتی مشیر انور قرقاش نے کہا کہ متحدہ عرب امارات ایک ایسی جنگ میں سرخرو ہوا جس سے ہم بچنا چاہتے تھے، ہم اپنی خودمختاری، وقار اور کامیابیوں کا دفاع کرنے میں کامیاب رہے۔

انور قرقاش کا کہنا تھا کہ پیچیدہ علاقائی منظرنامے میں مضبوط گرفت کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، ہماری قوت، استقامت اور ثابت قدمی نے اماراتی ماڈل کو مزید مستحکم کیا۔

جنگ بندی پر اظہار تشکر، وزیراعظم نے ایرانی اور امریکی وفود کو اسلام آباد بلا لیا

فریقین کی جانب جنگ بندی پر اتفاق کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ مجھے انتہائی عاجزی کے ساتھ یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ لبنان اور دیگر جگہوں پر فوری طور پر جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں اس پرتپاک اقدام کا خیر مقدم کرتا ہوں اور دونوں ممالک کی قیادت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور تمام تنازعات کے تصفیہ اور ایک حتمی معاہدے کیلئے مزید بات چیت کیلئے جمعہ 10 اپریل 2026ء کو فریقین کے وفود کو اسلام آباد میں مدعو کرتا ہوں۔

 

وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ فریقین نے قابل ذکر حکمت اور سمجھداری کا مظاہرہ کیا ہے اور امن و استحکام کے مقصد کو آگے بڑھانے میں تعمیری طور پر مصروف عمل رہے ہیں، ہمیں پوری امید ہے کہ ’اسلام آباد مذاکرات‘ پائیدار امن کے حصول میں کامیاب ہوں گے، مزید اچھی چیزیں بانٹنا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ وزیراعظم پاکستان نے امریکی صدر سے درخواست کی تھی کہ سفارتکاری کو موقع دینے کیلئے ایران پر حملے کی ڈیڈ لائن میں 2 ہفتوں کی توسیع کی جائے، انہوں نے ایران سے بھی آبنائے ہرمز کو 2 ہفتوں کیلئے کھولنے کی درخواست کی تھی، جس پر فریقین نے رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔

وزیراعظم اور ایرانی صدر کا ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
whatsapp sharing button

ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان تقریباً 45 منٹ تک بات چیت جاری رہی، جس دوران خطے میں بدلتی صورتحال اور امن کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایرانی صدر نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے آبنائے ہرمز کھولنے پر ایرانی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔

ذرائع کے مطابق ایرانی صدر نے مذاکرات کے فروغ کے لیے ایرانی سپیکر کے ممکنہ دورے کا بھی ذکر کیا۔

دونوں رہنماؤں نے پائیدار امن کے قیام کے لیے مذاکرات کو خوش آئند قرار دیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ بات چیت مثبت اور نتیجہ خیز ثابت ہوگی۔