دفاعی معاہدہ،پاکستانی لڑاکا جیٹ، معاون طیارے اور فوجی دستہ ریاض پہنچ گیا، سعودی وزارت دفاع
کراچی (نیوز ڈیسک) پاکستان نے دفاعی معاہدے کے تحت اپنے لڑاکا جیٹ اور معاون طیارے سعودی عرب بھیج دیئے ،سعودی عرب کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ پاکستان کا ایک فوجی دستہ دو طرفہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تحت کنگ عبدالعزیز ائیر بیس پہنچ گیا ہے،ان کے مطابق یہ پاکستانی دستہ پاک فضائیہ کے لڑاکا اور معاون طیاروں پر مشتمل ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کی افواج کے درمیان فوجی تعاون کو مضبوط بنانا، عملی تیاری کی سطح کو بلند کرنا اور علاقائی و عالمی سطح پر امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔سعودی اخبار العربیہ کا کہنا ہے کہ یہ عسکری تعاون دونوں ممالک کی جانب سے آپریشنل تیاریوں کی سطح کو بڑھانے اور مشقوں کے نفاذ کے ذریعے مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو ترقی دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔العربیہ نیوز کے مطابق یہ عسکری تعاون دونوں ممالک کی جانب سے آپریشنل تیاریوں کی سطح کو بڑھانے اور تجربات کے تبادلے، مشترکہ پروگراموں اور مشقوں کے نفاذ کے ذریعے مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو ترقی دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔وزارت دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ یہ قدم علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر امن و استحکام کی حمایت میں معاون ثابت ہوگا، ساتھ ہی یہ مملکت اور پاکستان کے درمیان گہرے تزویراتی تعلقات اور دفاعی و عسکری شعبوں میں جاری تعاون کا عکاس ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستانی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ طیارے "کسی پر حملہ کرنے کے لیے وہاں موجود نہیں ہونگے”۔نیوز ایجنسی کے مطابق پاکستان نے دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کو جنگی طیارے اور دیگر فوجی دستے بھیجے ہیں اور یہ اقدام حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب کی توانائی تنصیبات پر حملوں کے بعد کیا گیا جبکہ دونوں ممالک نے ستمبر 2025 میں باہمی دفاعی معاہدہ کیا تھا جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔بلوم برگ کے مطابق مشرق وسطیٰ جنگ کے بعد سے دونوں ممالک اس معاہدے کے حوالے سے متعدد ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ خیال رہے کہ ستمبر 2025 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دارالحکومت ریاض میں باہمی دفاعی معاہدہ طے پایا تھا۔معاہدے میں کہا گیا تھا کہ کسی بھی ایک ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین "اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے” (SMDA) معاہدے پر دستخط کئےتھے۔معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع و تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔





