پاکستان کی ثالثی میں ایران امریکا مذاکرات مکمل ، فریقین کے تکنیکی ماہرین اس وقت تحریری مسودوں کا تبادلہ کر لیا ہے ، بعض اختلافات رہ گئے ہیں اس کے باوجود مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
ہم ہر محاذ کو، فوجی جدوجہد کے ساتھ ساتھ، اقتدار کی سفارت کاری کا ایک اور ذریعہ سمجھتے ہیں تاکہ ایرانی قوم کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے، اور ہم ایران کے قومی دفاع کے چالیس دنوں کی کامیابیوں کو مستحکم کرنے کی کوششوں میں ایک لمحے کے لیے بھی کمی نہیں آنے دیں گے۔ سپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف
ایران کے ساتھ طویل مذاکرات ہوئے ہیں، لیکن بری خبر یہ ہے کہ ابھی تک حتمی معاہدے تک نہیں پہنچے، اور یہ امریکا سے زیادہ ایران کیلئے بری خبر ہے۔ ، مذاکرات میں نیک نیتی کے ساتھ شرکت کی اور اپنی شرائط واضح طور پر پیش کی ہیں، ایران نے امریکی شرائط تسلیم نہ کرنے کا انتخاب کیا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس
امید ہے امریکا اور ایران جنگ بندی کے عزم پر قائم رہیں گے، دونوں ملک خطے اور دنیا میں پائیدار امن اور خوشحالی کےلیے مثبت سوچ سے آگے بڑھیں گے۔ امید ہے کہ امریکہ اور ایران امن کے لیے بات چیت کا عمل جاری رکھیں گے، دونوں ممالک کی جانب سے پاکستان کے مثبت کردار کو تسلیم کیے جانے پر ان کے مشکور ہیں،۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

اسلام آباد: (ما نیٹرنگ ڈیسک )
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طویل مذاکرات ہوئے، لیکن کسی حتمی معاہدے پر نہیں پہنچے، بغیر کسی ڈیل کے امریکا جا رہے ہیں۔
نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کے بعد اسلام آباد میں پریس بریفنگ میں بتایا کہ ہمارے ایران کے ساتھ طویل مذاکرات ہوئے ہیں، لیکن بری خبر یہ ہے کہ ابھی تک حتمی معاہدے تک نہیں پہنچے، اور یہ امریکا سے زیادہ ایران کیلئے بری خبر ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 21 گھنٹے سے مذاکرات جاری ہیں، جن میں مختلف امور پر بات چیت ہو رہی ہے، مذاکرات میں نیک نیتی کے ساتھ شرکت کی اور اپنی شرائط واضح طور پر پیش کی ہیں، ایران نے امریکی شرائط تسلیم نہ کرنے کا انتخاب کیا۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ کسی ڈیل کے بغیر ہم واپس امریکا جا رہے ہیں، ایرانی وفد سے جوہری ہتھیاروں سے متعلق کوئی واضح عزم نہیں سنا، ہمیں واضح اور مثبت تصدیق درکار ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ 
پریس بریفنگ کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بھی شکریہ ادا کیا، بعدازاں نائب امریکی صدر جے ڈی وینس وفد کے ہمراہ اسلام آباد سے واپس امریکا روانہ ہوگئے۔
قبل ازیں ایرانی حکومت نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ پاکستان کی ثالثی میں ایران امریکا مذاکرات 14 گھنٹے بعد مکمل ہوگئے، فریقین کے تکنیکی ماہرین اس وقت تحریری مسودوں کا تبادلہ کر رہے ہیں، بعض اختلافات رہ گئے ہیں اس کے باوجود مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
ایران نے مذاکرات آج بھی جاری رکھنےکا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی تجویز اور مذاکراتی ٹیموں کے اتفاق کرنے پر ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات وقفے کے بعد اتوار کو بھی جاری رہیں گے۔
تہران: (ما نیٹرنگ ڈیسک ) ایرانی وفد کے سربراہ سپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کی منطق اور اصولوں کو سمجھ لیا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ وہ فیصلہ کریں ہمارا اعتماد حاصل کر سکتے ہیں یا نہیں؟
ایرانی سپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف نے ایکس پر لکھا ہے کہ ایرانی وفد میں میرے ساتھیوں نے مستقبل کی جانب دیکھتے ہوئے تجاویز پیش کیں، مخالف فریق اس مرحلے میں ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) April 12, 2026
انہوں نے کہا کہ مذاکرات سے قبل اس بات پر زور دیا کہ ہمارے پاس ضروری حسنِ نیت اور ارادہ موجود ہے، لیکن گزشتہ دو جنگوں کے تجربات کی وجہ سے ہمیں مخالف فریق پر اعتماد نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم ہر محاذ کو، فوجی جدوجہد کے ساتھ ساتھ، اقتدار کی سفارت کاری کا ایک اور ذریعہ سمجھتے ہیں تاکہ ایرانی قوم کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے، اور ہم ایران کے قومی دفاع کے چالیس دنوں کی کامیابیوں کو مستحکم کرنے کی کوششوں میں ایک لمحے کے لیے بھی کمی نہیں آنے دیں گے۔
محمد باقر قالیباف نے کہا کہ میں اپنے دوست اور برادر ملک پاکستان کا بھی شکر گزار ہوں جس نے ان مذاکرات کے عمل کو آسان بنانے میں کردار ادا کیا، اور میں پاکستان کے عوام کو سلام پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ایران 9 کروڑ افراد پر مشتمل ایک قوم ہے، میں ایران کے تمام بہادر عوام کا شکر گزار ہوں جنہوں نے رہبرِ اعلیٰ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل کر اپنے بچوں کی حمایت کی اور ہمیں اپنی دعاؤں کے ساتھ روانہ کیا، اس پر میں ان کا ممنون ہوں، اور ان 21 گھنٹوں پر مشتمل سخت مذاکرات میں شریک اپنے ساتھیوں سے کہتا ہوں: شاباش، اللہ آپ کو قوت دے۔
انہوں نے ایکس پر آخر میں لکھا کہ زندہ باد اور ہمیشہ قائم رہے ہمارا پیارا ایران!

اسلام آباد ( ما نیٹرنگ ڈیسک ) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جامع اور تعمیری مذاکرات ہوئے، امید ہے دونوں فریق بات چیت کا عمل اور جنگ بندی جاری رکھیں گے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ ضروری ہے دونوں ملک جنگ بندی جاری رکھنے کے عزم پر قائم رہیں، مذاکراتی عمل میں شریک ایران اور امریکا کے وفود کا شکر گزار ہوں، پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان مذاکراتی عمل میں سہولت کاری کا کردار جاری رکھے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ امریکی وفد نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں پاکستان آیا، سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد نے مذاکرات میں شرکت کی، دونوں فریقوں کے درمیان جامع اور تعمیری مذاکرات کے متعدد دور ہوئے، میں نے بطور نائب وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے مذاکراتی عمل میں معاونت کی۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کی جانب سے پاکستان کے مثبت کردار کو تسلیم کیے جانے پر ان کے مشکور ہیں، امید ہے کہ امریکہ اور ایران امن کے لیے بات چیت کا عمل جاری رکھیں گے۔
دوسری طرف پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکا اور ایران جنگ بندی کے عزم پر قائم رہیں گے، دونوں ملک خطے اور دنیا میں پائیدار امن اور خوشحالی کےلیے مثبت سوچ سے آگے بڑھیں گے۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کی جانب سے پاکستان کے مثبت کردار کو تسلیم کیے جانے پر ان کے مشکور ہیں، امید ہے کہ امریکہ اور ایران امن کے لیے بات چیت کا عمل جاری رکھیں گے، پاکستان مذاکراتی عمل میں سہولت کاری کا کردار جاری رکھے گا۔
ایک نشست میں معاہدے کی توقع نہیں کرنی چاہئے، متعدد نکات پر اتفاق ہوا: ایران

اسلام آباد: (ما نیٹرنگ ڈیسک ) ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات کی کامیابی کا دار و مدار امریکا کی جانب سے سنجیدگی اور نیک نیتی پر ہے، ایک ہی نشست میں کسی معاہدے تک پہنچنے کی توقع نہیں کی جانی چاہئے۔
ایکس پر جاری پیغام میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ کسی کو بھی اتنی جلدی معاہدے کی توقع نہیں تھی، ایک اور نکتہ مسائل اور حالات کی پیچیدگی تھی، کچھ نئے موضوعات بھی ان مذاکرات میں شامل کیے گئے، ہم سفارتی محاذ پر اپنے حقوق اور مفادات کے حصول کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دن اسلام آباد میں ایران کے وفد کیلئے مصروف اور طویل رہا، صبح سے پاکستان کی نیک نیتی پر مبنی کوششوں اور ثالثی کے تحت شروع ہونے والے سخت مذاکرات اب تک بغیر کسی تعطل کے جاری ہیں، اس دوران فریقین کے درمیان متعدد پیغامات اور تحریری مسودوں کا تبادلہ ہوا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز، جوہری معاملات، جنگی نقصانات کے ازالے، پابندیوں کا خاتمہ اور خطے میں جنگ کے مکمل خاتمے پر بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں متعدد نکات پر اتفاق ہوا ہے تاہم دو، تین اہم معاملات پر اخلتاف رائے کے باعث جامع معاہدہ طے نہیں پا سکا، ایران، پاکستان اور خطے کے دیگر دوستوں کے درمیان رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا، سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی، یہ قومی مفادات کے تحفظ کا ایک ذریعہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک ہی نشست میں مذاکرات کی کامیابی کی توقع نہیں کی جانی چاہئے، اس سفارتی عمل کی کامیابی کا دار و مدار مخالف فریق کی سنجیدگی، نیک نیتی اور ایران کے جائز حقوق اور مفادات کو تسلیم کرنے پر ہے۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ہم مذاکرات کی میزبانی اور اس عمل کو آگے بڑھانے میں نیک نیتی پر مبنی کوششوں پر پاکستان کی حکومت اور اس کے گرم جوش اور باوقار عوام کے شکر گزار ہیں۔






