صوبے میں 21 سے زائد آپریشنز ہو چکے ہیں، اب ایک مرتبہ پھر آپریشن کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ نئے آپریشن سے پہلے قوم کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
انہوں نے کہا کہ صوبے میں 21 سے زائد آپریشنز ہو چکے ہیں، اب ایک مرتبہ پھر آپریشن کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ بند کمروں کے فیصلوں نے ہمارے امن کو تباہ کر دیا ہے۔ نئے آپریشن سے پہلے قوم کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ ملک کی خاطر قربانیاں دے رہے ہیں اور ایک بار پھر قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے، لیکن یہاں نیتوں میں کھوٹ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے 2 دن کے نوٹس پر ہی گھر بار چھوڑے اور آئی ڈی پیز بنے۔ آفریدی قوم میں آپریشنز سے قبل کوئی بھی بھیک نہیں مانگتا تھا لیکن جب آپریشن کے بعد ہمارے سربراہان قتل ہوئے، تو خواتین اور بچے بھیک مانگنے پر مجبورہیں۔
وزیراعلیٰ کے پی نے یہ بھی کہا کہ ایک خصوصی مائنڈ سیٹ ہے جنہیں اچھا نہیں لگتا ہمارے بچے تعلیم یافتہ ہوں۔ کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ، ہمارے بچوں کے ہاتھوں میں قلم کی جگہ بندوق ہو۔ لیکن ہمارے بچے اب بندوق نہیں اٹھائیں گے، بلکہ قلم کا استعمال کرینگے۔
ان کا کہنا تھا میری آنکھوں میں آنسو عوام کے درد کے ہیں، ڈر سےنہیں، 14 سال سے ہمارے خیبرپختونخوا کے لوگ دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا بتایا گیا تھا جس کا گھر تباہ ہوگا انہیں پورےگھر کیلئے 4 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
سہیل آفریدی نے کہا ہم نے مشکل سے خیبرپختونخوا میں دوبارہ امن قائم کیا تھا، بند کمروں کے فیصلوں نے دوبارہ ہمارا جینا اجیرن کردیا ہے، قوم کو اعتماد میں لے کر آپریشنز کریں، سچ میں دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہےتو آکر ہمارے ساتھ پالیسی بنائیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا ملک میں ہونے والے حملوں میں 80 فیصد حملے خیبرپختونخوا میں ہوئے جس کی وجہ یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کو موافق سیاسی ماحول میسر ہے۔
ترجمان پاک فوج نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی کا بنانیہ بھی کھل کر سامنے آیا، یہ لوگ ملٹری آپریشنز نہیں چاہتے لیکن وہاں آپریشنز تو ہو رہے ہیں، یہ لوگ کیا چاہتے ہیں کہ بیت اللہ محسود کو وزیراعلیٰ بنا دیں یا پھر چارسدہ کے فیصلے ہبت اللہ کریں۔




